لندن: پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک متنازع باب پر برطانوی جریدے "دی اکانومسٹ” نے ایک تفصیلی اور حیران کن رپورٹ شائع کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ اہم سرکاری فیصلوں، تقرریوں اور روزمرہ حکومتی معاملات پر بھی اثر انداز ہوتی رہیں اور ان کے "روحانی اثرات” کی وجہ سے عمران خان اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں بری طرح ناکام رہے۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کی یہ رپورٹ عمران خان کے قریبی حلقوں، مبصرین اور حساس اداروں کے ذرائع پر مبنی ہے جو بشریٰ بی بی کو ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کرتی ہے جو حکومتی فیصلوں میں "روحانی مشاورت” کا پہلو شامل کرتی تھیں اور حساس معلومات کو اپنی بصیرت کا حصہ بنا کر پیش کرتی تھیں جس نے عمران خان کی فیصلہ سازی کو متاثر کیا اور ان کی حکومت کی کارکردگی پر گہرے سوالات اٹھائے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی تیسری شادی عمران خان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا ایک اہم موڑ تھی جس نے حکومتی معاملات میں غیر معمولی روحانی اثر و رسوخ کو جنم دیا اور قریبی حلقوں کے مطابق وہ اہم سرکاری تقرریوں اور پالیسی فیصلوں میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ مبصرین کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حساس ادارے کے کچھ افراد ایسی خفیہ معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے جنہیں وہ عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل شدہ باتیں بنا کر پیش کرتی تھیں جو فیصلوں میں ایک غیر سائنسی اور پراسرار پہلو شامل کرتی تھیں۔ یہ عوامل عمران خان کی اصلاحاتی ویژن کو کمزور کرتے گئے جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے وعدہ کیے تھے اور حکومت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بنے۔ رپورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بشریٰ بی بی کے کردار نے حکومتی حلقوں میں شکایات کو ہوا دی اور فیصلہ سازی میں شفافیت کی کمی کو اجاگر کیا جو عمران خان کی سیاسی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
"دی اکانومسٹ” کی یہ رپورٹ عمران خان کی 2018 سے 2022 تک کی حکومت کے اندرونی حالات پر روشنی ڈالتی ہے جہاں بشریٰ بی بی کو ایک "پردہ نشین لیکن موثر” شخصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو حکومتی معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کرتی تھیں مگر ان کے مشوروں اور "روحانی رہنمائی” کا اثر واضح تھا۔ رپورٹ میں سابق وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی تجاویز کو عمران خان بہت اہمیت دیتے تھے جو بعض اوقات سرکاری پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث بنتی تھیں۔ یہ انکشافات عمران خان کی حکومت کی ناکامیوں کو ایک نئی جہت دیتے ہیں جہاں اصلاحات، احتساب اور شفافیت کے دعووں کے باوجود "روحانی اثر و رسوخ” کی بات حکومتی فیصلوں کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔
بشریٰ بی بی کا کردار اور عمران خان کی حکومت کی ناکامی پر اثرات
یہ رپورٹ عمران خان کی حکومت کی اندرونی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے جہاں بشریٰ بی بی کا "روحانی اثر” اصلاحاتی ایجنڈے کی راہ میں حائل ہوا اور فیصلہ سازی کو غیر سائنسی بنا دیا جو ایک جمہوری حکومت کے لیے خطرناک ہے۔ ایک طرف تو حساس معلومات کی لیک اور روحانی بصیرت کا دعویٰ شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے مگر دوسری طرف یہ عمران خان کی ذاتی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے جو اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئے۔ رپورٹ کی صداقت قریبی حلقوں اور مبصرین پر مبنی ہے مگر یہ سیاسی مخالفین کے لیے ہتھیار بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ انکشاف عمران خان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گا مگر اس کی گہرائی پاکستانی سیاست کے مستقبل پر اثرات مرتب کرے گی جو احتساب اور شفافیت کی ضرورت کو واضح کرتی ہے_
عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک شدید طوفان کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں پی ٹی آئی حامی اسے "پروپیگنڈا” اور "سازش” قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مخالفین اسے "حقیقت” کہہ رہے ہیں اور عمران خان کی ناکامی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ صارفین روحانی اثر پر مذاق کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر بحث حکومت کی ناکامی اور خاندانی اثر و رسوخ پر ہے جو سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا واقعی عمران خان کے فیصلوں پر روحانی اثرات غالب تھے؟
یا یہ رپورٹ محض سیاسی تاثر پھیلانے کی ایک کوشش ہے؟
کیا مذہبی یا روحانی مشاورت کو حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ بنانا درست ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
