لاہور: پاکستان کی اداروں میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کی لہر نے ایک بار پھر سرخیوں میں جگہ بنا لی جہاں این سی سی آئی اے کے ایک سینئر افسر پر مشہور بزنس مین ڈکی بھائی سمیت دیگر سے رشوت وصول کرنے کا سنگین الزام لگا ہے اور لاہور کی ضلعی عدالت نے اس کی تفتیش کو مزید گہرائی دینے کا حکم دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر لے لینے کی اجازت دیتے ہوئے باقی تمام ملزمان کو جوڈیشل حراست میں بھیج دیا جو اس کیس کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے اور اداروں کی اندرونی صفائی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ یہ سماعت نہ صرف قانونی دلائل کی ایک دلچسپ جھلک تھی بلکہ کرپشن کے خلاف عدالتی عزم کی بھی ایک زندہ مثال بن گئی جہاں عدالت نے واضح کیا کہ بدعنوانی کی جڑیں کس قدر گہری ہو سکتی ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض سمیت این سی سی آئی اے کے سات افسران کو فنانشل کرائم کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا اور ان کا تین روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر لاہور ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں تفتیشی افسران نے ان سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ملزمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ رشوت کی منتقلی کے شواہد اور مالی لین دین کی تفصیلات کو مکمل طور پر کھنگالا جا سکے مگر ملزمان کی قانونی ٹیم نے اس کی سختی سے مخالفت کی اور بغیر ٹھوس ثبوتوں کے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا۔ یہ سماعت ایک ایسے کیس کا حصہ ہے جہاں الزامات مالی بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال سے جڑے ہوئے ہیں اور جو پاکستان کی مالیاتی نگرانی کے اداروں کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
ملزمان کی جانب سے ایڈوکیٹ علی اشفاق نے دلائل پیش کیے جنہوں نے ایف آئی اے کی تحقیقات پر کئی سوالات اٹھائے اور کہا کہ شواہد کے فقدان میں افسران کو مجرم ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے خاص طور پر جب ڈکی بھائی جیسے ملزمان کو پہلے ہی چالان کے بعد بری کر دیا گیا ہو۔ انہوں نے عدالت سے استفسار کیا کہ فنانشل کرائم کے نام پر کون سے ٹھوس شواہد پیش کیے گئے ہیں جو ان افسران کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور یہ بھی پوچھا کہ رشوت دینے والوں کو کیوں ابھی تک ہاتھ نہیں لگایا گیا جبکہ رشوت لینے والوں کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اشفاق کا مؤقف تھا کہ رشوت کی لین دین میں دونوں فریق برابر کے ذمہ دار ہیں مگر موجودہ صورتحال میں صرف وصول کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو عدالتی انصاف کی بنیادی روح کے خلاف ہے اور اسے ایک یک طرفہ مہم قرار دیا۔
وکیل نے مزید دلیل دی کہ مدعیہ عروب جتوئی کی جانب سے کوئی واضح بیان موجود نہیں ہے جس میں بتایا جائے کہ شعیب ریاض نے رشوت کیسے وصول کی یا ملاقات کی تفصیلات کیا تھیں اور نہ ہی پیسوں کی مقدار یا نوٹوں کی تعداد کا ذکر ہے جو الزام کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ اس بحث نے عدالت کا ماحول گرم کر دیا جہاں تفتیشی افسران نے جوابی دلائل دیے مگر عدالت نے انہیں شواہد کی بنیاد پر محدود کر دیا خاص طور پر سلمان نامی ملزم کے ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پوچھا کہ اس سے مزید کیا معلومات حاصل کی جائیں گی جب کوئی ٹھوس ثبوت اس کی فرنٹ مین ہونے کے بارے میں موجود نہ ہو۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر زین نے عدالت کو تسلیم کیا کہ سلمان کے خلاف کوئی براہ راست ثبوت نہیں ملا جو اس فیصلے کی بنیاد بنا۔
عدالت نے عروب جتوئی سے براہ راست مکالمہ کیا اور پوچھا کہ ان کے پاس کوئی اضافی بیان دینا ہے تو وہ پیش کریں مگر عروب نے سر ہلا کر انکار کر دیا جو کیس کی مزید پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ ایف آئی اے نے انہیں ذاتی حیثیت میں مدعیہ بنایا ہے اور بیرسٹر امرت احمد شیخ نے ان کی جانب سے دلائل دیے تاکہ ان کی گرفتاری کو چیلنج کیا جائے۔ مجسٹریٹ نعیم وٹو نے سماعت کے دوران اپنا سخت گیر لہجہ برقرار رکھا اور کہا کہ کرپشن کرنے والوں کا پیچھا دو نسلوں تک ہونا چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف ذاتی گناہ ہے بلکہ قومی وسائل کی لوٹ مار کا سبب بنتا ہے اور امیر ہونا کوئی جرم نہیں مگر بدعنوانی سے حاصل کردہ دولت ایک سنگین خطا ہے۔ انہوں نے تفتیشی ٹیم سے کہا کہ موجودہ رفتار سے چودہ دن تو دور کی بات چودہ ماہ بھی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ناکافی ہیں جبکہ پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ اس بڑے گھپلوں کی کھوج میں چودہ ماہ بھی کم پڑ جائیں گے جو کیس کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد شعیب ریاض کو دو روزہ ریمانڈ پر لے جایا جائے گا جبکہ دیگر ملزمان جوڈیشل قید میں منتقل ہو جائیں گے جو ایف آئی اے کو مزید شواہد اکٹھا کرنے کا موقع دے گا اور اس کیس کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ سماعت نہ صرف ملزمان کی قانونی حکمت عملی کی جھلک تھی بلکہ عدالتی نظام کی کارکردگی کو بھی سراہنی بناتی ہے جہاں ہر استدعا پر تفصیلی بحث ہوئی اور فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کیس میں کرپشن الزامات
یہ کیس پاکستان کے مالیاتی نگرانی کے اداروں میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کی ایک گہری تصویر کشی کرتا ہے جہاں این سی سی آئی اے جیسا ادارہ جو خود کرپشن کی روک تھام کے لیے قائم ہے اس کے افسران پر رشوت کے الزامات لگنا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ قومی اعتماد کو کمزور کرنے والا ہے۔ ایک طرف تو عدالت کا ریمانڈ منظور کرنا تفتیش کو تقویت دیتا ہے مگر دوسری طرف وکیل کی دلیل کہ رشوت دینے والوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا نظام میں مساوات ہے یا صرف چھوٹے افسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مجسٹریٹ کا بیان کہ کرپشن دو نسلوں تک کا پیچھا ہونا چاہیے ایک مثبت اشارہ ہے جو مستقبل کی پالیسیوں کو متاثر کر سکتا ہے مگر تفتیش کی طویل مدت کی نشاندہی یہ بھی بتاتی ہے کہ اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے کیسز جلد حل ہوں اور وسائل کی بے جا لوٹ روکی جائے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر غم و غصے سے بھری ہوئی ہے جہاں لوگ اسے اداروں کی ناکامی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کرپشن کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ چھوٹے افسران کو سزا دے کر بڑے مافیا بچ جاتے ہیں۔ کچھ صارفین وکیل کی بات کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ رشوت دینے والے ڈکی بھائی جیسے لوگوں کو بھی گرفتار کیا جائے جبکہ دیگر عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ کیس کرپشن کے خلاف ایک نئی مہم کا آغاز ثابت ہوگا۔ مجموعی طور پر عوام میں مایوسی ہے مگر یہ بھی خواہش ہے کہ ایسے اقدامات سے نظام کی صفائی ہو۔
