راولپنڈی: پاکستانی کرکٹ کے شہزادے بابر اعظم نے فارم کی طویل ترین تاریکی کے بعد راولپنڈی کی روشنیوں میں ایک یادگار واپسی کی ہے جہاں ان کی ناقابل شکست 102 رنز کی اننگز نے نہ صرف سری لنکا کو دوسرے ون ڈے میں 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں فیصلہ کن برتری دلا دی بلکہ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریوں کا سعید انور کا تاریخی ریکارڈ بھی برابر کر لیا۔ 289 رنز کے تعاقب میں قومی ٹیم کے اوپنرز فخر زمان اور صائم ایوب نے 77 رنز کا پراعتماد آغاز فراہم کیا، پھر فخر اور بابر کی 100 رنز کی شراکت نے جیت کی بنیاد رکھی، اور آخر میں بابر اور محمد رضوان کی نصف سنچریوں نے میچ کو ایک طرفہ بنا دیا۔ یہ بابر کی ون ڈے کیریئر کی 20ویں سنچری تھی جو 30 اگست 2023 کو نیپال کے خلاف 151 رنز کے بعد دو سال سے زائد عرصے کی انتظار ختم کرتی ہے اور انہیں سعید انور کے ساتھ مشترکہ طور پر پاکستان کا سب سے بڑا سنچری میکر بنا دیتی ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 288 رنز بنائے مگر پاکستانی بولرز نے آخری اوورز میں شاندار کم بیک کیا۔ جواب میں صائم ایوب نے 33 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، فخر زمان نے 78 رنز کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی، اور پھر بابر اعظم نے 119 گیندوں پر 102 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر جیت کو یقینی بنایا جبکہ محمد رضوان نے نصف سنچری سجائی۔ بابر نے 139 میچوں کی 136 اننگز میں 53.89 کی شاندار اوسط سے 6,467 رنز بنا لیے ہیں جن میں 37 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ سعید انور نے بھی 20 سنچریاں بنائی تھیں، محمد یوسف 15 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ فخر زمان اور محمد حفیظ 11،11 سنچریوں کے ساتھ تیسرے مقام پر ہیں۔ انضمام الحق اور اعجاز احمد نے 10،10 سنچریاں بنائی تھیں۔ ون ڈے میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ انضمام الحق کے پاس ہے، پھر محمد یوسف، سعید انور، شاہد آفریدی اور شعیب ملک کا نمبر آتا ہے۔
یہ میچ سیریز کا دوسرا ون ڈے تھا جہاں پاکستان نے پہلے میچ میں بھی سنسنی خیز مقابلے کے بعد 6 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی اور اب 2-0 کی برتری کے ساتھ سیریز اپنے نام کر چکی ہے۔ بابر کی یہ سنچری نہ صرف ان کی فارم کی واپسی کی علامت ہے بلکہ پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو بھی بلند کرتی ہے جو حالیہ دنوں میں دباؤ کا شکار رہی تھی۔ راولپنڈی کی پچ جو بیٹنگ کے لیے موزوں تھی، اس پر بابر کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے ثابت کیا کہ وہ اب بھی پاکستان کے سب سے بڑے بیٹسمین ہیں اور سعید انور جیسے لیجنڈ کے ریکارڈ کو چھونے والے واحد موجودہ کھلاڑی ہیں۔
بابر کی 20ویں سنچری اور پاکستانی کرکٹ کی نئی امید
یہ سنچری بابر اعظم کی کیریئر کی ایک اہم سنگ میل ہے جو فارم کی طویل ناکامی کے بعد ان کی ذہنی مضبوطی اور کلاس کی عکاسی کرتی ہے اور سعید انور کا ریکارڈ برابر کر کے انہیں پاکستانی کرکٹ کا ابدی ستارہ بنا دیتی ہے۔ ایک طرف تو فخر اور رضوان کی شراکتیں ٹیم کی گہرائی دکھاتی ہیں مگر دوسری طرف بابر کی واپسی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرتی ہے جو ورلڈ کپ 2027 کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ سری لنکا کے خلاف سیریز جیت ٹیم کے مورال کو بلند کرے گی مگر بابر کو مسلسل کارکردگی دینی ہوگی۔ مجموعی طور پر یہ میچ پاکستانی کرکٹ کی نئی امید کی کرن ہے جو بابر کی قیادت میں ایک نئی کہانی لکھ سکتی ہے مگر اس کی کامیابی ٹیم ورک اور مسلسل کارکردگی پر منحصر ہوگی۔
عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک جشن کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں فینز بابر کو "کنگ” اور "لیجنڈ” کہہ رہے ہیں اور سعید انور کے ریکارڈ کی تعریف کر رہے ہیں جبکہ کچھ صارفین فارم کی واپسی پر خوشی اور سیریز جیت کی مبارکباد دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر جوش غالب ہے جو پاکستانی کرکٹ کی طرف راغب کر رہا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا بابراعظم کی فارم میں واپسی پاکستان کے لیے نیا آغاز ثابت ہو سکتی ہے؟
کیا وہ آنے والے ورلڈ کپ میں ایک بار پھر اپنی کلاس دکھانے میں کامیاب ہوں گے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
