Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

قازقستان کی اسرائیل سے تاریخی مفاہمت، ابراہیمی معاہدے میں باضابطہ شمولیت ٹرمپ کا اعلان

ہم جلد ہی مزید ممالک کو بھی اس تاریخی معاہدے میں شامل ہوتے دیکھیں گے۔ٹرمپ
قازقستان کی اسرائیل سے تاریخی مفاہمت، ابراہیمی معاہدے میں باضابطہ شمولیت ٹرمپ کا اعلان

واشنگٹن سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ قازقستان نے باضابطہ طور پر معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شمولیت اختیار کر لی ہے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران کیا گیا جس میں وسط ایشیائی ممالک کے رہنما شریک تھے اور قازقستان کے صدر بھی اس موقع پر موجود تھے

صدر ٹرمپ نے قازقستان کی شمولیت کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ قدم عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے” انہوں نے قازقستان کو “شاندار ملک” اور “باصلاحیت قیادت رکھنے والی قوم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف خطے میں تعاون کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں ایک نئی جہت پیدا کرے گا

ٹرمپ نے کہا کہ “ہم جلد ہی مزید ممالک کو بھی اس تاریخی معاہدے میں شامل ہوتے دیکھیں گے اور یہ عمل مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد بنے گا” انہوں نے اس موقع پر معاہدہ ابراہیمی کو “امن کے پُل” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مختلف مذاہب اور قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ بن رہا ہے

دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بھی ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایک اور ملک اس معاہدے میں شامل ہونے والا ہے جس کے تحت اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لائے جا رہے ہیں ان کے اس بیان کے بعد قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں اور اب قازقستان کی شمولیت کے ساتھ وہ بات درست ثابت ہو گئی ہے

یاد رہے کہ معاہدہ ابراہیمی 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں طے پایا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات بحرین مراکش اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اس معاہدے کو عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی نئی راہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کر کے ترقی اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا

قازقستان کی شمولیت کو اس معاہدے کی توسیع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ پہلا وسط ایشیائی ملک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ طور پر تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ کیا ہے ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف قازقستان کے سفارتی تعلقات کو وسعت دے گا بلکہ اسے مغرب اور مشرق کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت بھی دلائے گا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قازقستان کا یہ فیصلہ اس کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے کیونکہ اس سے قبل ملک نے ہمیشہ متوازن سفارتی مؤقف برقرار رکھا تھا اب اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تعلقات استوار کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قازقستان عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو زیادہ مؤثر بنانا چاہتا ہے

قازقستان کا معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرنا دراصل وسط ایشیا میں ایک نئے سفارتی دور کی شروعات ہے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب خطے کے ممالک بھی عالمی سطح پر اپنی سفارتی و معاشی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے گریز نہیں کر رہے یہ فیصلہ بلاشبہ خطے کے توازن میں تبدیلی لا سکتا ہے اور مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی راستہ ہموار کر سکتا ہے تاہم اس کے اثرات پر مسلم دنیا میں مختلف آراء پائی جا رہی ہیں

عوامی رائے
عوامی سطح پر اس فیصلے نے ملی جلی آراء کو جنم دیا ہے کچھ لوگ اسے ترقی اور امن کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں ان کے مطابق دنیا کو دشمنیوں سے نکل کر معاشی استحکام اور باہمی تعاون کی راہ اپنانی چاہیے جبکہ کچھ حلقے اس فیصلے کو فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی تصور کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسے معاہدے اسرائیل کو مزید طاقتور بناتے ہیں

یہ اعلان جہاں ایک سفارتی پیش رفت ہے وہیں ایک سیاسی بحث کا نیا دروازہ بھی کھول رہا ہے کیونکہ دنیا اب یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ آنے والے دنوں میں کون سے ممالک اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوتے ہیں

اب آپ بتائیں اس پر آپ کی کیا رائے ہے کمنٹ میں ضرور لکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں