Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں تشویشناک اضافہ، ماہرین نے ہم جنس پرستی کو اہم سبب قرار دے دیا

صوبے میں 6 لاکھ سے زائد عطائی ڈاکٹرز سرگرم ہیں، جن میں 40 فیصد کراچی میں موجود ہیں، جو وبا کی ایک بڑی وجہ ہیں
سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں تشویشناک اضافہ، ماہرین نے ہم جنس پرستی کو اہم سبب قرار دے دیا

سندھ کی صحت کی صورتحال ایک سنگین امتحان سے گزر رہی ہے، جہاں ایچ آئی وی (ایڈز) کے کیسز کی تیزی سے بڑھوتری محکمہ صحت کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اس وبا کی اہم وجوہات ہم جنس پرستی کے پھیلتے رجحان، عطائی ڈاکٹرز، غیر قانونی طبی مراکز، آلودہ انجیکشنز، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس اور اسپتال ویسٹ کی فروخت قرار دیے ہیں۔ انہوں نے ہیلتھ کیئر کمیشن کو صوبے بھر میں بلا امتیاز کارروائی کا حکم دیا ہے اور واضح کیا کہ کسی بھی بااثر شخصیت کی سفارش کی صورت میں مجھے مطلع کیا جائے، کیونکہ میں خود اس کا مقابلہ کروں گی۔

یہ ہدایات سندھ بھر میں ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے منعقدہ اہم اجلاس میں سامنے آئیں، جہاں تمام ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس کی بریفنگ سے وبا کی شدت اور اس کی جڑیں واضح ہوئیں، جو صوبائی حکومت کی عوام کی صحت کی حفاظت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ڈاکٹر پیچوہو نے زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کیا اور کہا کہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل کو روکنا اولین ترجیح ہے، کیونکہ عوام کی جان سے کھیلنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس کی بریفنگ

وزیر صحت کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبے بھر کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس سے ایچ آئی وی کی وجوہات اور اثرات سامنے آئے۔ بتایا گیا کہ صوبے میں 6 لاکھ سے زائد عطائی ڈاکٹرز سرگرم ہیں، جن میں 40 فیصد کراچی میں موجود ہیں، جو وبا کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ 3995 بچوں کے رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں لاڑکانہ میں 1144، شکارپور میں 509، شہید بے نظیر آباد میں 256، اور میرپورخاص میں 228 بچے شامل ہیں، جبکہ ہر ضلع میں درجنوں کیسز موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار وبا کی انتہائی تشویشناک صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں، جو بنیادی وجوہات جیسے ہم جنس پرستی، عطائی ڈاکٹرز، غیر قانونی کلینکس، کینولا سینٹرز، حجاموں کے استعمال شدہ بلیڈز، سرنجز کی ری پیکنگ، اور اسپتال ویسٹ کی فروخت سے جنم لے رہی ہے۔

اجلاس میں سی ای او سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر احسن قوی، سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر درِ ناز، اور ایڈیشنل ڈائریکٹر سی ڈی سی نے خصوصی شرکت کی، جو صوبائی سطح پر کارروائی کی تیاری کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیر صحت کی سخت ہدایات

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تمام ایس ایس پیز اور ڈپٹی کمشنرز کو فوری کارروائی کا حکم دیا کہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل روکے جائیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، پولیس اور ڈی سیز کو عطائی ڈاکٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کی ہدایت کی گئی، اور کہا کہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش آئے تو مجھے بتایا جائے۔ حاملہ خواتین کی اسکریننگ لازمی قرار دی گئی تاکہ ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی روکی جا سکے۔ سیل شدہ جنرل ہیلتھ کیئر مراکز کو دوبارہ کھولنے والوں کو گرفتار کرنے، اسپتال ویسٹ کی فروخت فوری بند کرنے، اور غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس بند کر کے لائسنس یافتہ مراکز کی فہرست فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔ وزیر صحت نے زور دیا کہ سندھ حکومت ایچ آئی وی کی وبا کے آگے دیوار بن کر کھڑی ہے اور عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

 وبا کی روک تھام کی حمایت اور تشویش کا اظہار

اس اعلان نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل جنم دیا، جہاں عوام وزیر صحت کی پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں اور وبا کی روک تھام کی حمایت میں آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #SindhAIDSCrisis ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "عذرا پیچوہو کی ہدایات درست، عطائی ڈاکٹرز اور غیر قانونی کلینکس ختم ہوں، بچوں کی جان بچائیں!” دوسرے نے تشویش کا اظہار کیا: "3995 بچے متاثر؟ حکومت کی کارروائی ضروری، ہم جنس پرستی اور آلودہ انجیکشنز روکیں!”

کچھ لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا: "کریک ڈاؤن تو ہوگا، مگر نفاذ کیسے؟ بااثر لوگوں کی سفارشات روکیں۔” مجموعی طور پر، عوامی جذبات مثبت ہیں، اور لوگ حاملہ خواتین کی اسکریننگ اور ویسٹ کی فروخت بند کرنے کی حمایت کر رہے ہیں، جو وبا کی روک تھام کی طرف ایک قدم سمجھتے ہیں۔

سندھ میں ایچ آئی وی کی بڑھتی وبا ایک سنگین عوامی صحت کا بحران ہے، جو ہم جنس پرستی، عطائی ڈاکٹرز اور غیر قانونی کلینکس جیسی وجوہات سے جنم لے رہی ہے، اور 3995 متاثرہ بچوں کی تعداد اس کی شدت کو اجاگر کرتی ہے۔ وزیر صحت کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور کریک ڈاؤن کا حکم ایک مثبت قدم ہے، جو صوبائی سطح پر کارروائی کو متحرک کرے گا، خاص طور پر حاملہ خواتین کی اسکریننگ اور بلڈ بینکس کی نگرانی سے ماں بچے منتقلی روکی جا سکتی ہے۔ عوامی سطح پر، حمایت غالب ہے مگر نفاذ کی تشویش موجود ہے، جو حکومت کو بااثر سفارشات روکنے اور شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر، یہ وبا کی روک تھام کی طرف ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جو صحت کے نظام کو مضبوط بنائے گا بشرطیکہ کارروائی مسلسل رہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں