راولپنڈی: پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز کا آغاز ایک دلچسپ موڑ سے ہوا جہاں میزبان ٹیم نے سری لنکن کپتان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں صرف 5 وکٹوں کے نقصان پر 299 رنز کا مضبوط اسکور بورڈ پر سجا دیا جو ایک ایسا ہدف ہے کہ سری لنکا کی بلے بازی کی صلاحیتوں کی کڑی آزمائش کرے گا اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کو ایک سنسنی خیز تعاقب کا منظر پیش کرے گا۔ یہ اننگز نہ صرف پاکستان کی مڈل آرڈر کی مضبوطی کی جھلک دکھاتی ہے بلکہ سلمان آغا کی شاندار ناٹ آؤٹ سنچری نے ٹیم کو ایک محفوظ پوزیشن پر پہنچا دیا جہاں سری لنکا کے باؤلرز کی محنت بکھرتی ہوئی نظر آئی اور پاکستانی بلے بازوں نے آخری اوورز میں رنز کی رفتار کو تیز کر کے ہدف کو چیلنجنگ بنا دیا جو سیریز کے پہلے میچ کو یادگار بنا رہا ہے۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز کچھ ہچکولوں سے ہوا جہاں اوپنرز صائم ایوب صرف 6 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جو سری لنکن باؤلرز کی ابتدائی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے مگر فخر زمان نے 32 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر بنیاد رکھی اور بابر اعظم نے 29 رنز جوڑ کر شراکت داری کو آگے بڑھایا جو ٹیم کی ٹاپ آرڈر کی لچک کو ظاہر کرتا ہے۔ محمد رضوان کی وکٹ جلد گرنے سے 5 رنز پر ان کی واپسی نے کچھ دباؤ بڑھایا مگر حسین طلعت کی 62 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز نے اننگز کو سنبھالا اور سلمان آغا کے ساتھ مل کر ایک اہم پارٹنرشپ قائم کی جو مڈل آرڈر کی طاقت کی علامت تھی۔ سلمان آغا نے 105 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر میچ کی بہترین کارکردگی دکھائی جہاں ان کی شاٹ سلیکشن، ٹائمنگ اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت نمایاں رہی اور محمد نواز نے 36 رنز ناٹ آؤٹ جوڑ کر آخری اوورز میں رنز کی رفتار کو برقرار رکھا جو پاکستان کو 300 کے قریب پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سری لنکا کی باؤلنگ لائن اپ میں ونندو ہاسارانگا سب سے کامیاب رہے جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی بلے بازوں کو روکنے کی کوشش کی جو ان کی اسپن کی مہارت کی جھلک دکھاتی ہے مگر وہ مڈل آرڈر کی پارٹنرشپ کو توڑنے میں ناکام رہے۔ اسیتھا فرننڈو اور مہیش ٹھیکشانا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی جو ان کی لائن اینڈ لینتھ کی تعریف کرتی ہے مگر مجموعی طور پر سری لنکن باؤلرز فیلڈنگ میں کچھ غلطیاں کر بیٹھے جو پاکستان کو اضافی رنز دینے کا باعث بنیں اور ہدف کو 300 تک پہنچانے میں مدد دی۔ یہ اننگز پاکستان کی بلے بازی کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہے جہاں سلمان آغا جیسی نئی نسل کے کھلاڑی اب ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی بن رہے ہیں اور سری لنکا کو اب اس ہدف کے تعاقب میں اپنی بلے بازی کی پوری طاقت دکھانی ہوگی جو میچ کو ایک دلچسپ مقابلے میں تبدیل کر دے گی۔
پاکستان کی 299 رنز کی اننگز اور سیریز کے پہلے میچ پر اثرات
یہ اسکور راولپنڈی کی پچ پر ایک متوازن ہدف ہے جو پاکستان کی مڈل آرڈر کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے مگر ٹاپ آرڈر کی ناکامی جیسے صائم اور رضوان کی جلد واپسی ٹیم کی کمزوری کو بھی اجاگر کرتی ہے جو آنے والے میچز میں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو سلمان آغا کی سنچری ٹیم کی امید کی کرن ہے جو انہیں ایک مستقل مزاج کھلاڑی بنا رہی ہے مگر دوسری طرف ہاسارانگا کی 3 وکٹیں سری لنکا کی اسپن طاقت کی نشاندہی کرتی ہیں جو تعاقب میں پاکستان کے باؤلرز کے لیے چیلنج ہوں گی۔ مجموعی طور پر یہ ہدف سیریز کو دلچسپ بنا رہا ہے اور پاکستان کی جیت کی امید مڈل آرڈر کی پارٹنرشپ پر منحصر ہوگی جبکہ سری لنکا کو اپنی اوپننگ جوڑی کی ضرورت پڑے گی جو میچ کو آخری اوورز تک لے جا سکے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور کرکٹ فورمز پر ایک پرجوش بحث کی صورت میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں پاکستانی فینز سلمان آغا کی سنچری کی تعریف کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہدف جیتنے کے لیے کافی ہے اور ٹیم اب سری لنکا کو دباؤ میں رکھے گی جبکہ کچھ صارفین ٹاپ آرڈر کی ناکامی پر تنقید کر رہے ہیں اور بابر اعظم کی فارم پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سری لنکن حامی ہاسارانگا کی باؤلنگ کی ستائش کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر فینز میں جوش ہے کہ میچ ایک سنسنی خیز مقابلہ ہوگا جو پاکستانی کرکٹ کی بحالی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
