Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان آج پاکستان پہنچیں گے

پاک فضائیہ کے جے ایف 17 جنگی طیارے فضا میں معزز مہمان کو سلامی پیش کریں گے
یو اے ای صدر کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت متوقع

اسلام آباد(غلام مرتضی):متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان آج ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔ یہ ان کا صدر کے منصب سنبھالنے کے بعد پہلا سرکاری دورۂ پاکستان ہے، جو وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے۔

اس دورے کا مقصد پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام سمیت اہم شعبوں میں باہمی روابط کو فروغ دینا ہے۔

معزز مہمان کے شایانِ شان استقبال کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ شہر کو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے قومی پرچموں، پھولوں اور رنگ برنگی روشنیوں سے سجا دیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا جائے گا، جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 جنگی طیارے فضاء میں شاندار فلائی پاسٹ کے ذریعے معزز مہمان کو سلامی پیش کریں گے۔

شاہراہ دستور، پارلیمنٹ ہاؤس، ایوانِ صدر اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں کو خصوصی طور پر آراستہ کیا گیا ہے، جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر دونوں ممالک کے پرچم آویزاں کیے گئے ہیں۔ مختلف مقامات پر وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی تصاویر پر مشتمل بینرز اور استقبالی بورڈز نصب کیے گئے ہیں، جو مہمان نوازی کے بھرپور اظہار کا مظہر ہیں۔

صدرِ یو اے ای کی آمد کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ہیوی ٹریفک کا داخلہ صبح 6 بجے سے رات ساڑھے 12 بجے تک بند رہے گا۔ اس موقع پر پاکستان سیکریٹیریٹ اور تمام وفاقی اداروں میں تعطیل ہوگی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں بھی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

تاہم بینک، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، اسلام آباد انتظامیہ، پولیس، آئیسکو اور گیس سے متعلق دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں کے لیے نئی راہیں ہموار کرنے کی امیدیں لیے ہوئے ہے۔

ماہرین کی رائے

سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ یو اے ای پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران سرمایہ کاری، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون پر پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات پہلے ہی پاکستان میں بڑے سرمایہ کاروں میں شامل ہے، اور اعلیٰ سطحی روابط مزید سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتے ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔

دفاعی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق پاک فضائیہ کی جانب سے جے ایف 17 جنگی طیاروں کی سلامی نہ صرف مہمان نوازی کی روایت کا حصہ ہے بلکہ یہ دفاعی تعاون اور باہمی اعتماد کی بھی علامت ہے۔ ان کے نزدیک یہ اشارہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کی مضبوطی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا دورۂ پاکستان ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کو معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی امن کے حوالے سے اہم سفارتی حمایت کی ضرورت ہے۔ یو اے ای نہ صرف پاکستان کا دیرینہ دوست ہے بلکہ خلیجی خطے میں ایک مؤثر معاشی اور سیاسی طاقت بھی ہے، جس کی حمایت پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے اہمیت رکھتی ہے۔

یہ دورہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کو رسمی خیرسگالی سے آگے لے جا کر عملی شراکت داری کی سطح تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پاکستان کے دیرینہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر تیل، گیس اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں شراکت اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اس دورے کی علامتی اہمیت بھی کم نہیں۔ شاہانہ استقبال، فلائی پاسٹ اور شہر کی آرائش اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف یو اے ای بلکہ دیگر دوست ممالک کو بھی یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستان علاقائی تعاون اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صدرِ یو اے ای کا یہ دورہ پاکستان کے لیے سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ اگر اس دورے کے نتیجے میں عملی معاہدات، سرمایہ کاری کے منصوبے اور طویل المدت تعاون کی بنیاد رکھی گئی تو یہ تعلقات کو محض دوستی سے شراکت داری کی نئی سطح تک لے جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں