اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدیں غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی انتہا ہے اور طالبان حکام کی افغان تاجروں کو پاکستان پر انحصار ختم کرنے کی وارننگ کے جواب میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات تک تجارت اور دیگر سرگرمیوں کو روکنے کا واضح پیغام ہے جو پالیسی میں ایک سٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ ہمارے لیے تجارت اور معیشت سے زیادہ اہم اپنے لوگوں کی زندگی ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور "سیکیورٹی پہلے، تجارت بعد میں” اب اسلام آباد کا مستقل موقف ہے۔ سرحدی بندش ایک ماہ سے زائد ہو چکی ہے جس سے دونوں اطراف ہزاروں ٹرک اور کنٹینرز پھنس گئے ہیں اور گزرگاہیں صرف انسانی بنیادوں پر کھلی ہیں جو افغان مہاجرین اور پھنسے افراد کی واپسی تک محدود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے کابل کو مطلع کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی تک سرحدیں نہیں کھلیں گی اور مزید مذاکرات ممکن نہیں۔ یہ فیصلہ دوطرفہ کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے آیا جب طالبان حکام نے افغان تاجروں کو دیگر ملکوں کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی جو پاکستان کی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی۔ ایک سرکاری افسر نے کہا کہ پاکستان اپنے موقف سے ہٹنے کے موڈ میں نہیں اور یہ سرحدی بندش معمول کا انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک پالیسی شفٹ ہے جو قومی سلامتی کو ترجیح دیتی ہے۔ سرحدوں کی بندش سے چمن، طورخم اور دیگر گزرگاہوں پر ہزاروں ٹرک کھڑے ہیں جو تازہ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیا لے کر جا رہے تھے اور اب یہ سامان خراب ہو رہا ہے مگر حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ گزرگاہیں صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھلی ہیں جہاں افغان مہاجرین اور سرحد پر پھنسے افراد کو واپس جانے کی اجازت ہے جو ایک محدود اور عارضی انتظام ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی کی ایک نئی جہت ہے جہاں تجارت کو سیکیورٹی کے تابع کر دیا گیا ہے اور طالبان قیادت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے تک کوئی نرم گوشہ نہیں دکھایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام افغان طالبان کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور کرے گا اور پاکستان کی سرزمین پر حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ ہے۔ سرحدی بندش سے دونوں ممالک کی معیشت متاثر ہو رہی ہے مگر اسلام آباد کا موقف ہے کہ شہریوں کی جانوں کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور تجارت دوسرے نمبر پر آتی ہے۔
پاک افغان سرحدی بندش اور قومی سلامتی کی پالیسی پر اثرات
یہ فیصلہ پاکستان کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے جو طالبان کو دہشت گردی کے خاتمے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے مگر سرحدی بندش سے معاشی نقصانات بھی ہو رہے ہیں جو دونوں ممالک کی تجارت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو "سیکیورٹی پہلے” کا موقف قومی سلامتی کو مضبوط کرتا ہے مگر دوسری طرف ہزاروں ٹرکوں کی بندش اور انسانی مسائل سیاسی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ طالبان کی تاجر وارننگ کا جواب یہ سخت اقدام ہے جو مذاکرات کی راہ بند کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ پالیسی ٹی ٹی پی کے خاتمے میں کامیاب ہو سکتی ہے مگر اس کی کامیابی طالبان کی کارروائی اور بین الاقوامی دباؤ پر منحصر ہے ورنہ یہ کشیدگی کو طول دے سکتی ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک شدید حمایت کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ سیکیورٹی کو ترجیح دینے کی تعریف کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ جانوں کی حفاظت سب سے اہم ہے جبکہ کچھ صارفین معاشی نقصان پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں اور جلد حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر قومی سلامتی کی حمایت غالب ہے جو حکومت کے موقف کو مضبوط کر رہی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا پاکستان کا یہ فیصلہ درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے؟
کیا سرحدی بندش سے افغان حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے گا؟
یا اس سے دونوں ممالک کی معیشت مزید متاثر ہوگی؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
