Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

وولویرین مینڈک،وہ حیرت انگیز مخلوق جو اپنی ہڈیوں کو توڑ کر پنجے نکالتی ہے

جب اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو یہ مینڈک اپنے پچھلے پیروں کی اندرونی ہڈیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں توڑ دیتا ہے
وولویرین مینڈک،وہ حیرت انگیز مخلوق جو اپنی ہڈیوں کو توڑ کر پنجے نکالتی ہے

افریقہ کے گھنے اور نم بارانی جنگلات میں ایک ایسی مخلوق پائی جاتی ہے جو سائنسدانوں کے لیے ہمیشہ حیرت کا باعث بنی رہی ہے یہ کوئی عام مینڈک نہیں بلکہ دنیا کے ان چند جانداروں میں سے ایک ہے جو اپنے جسم کو ہتھیار میں بدل لیتے ہیں اس عجیب الخلقت جانور کو “وولویرین مینڈک” کہا جاتا ہے جو فلم ایکس مین کے مشہور کردار وولویرین سے مشابہت رکھتا ہے

اس کا سائنسی نام Trichobatrachus robustus ہے اور اسے عام طور پر “بالوں والا مینڈک” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ نر مینڈک کے جسم پر باریک بال نما ریشے پائے جاتے ہیں جو سانس لینے میں مدد دیتے ہیں یہ منفرد مخلوق وسطی افریقہ کے جنگلات میں رہتی ہے خاص طور پر کیمرون کانگو نائجیریا اور ایکویٹوریل گینی کے علاقوں میں یہ مینڈک عام نظر آنے والی مخلوق نہیں بلکہ ایک ایسا جاندار ہے جو خطرہ محسوس ہونے پر اپنی ہڈیوں کو خود توڑ کر انہیں پنجوں کی شکل دے دیتا ہے

جب اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو یہ مینڈک اپنے پچھلے پیروں کی اندرونی ہڈیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں توڑ دیتا ہے ان ہڈیوں کے نوکیلے سِرے جلد کو پھاڑ کر باہر آ جاتے ہیں اور پنجوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ان پنجوں کے ذریعے مینڈک خود کا دفاع کرتا ہے یا دشمن پر حملہ آور ہوتا ہے گویا وہ لمحوں میں ایک معصوم جانور سے جنگجو میں بدل جاتا ہے

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پنجے مستقل نہیں رہتے جیسے ہی خطرہ ختم ہوتا ہے مینڈک کی جلد خود کو بھر لیتی ہے زخم مندمل ہو جاتے ہیں اور ہڈیاں دوبارہ جسم کے اندر اپنی جگہ لے لیتی ہیں یعنی یہ جاندار نہ صرف اپنی ہڈیوں کو توڑتا ہے بلکہ قدرتی طور پر انہیں دوبارہ جوڑ بھی لیتا ہے

ماہرین حیوانات کے مطابق یہ عمل فطری طور پر دفاعی میکانزم ہے جو اسے شکاریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے سائنسی طور پر دیکھا جائے تو ایسا عمل کسی بھی دوسرے جانور میں نہیں پایا جاتا جو اپنی ہڈیوں کو جان بوجھ کر توڑ کر انہیں ہتھیار میں تبدیل کرے اس لحاظ سے وولویرین مینڈک فطرت کا ایک نایاب اور حیرت انگیز شاہکار ہے

افریقی مقامی لوگ اس مینڈک کو ایک خاص علامت سمجھتے ہیں ان کے نزدیک یہ قدرت کی طاقت اور بقا کی علامت ہے کچھ دیہاتوں میں اسے بدشگونی بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا ظہور اکثر بارش یا طوفان سے پہلے ہوتا ہے مقامی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ مخلوق جنگلات کے ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ حشرات اور چھوٹے جانداروں کو کنٹرول میں رکھتی ہے

اگر اس مخلوق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے جسمانی ڈھانچے میں فطرت کی ایک انوکھی صناعی نظر آتی ہے ہڈیوں کا ایسا نظام جو بوقت خطرہ فوراً ٹوٹ کر ہتھیار بن جائے اور پھر خود بخود بحال ہو جائے سائنس کے لیے اب بھی ایک معمہ ہے سائنسدان اس منفرد خصوصیت پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ اس کی ہڈیوں اور جلد کی ساخت اتنی لچکدار کیوں ہے اور یہ زخم اتنی تیزی سے کیسے بھر جاتے ہیں

وولویرین مینڈک دراصل اس بات کی علامت ہے کہ فطرت کے ہر گوشے میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہیں انسان جسے کمزور سمجھتا ہے وہ بھی وقت آنے پر حیران کن طاقت دکھا سکتا ہے یہ مینڈک ثابت کرتا ہے کہ بقا کی جنگ میں ہر جاندار کے پاس اپنی منفرد حکمت عملی ہوتی ہے

عوامی رائے

عوام کی بڑی تعداد اس مخلوق کو دیکھ کر حیرت زدہ ہے بہت سے لوگ اسے قدرت کا کرشمہ قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ افراد اسے خوفناک بھی سمجھتے ہیں سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مخلوق انسان کے سامنے آ جائے تو یہ کسی فلمی منظر سے کم نہیں لگے گی

یہ قدرت کی تخلیق ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں موجود ہر جاندار اپنی نوعیت میں منفرد اور قابلِ احترام ہے

اب آپ بتائیں اس پر آپ کی کیا رائے ہے کمنٹ میں ضرور لکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں