شاید ہی کوئی ایسا فلم بین ہو جس نے مشہور زمانہ فلم ’ہوم اَیلوَن‘ نہ دیکھی ہو۔ 1990 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم آج 35 برس گزرنے کے باوجود ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ کرسمس کے موقع پر دیکھے جانے والی اس فلم نے نہ صرف باکس آفس پر تاریخ رقم کی بلکہ کئی ایسی یادگار روایات بھی قائم کیں جن کا چرچا آج بھی ہوتا ہے۔ تاہم فلم کے پردے کے پیچھے کئی ایسے دلچسپ اور حیران کن حقائق ہیں جن سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔
ایک بڑا رسک، ایک بڑا فیصلہ
’ہوم اَیلوَن‘ ایک غیر روایتی فلم تھی، کیونکہ اس کی پوری کہانی ایک کم عمر بچے کے گرد گھومتی ہے اور مرکزی کردار بھی ایک بچے نے ہی نبھایا۔ اس دور میں ایسی فلم بنانا ایک بڑا رسک سمجھا جاتا تھا، مگر یہی فیصلہ بعد میں اس فلم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ثابت ہوا۔
عالمی شہرت کا آغاز
فلم 1990 میں ریلیز ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں مقبول ہو گئی۔ اس کی کہانی، مزاح، جذبات اور یادگار مناظر آج بھی فلم بینوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
کرسمس اور ہوم اَیلوَن
’ہوم اَیلوَن‘ کو کرسمس کی فلم کہنا غلط نہ ہوگا۔ فلم کی کہانی ایک ایسے بچے کے گرد گھومتی ہے جو کرسمس کی تعطیلات کے دوران غلطی سے گھر میں اکیلا رہ جاتا ہے جبکہ اس کا خاندان چھٹیاں منانے چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فلم آج بھی کرسمس کی روایات کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔
برطانیہ میں ہر سال کرسمس کے موقع پر یہ فلم ٹی وی پر دوبارہ نشر کی جاتی ہے تاکہ نئی نسل بھی اس کلاسک فلم سے لطف اندوز ہو سکے۔
کہانی کا خلاصہ
فلم کی کہانی آٹھ سالہ کیون میکلسٹر کے گرد گھومتی ہے جو اپنے خاندان کے بغیر گھر میں اکیلا رہ جاتا ہے۔ ابتدا میں وہ آزادی کا بھرپور لطف اٹھاتا ہے، مگر جلد ہی اس کا سامنا دو چوروں سے ہو جاتا ہے جو اس کے گھر کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیون اپنی ذہانت، شرارت اور ہوشیاری سے نہ صرف گھر کا دفاع کرتا ہے بلکہ چوروں کو ناکوں چنے چبوا دیتا ہے۔
میکالے کلکن کی راتوں رات شہرت
’ہوم اَیلوَن‘ نے کم عمر اداکار میکالے کلکن کو عالمی شہرت دلا دی۔ شوٹنگ کے وقت ان کی عمر صرف 10 برس تھی، جس کے باعث وہ بچوں سے متعلق قوانین کے تحت رات گئے تک شوٹنگ نہیں کر سکتے تھے۔
ہدایتکار خود بنے کیون
بچوں کی محدود اوقاتِ کار کی وجہ سے ہدایتکار کرس کولمبس نے کئی رات کے مناظر میں خود کیون کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات 10 بجے کے بعد سے صبح تک وہ میکالے کلکن کی جگہ سین مکمل کرتے رہے۔
کیون کی ماں اور ٹینس بال
کیون کی ماں کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کیتھرین اوہارا کو بھی بعض مناظر میں بچوں کے بغیر اداکاری کرنا پڑی۔ ان مناظر میں بچوں کی جگہ اسٹینڈز پر لگے ٹینس بال رکھے گئے اور اسکرپٹ سپروائزر کی آواز کے ذریعے سین مکمل کروائے گئے۔
کیون کے کردار کا انتخاب
اگرچہ کیون کے کردار کے لیے سیکڑوں بچوں کے آڈیشن لیے گئے، مگر ہدایتکار کرس کولمبس کے ذہن میں ابتدا سے ہی میکالے کلکن تھے۔ یہ انتخاب معروف مصنف اور پروڈیوسر جان ہیوز کی سفارش پر کیا گیا، جو اس سے قبل بھی میکالے کے ساتھ کام کر چکے تھے۔
مشہور گھر کی حقیقت
فلم میں دکھایا گیا مشہور گھر شکاگو کے علاقے ونیٹکا میں واقع ہے۔ شوٹنگ تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہی، اور اس دوران گھر کے اصل مالکان وہیں مقیم رہے۔ معاہدے کے تحت فلمی ٹیم کو گھر میں عارضی تبدیلیوں کی اجازت حاصل تھی۔
جو پیسکی کی حقیقت پسندانہ اداکاری
فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے والے جو پیسکی نے کردار کی سنجیدگی برقرار رکھنے کے لیے میکالے کلکن سے کم سے کم بات چیت کی۔ شوٹنگ کے دوران انہیں بعض مناظر میں واقعی چوٹیں بھی آئیں، جن میں آگ سے جلنے کا واقعہ بھی شامل تھا۔
شوٹنگ کے دلچسپ واقعات
فلم کی شوٹنگ کے دوران اچانک برفباری نے مشکلات کھڑی کر دیں، جس کے بعد مصنوعی برف کے لیے آلو کے فلیکس، برف مشینیں اور کٹی ہوئی برف استعمال کی گئی۔
کئی مناظر شکاگو کے اسکول اور ہوائی اڈے پر فلمائے گئے، جنہیں فلم میں پیرس کے مناظر کے طور پر دکھایا گیا۔
یوں ’ہوم اَیلوَن‘ نہ صرف ایک کامیاب فلم بلکہ یادوں، مزاح اور کرسمس کی خوشیوں کا ایسا پیکج ہے جو دہائیوں بعد بھی ناظرین کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
ماہرین کی رائے
فلمی تاریخ کے ماہرین کے مطابق ’ہوم الون‘ ان چند فلموں میں شامل ہے جنہوں نے بچوں کو مرکزی کردار بنا کر بھی عالمی سطح پر غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ فلم اس بات کی مثال ہے کہ اگر کہانی مضبوط ہو تو عمر یا کردار کی نوعیت کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
سینما ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کی اصل طاقت اس کا سادہ مگر مؤثر اسکرپٹ ہے، جو مزاح، خوف اور جذبات کو متوازن انداز میں پیش کرتا ہے۔ ان کے بقول کیون میکلسٹر کا کردار بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے یکساں کشش رکھتا ہے، جو اس فلم کو نسل در نسل مقبول بنائے ہوئے ہے۔
ثقافتی ماہرین کے مطابق ’ہوم الون‘ صرف ایک فلم نہیں بلکہ کرسمس کی ایک عالمی روایت بن چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح کچھ ممالک میں مخصوص گیت یا کہانیاں کرسمس کا حصہ ہیں، اسی طرح ہوم الون بھی تہوار کی شناخت بن چکی ہے۔
’ہوم الون‘ کی مقبولیت کا راز اس کی سادگی اور جذباتی وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ فلم ایک ایسے خوف کو مزاحیہ انداز میں پیش کرتی ہے جس سے تقریباً ہر بچہ گزرا ہے، یعنی گھر میں اکیلا رہ جانے کا احساس۔ یہی عنصر فلم کو ناظرین کے دلوں کے قریب لے آتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے پہلے کے دور میں بننے والی یہ فلم آج کے ڈیجیٹل زمانے میں بھی اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کے مضبوط بیانیے اور یادگار مناظر کا ثبوت ہے۔ چوروں کے ساتھ کیون کی ذہانت بھری جنگ، ماں کی بے چینی اور کرسمس کا ماحول ایک مکمل تفریحی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
فلمی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہوم الون نے بچوں کے کردار کو ایک نئی شناخت دی۔ اس فلم کے بعد کئی فلم سازوں نے بچوں کو مرکزی کردار میں پیش کرنے کا حوصلہ پایا۔ مزید یہ کہ میکالے کلکن کی اداکاری نے ثابت کیا کہ کم عمر اداکار بھی فلم کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکتے ہیں۔
آج، 35 برس گزرنے کے باوجود، ہوم الون کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہر کرسمس پر اس فلم کا دوبارہ نشر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فلم محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ بن چکی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
اپنی رائے
’ہوم الون‘ ایک ایسی فلم ہے جو ہنسی، جذبات اور یادوں کو ایک ساتھ جوڑ دیتی ہے۔
کیا آپ کے لیے بھی یہ فلم کرسمس کی روایت بن چکی ہے یا آپ اسے محض ایک تفریحی فلم سمجھتے ہیں؟
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔
