Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار

ٹریبونل نے 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کو بھارت سے واپس آ کر ٹرائل میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی
سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار

ڈھاکہ: بنگلادیش کی سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہو گیا ہے جہاں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل۔1 نے معزول اور مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ سال جولائی کی عوامی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دے دیا ہے اور ان کے دو اعلیٰ ساتھیوں کو بھی اس جرم میں شریک ٹھہرایا ہے۔ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی ٹریبونل نے 453 صفحات پر مشتمل مفصل فیصلے کا خلاصہ پڑھ کر یہ فیصلہ سنایا جو بنگلادیش کی عدالتی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ شیخ حسینہ کے ساتھ سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس چودھری عبداللہ المامون کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اسد الزماں تاحال مفرور ہیں جبکہ مامون زیر حراست ہیں اور انہوں نے اعتراف جرم کر لیا ہے، وہ 2010 میں ٹریبونل قیام کے بعد ریاستی گواہ بننے والے پہلے ملزم بھی ہیں۔

ٹریبونل نے 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کو بھارت سے واپس آ کر ٹرائل میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی مگر انہوں نے اس حکم کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد غیابی طور پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔ استغاثہ نے عدالت سے تینوں مجرموں کے اثاثے ضبط کر کے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے جو فیصلے کے بعد زیر غور آ سکتا ہے۔ یہ مقدمہ گزشتہ سال جولائی میں عوامی احتجاج کے دوران ہونے والی پرتشدد کارروائیوں، قتل، اغوا اور تشدد کے الزامات پر مبنی تھا جس نے شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ کیا اور انہیں بھارت بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ٹریبونل کا یہ فیصلہ بنگلادیش کی عبوری حکومت کے لیے ایک بڑی عدالتی فتح ہے جو احتساب کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔

شیخ حسینہ واجد جو بنگلادیش کی طویل ترین خدمت کرنے والی وزیراعظم رہی ہیں، اب انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرم قرار پا چکی ہیں اور یہ فیصلہ ان کی سیاسی میراث پر ایک ناقابل تلافی دھبہ ہے۔ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد کریک ڈاؤن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ سابق آئی جی پی چودھری عبداللہ المامون کا ریاستی گواہ بننا کیس کو مزید مضبوط کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بیانات میں اعلیٰ سطح پر دیے گئے احکامات کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھیں۔

 شیخ حسینہ کا مجرم قرار پانا اور بنگلادیش کی سیاست پر اثرات

یہ فیصلہ بنگلادیش کی عبوری حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے جو احتساب کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے مگر شیخ حسینہ کی غیابی موجودگی اور بھارت میں پناہ سیاسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ ایک طرف تو ٹریبونل کا فیصلہ عوامی احتجاج کے شہدا کے لیے انصاف کی علامت ہے مگر دوسری طرف یہ بنگلادیش کی خارجہ پالیسی پر دباؤ ڈالے گا کیونکہ بھارت شیخ حسینہ کی حامی رہا ہے۔ مامون کا ریاستی گواہ بننا کیس کو ناقابل تردید بناتا ہے مگر اثاثوں کی ضبطی کا مطالبہ معاشی اور سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ بنگلادیش کی نئی سیاسی حقیقت کی بنیاد رکھتا ہے مگر اس کی کامیابی عبوری حکومت کی صلاحیت اور بین الاقوامی دباؤ کو برداشت کرنے پر منحصر ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک شدید تقسیم کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں احتجاج کے شرکاء اور نوجوان اسے "انصاف کی فتح” قرار دے رہے ہیں جبکہ عوامی لیگ کے حامی اسے "انتقامی کارروائی” کہہ رہے ہیں۔ کچھ صارفین بھارت کے کردار پر تنقید کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر احتجاجی نسل کی خوشی غالب ہے جو نئی صبح کی امید رکھتی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا یہ فیصلہ واقعی انصاف کی جیت ہے یا بنگلادیش کی سیاست میں ایک نئے بحران کی شروعات؟
کیا سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یا یہ قانون کی بالادستی کی فتح ہے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں