لمبی عمر، بڑھتی عمر کے مسائل سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کے لیے ماہرینِ غذائیت نے آٹھ ایسی غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو روز مرہ خوراک میں شامل کرلی جائیں تو دل کی بیماری، کینسر، ذیابیطس اور دماغی تنزلی جیسے امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوسکتا ہے۔ ان غذاؤں کو دنیا کے صحت مند ترین طرزِ زندگی یعنی میڈیٹیرین ڈائٹ کا اہم حصہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق متوازن غذا کے ساتھ جسمانی قوت، ذہنی چوکناہٹ اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے میں مخصوص غذائیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ غذائیں نہ صرف جسم میں سوزش کم کرتی ہیں بلکہ میٹابولزم بہتر بناتی ہیں، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور جسم کے اہم اعضاء کی کارکردگی کو طویل مدت تک صحت مند رکھتی ہیں۔
بروکلی
تحقیق میں بتایا گیا کہ بروکلی میں موجود سلفورافین ایسا مرکب ہے جو کینسر سمیت دل کے امراض اور ذیابیطس کے خلاف اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سبزی جسم میں ڈی ٹاکسیفکیشن کا عمل تیز کرتی ہے، چربی پگھلانے میں مدد دیتی ہے اور خطرناک سوزش کو کم کرتی ہے۔
دہی
ڈاکٹرز کے مطابق دہی میں شامل صحت مند بیکٹیریا آنتوں کی کارکردگی بہتر بناتے ہیں جبکہ اس میں موجود پروٹین جسمانی مضبوطی اور توانائی کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ دہی کھانے والوں میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے امکانات کم رہتے ہیں۔
گہرے سبز پتوں والی سبزیاں
پالک، ارگولا، کیلے اور دیگر سبز پتوں والی سبزیاں وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ سبزیاں دماغی خلیوں کی حفاظت کرتی ہیں، آنتوں کی صحت بہتر بناتی ہیں اور جسمانی سوزش کو نمایاں حد تک کنٹرول کرتی ہیں۔
مسور کی دال
ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین، فائبر اور مفید پودوں کے مرکبات سے بھرپور مسور کی دال شوگر لیول متوازن رکھنے میں انتہائی اہم ہے۔ یہ آنتوں کی صحت کو بھی بہتر کرتی ہے اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
مغزی میوے
بادام، اخروٹ، پستہ اور دیگر مغزی میوے صحت مند چکنائی، پودوں سے حاصل شدہ پروٹین اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک مُٹھی خشک میوہ جات دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کرتے ہیں اور دماغی افعال کو طویل مدت تک جوان رکھتے ہیں۔
زیتون کا تیل
میڈیٹیرین طرزِ غذا کا مرکزی جزو زیتون کا تیل اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دل کی شریانوں کی حفاظت کرتا ہے، جسم میں سوزش کم کرتا ہے، دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے اور بڑھاپے کا عمل سست کرتا ہے۔
انار
انار میں موجود طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں سوزش کم کرتے ہیں، انسولین کی حساسیت بہتر بناتے ہیں اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انار دل کی صحت کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
سالمن مچھلی
سالمن سمیت فیٹی فش میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی حفاظت، دماغی افعال کی بہتری اور جسمانی سوزش میں کمی کا اہم ذریعہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق اومیگا تھری بڑھاپے کی رفتار کو نمایاں حد تک سست کرتا ہے۔
طبی ماہرین کی مجموعی رائے
رپورٹ کے مطابق میڈیٹیرین طرزِ غذاجس میں پھل، سبزیاں، مغزی میوے، زیتون کا تیل، دہی اور فیٹی مچھلی شامل ہیں۔دنیا بھر میں صحت مند بڑھاپے اور طویل عمر کا سب سے بڑا راز سمجھی جاتی ہے۔
یہ طرزِ زندگی نہ صرف جسم کو مضبوط بناتی ہے بلکہ دماغ کو فعال رکھتی ہے اور عمر سے وابستہ بیماریوں سے بھی محفوظ کرتی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ ادویات اور علاج اپنی جگہ اہم ہیں لیکن لمبی عمر کا حقیقی راز روزانہ کی خوراک میں چھپا ہوا ہے۔ انہی آٹھ غذاؤں کی وجہ سے دنیا کے کئی خطوں میں لوگ نہ صرف 90 سے 100 سال تک زندہ رہتے ہیں بلکہ ذہنی و جسمانی طور پر بھی فعال رہتے ہیں۔
پاکستان میں بھی اگر لوگ اپنی خوراک سے گھی، چکنائی اور فاسٹ فوڈ کم کرکے ان غذاؤں کو معمول کا حصہ بنائیں تو نہ صرف بیماریوں کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ مجموعی صحت میں حیران کن بہتری آئے گی۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تحقیق کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ
’’اگر ہم اپنی خوراک درست کرلیں تو آدھی بیماریوں کا علاج خود بخود ہو جاتا ہے۔‘‘
کچھ لوگوں نے یہ بھی لکھا کہ مہنگائی کے باوجود صحت مند زندگی کے لیے یہ غذائیں نہایت اہم ہیں۔
اسی طرح کئی صارفین نے مشورہ دیا کہ حکومت کو صحت مند طرزِ زندگی کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ بھی ان غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرتے ہیں؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
