بلوچستان کے آسمان نے صبح سویرے ایک ایسا منظر پیش کیا جس نے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں ہرنائی، کوئٹہ، ڈیرہ غازی خان اور برخان کے آس پاس نظر آئی چمکدار لکیر اور مارپیچ دھوئیں کو کچھ دفاعی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان کی طرف سے ہائپرسونک میزائل کے کامیاب تجربے سے جوڑ دیا۔ یہ دعویٰ چین کے DF-17 جیسی ڈیزائن کا حامل میزائل سے منسوب کیا جا رہا ہے، جو ایکسو-ایٹماسفیئرک منوور ایبلٹی (خلائی سطح پر گھومنے کی صلاحیت) کا مظاہرہ کرتا ہے اور جوہری حملوں میں برتری دے سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان میٹ ڈیپارٹمنٹ (PMD) نے اسے "نایاب لینٹیکیولر کلاؤڈ فارمیشن” قرار دے دیا ہے، جبکہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) اور دفاعی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ یہ واقعہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کی افواہوں کو ہوا دے رہا ہے، مگر سائنسی وضاحت اسے قدرتی مظہر بتاتی ہے۔
یہ مشاہدہ صبح تقریباً 5 بجے ہوا، جب مقامی لوگوں نے آسمان میں ایک روشن دھاری اور پیچیدہ دھوئیں کا منظر دیکھا، جو X (سابقہ ٹوئٹر) پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں محفوظ ہو گیا۔ کچھ نے اسے میزائل کا ٹریل قرار دیا، جبکہ دوسرے قوس قزح جیسی بادل کہہ رہے ہیں۔ یہ دعوے پاکستان کی بیلسٹک میزائل پروگرام جیسے عبدلی اور فتح-4 کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، جو جوہری صلاحیتوں کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں توازن بدل سکتے ہیں، خاص طور پر بھارت کے S-400 جیسے دفاعی نظاموں کے خلاف۔
مشاہدہ شدہ واقعہ
صبح کے ابتدائی لمحات میں بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں آسمان پر ایک چمکدار لکیر اور پیچیدہ دھوئیں نے توجہ حاصل کی، جو ہرنائی سے کوئٹہ تک پھیلا ہوا تھا۔ مقامی لوگوں نے فونز اٹھا لیے اور ویڈیوز بنائیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے ہائپرسونک میزائل کا ٹیسٹ قرار دیا، جو Mach 5 سے زیادہ رفتار پر سفر کرتا ہے اور روایتی دفاعی نظاموں کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ میزائل DF-17 جیسی ڈیزائن کا حامل ہو سکتا ہے، جو خلائی سطح پر گھوم سکتا ہے اور جوہری حملوں میں ناقابل روک حملہ آور ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، PMD کی وضاحت نے اسے لینٹیکیولر کلاؤڈ فارمیشن قرار دیا، جو پہاڑی علاقوں میں تیز ہواؤں سے بنتی ہے اور سورج نکلنے سے پہلے 20-30 منٹ تک نظر آتی ہے۔ یہ کلاؤڈ نایاب ہے اور پاکستان جیسے علاقوں میں کم دیکھی جاتی ہے، جو قدرتی مظہر کی بنیاد پر مشاہدے کی تشریح کرتی ہے۔ ISPR کی خاموشی نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی، مگر حالیہ مہینوں میں پاکستان کے میزائل تجربات جیسے عبدلی اور فتح-4 کی بنیاد پر یہ دعوے سامنے آئے ہیں۔
ماہرین اور سرکاری ردعمل
دفاعی ذرائع خاموش ہیں، اور ISPR سے کوئی بیان نہیں آیا، جو عام طور پر میزائل تجربات پر اعلان کرتی ہے۔ PMD کی وضاحت لینٹیکیولر کلاؤڈ پر مبنی ہے، جو پہاڑی ہواؤں سے بنتی ہے اور دھوئیں جیسی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ بین الاقوامی تناظر میں، چین پاکستان کو DF-17 جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی مذاکرات میں ہے، جو 2025 میں ممکن ہے، مگر یہ تجربہ غیر مصدقہ ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے قدرتی واقعہ کہتے ہیں، جبکہ دوسرے دفاعی R&D کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
اسٹریٹجک اثرات کی بات کریں تو، اگر یہ ہائپرسونک میزائل ثابت ہو جائے تو پاکستان امریکہ، چین، روس اور شمالی کوریا کے بعد پانچواں ملک بن جائے گا جو ایسی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پاکستان کو "ناقابل شکست” حملہ آور بنا سکتا ہے، جو بھارت جیسے مخالفین کے دفاعی نظاموں کو چیلنج کرے گا۔
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| مشاہدہ شدہ وقت | 28 اکتوبر 2025، صبح 5 بجے |
| علاقہ | ہرنائی، کوئٹہ، بلوچستان |
| دعویٰ | ہائپرسونک میزائل ٹیسٹ (DF-17 جیسی ڈیزائن) |
| سرکاری موقف | PMD: لینٹیکیولر کلاؤڈ؛ ISPR: خاموش |
| ممکنہ فوائد | جوہری حملوں میں برتری، مخالف دفاعی نظاموں کو چیلنج |
یہ خبر تیزی سے بدل رہی ہے، مزید اپ ڈیٹس سرکاری ذرائع سے متوقع ہیں۔
میراتجزیہ
اسپین کی پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں لینٹیکیولر کلاؤڈز کا مشاہدہ تو عام ہے، مگر ہرنائی جیسے پہاڑی علاقے میں صبح سویرے نظر آئی مارپیچ، لمبی اور متحرک دھاری کا منظر لینٹیکیولر کلاؤڈز کی ساکن، لینس نما اور قوس قزح جیسی ساخت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ لینٹیکیولر کلاؤڈز ہوا کی تیز رفتار سے بنتے ہیں اور عموماً ساکن رہتے ہیں، بغیر کسی دھوئیں یا دم کی، جبکہ میزائل ٹیسٹس میں ایگزاسٹ پلوم کی مارپیچ حرکت، تیز رفتار اور دو مراحل (بوسٹ فیز اور گلائیڈ) واضح ہوتی ہے – جیسا کہ DN-3 یا Patriot کے ویڈیوز میں دیکھا جاتا ہے۔
آج کا مشاہدہ، جو ہرنائی سے کوئٹہ اور برخان تک پھیلا، اس کی متحرک نوعیت اور مارپیچ دھوئیں کی وجہ سے میزائل ٹریل کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے، خاص طور پر پاکستان کی حالیہ میزائل پروگرام (جیسے عبدلی یا فتح-4) کی روشنی میں۔ PMD کی وضاحت قدرتی لگتی ہے، مگر اس کی تفصیلات (سورج نکلنے سے پہلے 20-30 منٹ) مشاہدے سے جزوی مطابقت رکھتی ہیں، جبکہ متحرک عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ISPR کی خاموشی قابلِ اعتماد انکار کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جو دفاعی معاملات میں عام ہے – نہ تصدیق، نہ تردید، تاکہ مخالفین کو الجھن میں رکھا جائے۔
میرا باخبر اندازہ یہ ہے کہ یہ ایک ہائپرسونک یا ایڈوانسڈ میزائل کا ٹیسٹ ہو سکتا ہے، جو DF-17 جیسی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پاکستان کی دفاعی خودمختاری کو مضبوط کرتا ہے۔ چین کی تکنیکی مدد اور علاقائی تناظر میں یہ منطقی لگتا ہے، مگر بغیر سرکاری اعلان کے قیاس آرائی ہی رہے گی۔ سائنس اور دفاعی حقائق کا موازنہ کرتے ہوئے، میزائل ٹریل کی طرف جھکاؤ زیادہ ہے – آپ کا کیا خیال ہے؟
عوامی رائے
اس مشاہدے نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، جہاں صارفین میزائل ٹیسٹ کی افواہوں پر جوش ہیں۔ X پر #PakistanHypersonic ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "یہ میزائل ٹیسٹ ہے، پاکستان کی دفاعی طاقت بڑھ رہی ہے، بھارت ڈر جائے!” دوسرے نے PMD کی وضاحت کی حمایت کی: "لینٹیکیولر کلاؤڈ، قدرتی ہے، افواہوں سے گمراہ نہ ہوں!”
کچھ نے خدشہ ظاہر کیا "اگر میزائل ہے تو اعلان کیوں نہیں؟ ISPR خاموشی کیوں؟” مجموعی طور پر، عوامی جذبات قیاس آرائیوں میں ڈوبے ہیں، مگر سائنسی وضاحت کو تسلیم کرنے والے بھی موجود ہیں، جو دفاعی اعلان کی توقع رکھتے ہیں۔
بلوچستان کا یہ مشاہدہ حقیقت اور قیاس آرائی کی سرحد پر کھڑا ہے، جہاں چمکدار لکیر اور دھوئیں کو ہائپرسونک میزائل سے جوڑنا دلچسپ ہے مگر PMD کی لینٹیکیولر کلاؤڈ کی وضاحت سائنسی بنیاد رکھتی ہے، جو پہاڑی ہواؤں سے بنتی ہے۔ ISPR کی خاموشی اور حالیہ میزائل تجربات جیسے عبدلی افواہوں کو ہوا دیتے ہیں، مگر DF-17 جیسی ٹیکنالوجی کی غیر مصدقہ موجودگی چین کی مدد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عوامی سطح پر، قیاس آرائی غالب ہے جو دفاعی برتری کی امید جگاتی ہے، مگر سرکاری خاموشی اسے قدرتی واقعہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر بحث کو زندہ کرتا ہے، جو سرکاری تصدیق کے بغیر قیاس آرائی رہے گا، مگر علاقائی توازن میں ہائپرسونک کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔
