Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

جسم میں مستقل درد ہائی بلڈ پریشر کی خاموش وجہ بن سکتا ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دائمی درد کا شکار افراد میں ڈپریشن کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں
جسم میں مستقل درد ہائی بلڈ پریشر کی خاموش وجہ بن سکتا ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

لاہور (فہیم اختر)جسم کے مختلف حصوں میں طویل عرصے تک رہنے والا درد محض ایک تکلیف نہیں بلکہ مستقبل میں سنگین طبی مسائل کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دائمی درد ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

طبی جریدے ہائپر ٹینشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق کمر، گردن، معدہ، گھٹنے یا جسم کے دیگر حصوں میں مسلسل درد کا سامنا کرنے والے افراد میں بلند فشار خون کا امکان زیادہ پایا گیا۔ ہائی بلڈ پریشر، جسے طبی زبان میں ہائپرٹینشن کہا جاتا ہے، دل کے دورے اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچنے جیسے خطرناک مسائل کا سبب بن سکتا ہے، تاہم عام طور پر جسمانی درد کو اس کی ممکنہ وجہ نہیں سمجھا جاتا۔

تحقیق میں محققین نے دو لاکھ سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ دائمی درد اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کو جانچا جا سکے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو طویل عرصے تک درد کا سامنا رہتا ہے، ان میں ہائی بلڈ پریشر کے امکانات اُن لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں جو درد سے محفوظ رہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ خطرہ ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے جسم کے زیادہ حصوں میں درد پایا جاتا ہے، اُن میں ہائی بلڈ پریشر لاحق ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، جبکہ کم اعضا میں درد رکھنے والے افراد میں یہ خطرہ نسبتاً کم مگر پھر بھی موجود رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تعلق کی ایک اہم وجہ دماغی صحت بھی ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دائمی درد کا شکار افراد میں ڈپریشن کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، اور ڈپریشن بذاتِ خود ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافے سے جڑا ہوا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ جسم میں مسلسل درد محسوس کرنے والے افراد کو وقت گزرنے کے ساتھ دیگر صحت کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ درد محض ایک جسمانی احساس نہیں بلکہ یہ انسانی رویّے، نیند کے معیار اور کام کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ بڑھتا ہے، جو براہِ راست بلڈ پریشر کے توازن سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین دائمی درد کو سنجیدگی سے لینے اور بروقت طبی مشورہ حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق دائمی درد اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق سائنسی طور پر منطقی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب جسم مسلسل درد میں رہتا ہے تو اعصابی نظام متحرک رہتا ہے، جس کے نتیجے میں اسٹریس ہارمونز جیسے کارٹیسول اور ایڈرینالین کی مقدار بڑھ جاتی ہے، اور یہی ہارمونز بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

نیورولوجسٹس کا کہنا ہے کہ دائمی درد دماغ کے اُن حصوں کو متاثر کرتا ہے جو جذبات، دباؤ اور خودکار اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر درد طویل عرصے تک برقرار رہے تو دماغ بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر رکھنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق اس تحقیق میں ڈپریشن کا عنصر انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دائمی درد اور ڈپریشن ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، اور ڈپریشن خود بھی ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مریضوں کا علاج صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ انسانی صحت کے مسائل اکثر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور کسی ایک علامت کو نظر انداز کرنا سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ معاشروں میں عام طور پر کمر درد، گردن درد یا گھٹنوں کے درد کو بڑھتی عمر کا لازمی حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، مگر حالیہ تحقیق نے واضح کر دیا ہے کہ یہ درد محض تکلیف نہیں بلکہ مستقبل میں جان لیوا بیماریوں کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر کو عموماً خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات ابتدا میں واضح نہیں ہوتیں۔ اگر دائمی درد اس خاموش بیماری کے امکانات کو بڑھا رہا ہے تو یہ صحتِ عامہ کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو مسلسل درد کے باوجود ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے، زیادہ خطرے میں ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ درد کے بڑھنے کے ساتھ خطرات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یعنی جتنے زیادہ اعضا متاثر ہوں گے، اتنا ہی ہائی بلڈ پریشر کا امکان بڑھے گا۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ درد کے بروقت علاج اور مناسب مینجمنٹ سے نہ صرف معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ دل کی بیماریوں جیسے خطرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تحقیق صحت کے نظام اور عام افراد دونوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے کہ دائمی درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اسے ایک وارننگ سائن کے طور پر دیکھا جائے، جس پر فوری اور جامع طبی توجہ ضروری ہے۔

اپنی رائے

دائمی درد کو عموماً لوگ معمول کا مسئلہ سمجھ کر برداشت کرتے رہتے ہیں، مگر نئی تحقیق نے اسے ہائی بلڈ پریشر جیسے خطرناک مرض سے جوڑ دیا ہے۔
کیا آپ کے خیال میں ہمارے معاشرے میں درد کو سنجیدگی سے نہ لینے کا رجحان صحت کے بڑے مسائل کو جنم دے رہا ہے؟

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں