Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ڈاکٹر نبیہا کا مولانا طارق جمیل کے بیٹے کے بیان پر ردعمل، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

میری تصاویر کو کیوں استعمال کیا گیا اور مولانا طارق جمیل صاحب کے گھر پر لوگ کیوں جمع ہوئے۔ڈاکٹر نبیہا
ڈاکٹر نبیہا کا مولانا طارق جمیل کے بیٹے کے بیان پر ردعمل، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

کراچی: پاکستان کی معروف ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنے نکاح کی تقریب کے بعد مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے یوسف جمیل کی تنقیدی بیان پر ایک پرجوش اور احترام آمیز ردعمل دیا ہے جو نہ صرف ان کی ذاتی عزت نفس کی جھلک دکھاتا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی تنقیدی مہم کو ایک منظم سازش قرار دیتا ہے جو ذاتی زندگیوں کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی کوشش ہے۔ نکاح کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر فعال ہوئیں نبیہا نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مولانا طارق جمیل صاحب کو وہ اپنے باپ کی طرح عزت دیتی ہیں اور مولانا صاحب بھی انہیں اپنی بیٹی کی مانند سمجھتے ہیں جو ان کے درمیان ایک والد بیٹی جیسا گہرا رشتہ ظاہر کرتا ہے اور یوسف جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا طارق جمیل صاحب صرف آپ کے باپ نہیں بلکہ میں بھی ان کو اپنا والد سمجھتی ہوں جو تنقید کی اس لہر کو ایک جذباتی اور احترام بھرے جواب سے روکنے کی کوشش ہے۔ یہ ردعمل نبیہا کی نئی شادی شدہ زندگی کی پہلی عوامی تقریر ہے جو تنقید کی اس بارش کو ایک مثبت موڑ دینے کی کوشش ہے اور سوشل میڈیا کی دنیا میں ذاتی رازداری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جہاں ایک نکاح کی چند لمحات کی ویڈیوز نے الزامات کی ایک طوفان برپا کر دیا۔

ڈاکٹر نبیہا علی خان جو ایک کامیاب ماہرِ نفسیات ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز کی حامل انفلوئنسر ہیں نے نکاح کے بعد جلد ہی سوشل میڈیا پر واپسی کی اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کھل کر بات کی جو ان کی بہادری کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کے نکاح اور ذاتی زندگی کے بارے میں چلائی جا رہی مہم انتہائی غیر منصفانہ ہے اور لوگوں کی نجی زندگیوں کو ہدف بنانا ایک بہت ہی گھناؤنا عمل ہے جو انسانی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔ نبیہا نے یہ بھی اشارہ کیا کہ یہ تنقیدی مہم کسی خاص چینل یا تنظیم کی نگرانی میں چلائی جا رہی ہے جو ان کی تشہیر کو ایک سیاسی یا ذاتی انتقام کی شکل دے رہی ہے اور اس سے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جو سوشل میڈیا کی طاقت اور اس کے منفی استعمال کی ایک زندہ مثال ہے۔ ان کا یہ بیان نہ صرف مولانا طارق جمیل کے خاندان کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کو واضح کرتا ہے بلکہ تنقید کرنے والوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک نکاح کی تقریب کو کیسے ایک قومی بحث میں بدل دیا گیا۔

نبیہا نے مؤدبانہ اور جذباتی لہجے میں مولانا طارق جمیل صاحب کی عزت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مولانا صاحب کو اپنے باپ کی طرح مانتی ہیں اور مولانا صاحب بھی انہیں اپنی بیٹی کی طرح دیکھتے ہیں جو ان کے درمیان ایک روحانی اور خاندانی رشتہ کی بنیاد رکھتا ہے اور یہ بات یوسف جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہی کہ مولانا طارق جمیل صاحب صرف آپ کے باپ نہیں بلکہ میری بھی عزت کے والد ہیں جو تنقید کی اس زنجیر کو توڑنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نکاح کی تقریب میں گائی جانے والی چند سطریں کو بنیاد بنا کر ان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں حالانکہ انہوں نے کسی بھی طرح تقریب یا مقام کی بے حرمتی نہیں کی جو تنقید کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے اور نبیہا کی صفائی کو ایک منطقی جواز دیتا ہے۔ یہ ردعمل مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے یوسف جمیل کی حالیہ ویڈیو کا براہ راست جواب ہے جہاں یوسف نے والد پر ہونے والی تنقید پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ مولانا کو اندازہ نہ تھا کہ خاتون ایسا رویہ اختیار کریں گی جو نبیہا کی وضاحت سے ایک نئی جہت لے لیتا ہے۔

ڈاکٹر نبیہا نے تنقید کرنے والوں کو خبردار کیا کہ جو انفلوئنسرز ان کی تصاویر استعمال کر رہے ہیں، کمنٹس میں زہر اگل رہے ہیں اور ان کے نکاح پر ڈرامہ رچا رہے ہیں وہ تیار ہو جائیں خاص طور پر وہ جو نکاح کے بعد ویڈیوز پر ویڈیوز بنا کر اسے وائرل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کی قانونی کارروائی کی دھمکی ہے اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ میری تصاویر کو کیوں استعمال کیا گیا اور مولانا طارق جمیل صاحب کے گھر پر لوگ کیوں جمع ہوئے اور ان کے خلاف کیوں باتیں کی گئیں جو تنقید کی حوصلہ شکنی کی ایک کوشش ہے اور مولانا طارق جمیل صاحب کی شخصیت کی عزت کو برقرار رکھنے کی جدوجہد ہے۔ نبیہا نے اختتام پر کہا کہ مولانا طارق جمیل صاحب ایک بہت قابل احترام شخصیت ہیں اور وہ دل کی گہرائیوں سے ان کی عزت اور احترام کرتی ہیں جو ان کے رشتے کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے اور تنقید کی اس لہر کو ایک مثبت اختتام دینے کی کوشش ہے۔

 ڈاکٹر نبیہا کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ذاتی تنقید کی لہر

یہ ردعمل ڈاکٹر نبیہا کی ذاتی اور پیشہ ورانہ شخصیت کی لچک کو ظاہر کرتا ہے جو تنقید کو ایک مواقع میں بدلنے کی کوشش ہے مگر یہ بھی بتاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ذاتی زندگیوں کی تشہیر کس طرح منظم مہموں کا شکار ہو جاتی ہے جہاں مولانا طارق جمیل جیسے روحانی رہنما کا نکاح پڑھانا ایک جذباتی رشتہ ہے مگر اسے الزامات کی بنیاد بنایا گیا جو مذہبی اور سوشل میڈیا کی کشمکش کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک طرف تو نبیہا کا احترام آمیز جواب مولانا خاندان کے ساتھ رشتے کو مضبوط کرتا ہے مگر دوسری طرف ان کی خبرداری انفلوئنسرز کو قانونی جواز دیتی ہے جو سوشل میڈیا کی ذمہ داری کو بڑھاتی ہے اور یہ کیس پاکستان میں انفلوئنسر کلچر کی اخلاقیات پر سوال اٹھاتا ہے جہاں ذاتی خوشیاں عوامی عدالت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ردعمل تنقید کی لہر کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے مگر اس کی کامیابی عوامی ردعمل اور مولانا خاندان کی مزید وضاحت پر منحصر ہوگی جو سماجی ہم آہنگی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک شدید تقسیم کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں نبیہا کے حامی اس ردعمل کو ایک بہادر قدم قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تنقید ایک منظم مہم ہے اور مولانا صاحب کا احترام کرنا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جبکہ تنقید کرنے والے خاص طور پر مذہبی حلقوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ نکاح کی تقریب میں گانا ایک غلطی تھی اور وضاحت سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔ کچھ صارفین نبیہا کی عمر اور شوہر کے فرق پر بھی تبصرہ کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر تعریف کی لہر غالب ہے جو ذاتی رازداری کی حمایت کر رہی ہے اور لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا ڈاکٹر نبیہا علی خان کا ردعمل درست اور متوازن تھا؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں