Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

قرآن پر فیصلے ہمارے قانون کا حصہ نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں، سپریم کورٹ

پولیس کو شواہد خود اکٹھے کرنا ہوتے ہیں، جسٹس ملک شہزاد کے اہم ریمارکس
قرآن پر فیصلے ہمارے قانون کا حصہ نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد:(فہیم اختر)سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن پر فیصلے کرنا ہمارے قانونی نظام کا حصہ نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ملک کی جیلیں خالی ہو چکی ہوتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق فیصلے شواہد اور گواہی کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض حلف پر۔

یہ ریمارکس مخالفین کے گھر اور جانور جلانے کے الزام میں نامزد ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے گئے، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا واقعی مدعی کا گھر اور جانور جلائے گئے تھے؟ اس پر پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ گھر اور جانوروں کو نذرِ آتش کیا گیا، تاہم موقع واردات سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہو سکے۔

مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم مدعی سے ایک پلاٹ خریدنا چاہتا تھا، اور پلاٹ فروخت کرنے سے انکار پر اس نے مبینہ طور پر گھر اور جانوروں کو آگ لگا دی۔

جسٹس ملک شہزاد احمد نے پولیس سے سوال کیا کہ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ تفتیش کے نتائج کیا ہیں؟ پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ ملزم نے جرگے کے دوران قرآن پر حلف دیا تھا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔

اس پر جسٹس ملک شہزاد نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلے قرآن پر حلف کی بنیاد پر ہونے لگیں تو جیلوں میں کوئی قیدی باقی نہ رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں شامل نہیں ہیں اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شواہد اکٹھے کرے اور حقائق کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھائے۔

پولیس اہلکار نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف کسی نے گواہی بھی نہیں دی۔ اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ کوئی شخص اپنا گھر اور اپنے جانور خود نہیں جلاتا، ایسے معاملات میں محض بیانات کے بجائے ٹھوس شواہد ناگزیر ہوتے ہیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ پولیس کو شواہد اکٹھے کرنے اور قانونی تقاضوں کے مطابق تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی

ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس ملک شہزاد کے ریمارکس پاکستان کے عدالتی نظام کے بنیادی اصولوں کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت نے یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کر دی ہے کہ فیصلے مذہبی حلف یا روایتی جرگہ نظام کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد، گواہی اور قانونی معیار کے مطابق ہوتے ہیں۔

سینئر وکلاء کے مطابق قرآن پر حلف کو حتمی ثبوت مان لینا نہ صرف آئینی و قانونی تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے فوجداری انصاف کا پورا ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر پولیس تفتیش کو صرف حلف یا غیر رسمی بیانات تک محدود رکھے تو یہ انصاف کے بنیادی تصور سے انحراف ہوگا۔

ماہرینِ قانون نے پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ شواہد اکٹھے کرنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی مقدمے میں گواہی کا نہ ملنا اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ کیس کمزور سمجھ کر چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ پولیس کی تفتیشی ناکامی کی علامت ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں دیے گئے یہ ریمارکس نہ صرف ایک مخصوص مقدمے تک محدود ہیں بلکہ مجموعی طور پر فوجداری نظامِ انصاف کے لیے ایک واضح پیغام بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں جرگہ، حلف اور غیر رسمی فیصلوں کو بعض اوقات قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے، عدالتِ عظمیٰ نے ایک بار پھر یہ حد متعین کر دی ہے کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

جسٹس ملک شہزاد کا یہ کہنا کہ ’’اگر فیصلے قرآن پر ہوتے تو جیلیں خالی ہوتیں‘‘ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ فوجداری مقدمات میں صرف دعوؤں یا حلف پر انحصار انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ جرم ثابت کرنے یا بے گناہی ثابت کرنے کا واحد راستہ شواہد، تفتیش اور قانونی عمل ہے۔

یہ کیس پولیس کی تفتیشی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ موقع واردات سے شواہد کا نہ ملنا، گواہوں کا سامنے نہ آنا اور پھر جرگے کے حلف کو بنیاد بنا لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات تفتیش غیر سنجیدہ انداز میں کی جاتی ہے۔ عدالت کے ریمارکس دراصل پولیس کو یاد دہانی ہیں کہ وہ آئینی ذمہ داری پوری کرے اور مضبوط، غیر جانبدار تفتیش کو یقینی بنائے۔

مزید برآں، عدالت کا یہ جملہ کہ ’’کوئی شخص اپنا گھر اور جانور خود نہیں جلاتا‘‘ اس بات کی علامت ہے کہ عدالت زمینی حقائق کو نظرانداز نہیں کرتی۔ تاہم اس کے باوجود عدالت نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شواہد کی اہمیت پر زور دیا، جو عدالتی توازن کی ایک مثال ہے۔

مجموعی طور پر یہ فیصلہ اور ریمارکس نہ صرف زیرِ سماعت مقدمے کے لیے اہم ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک نظیر بھی قائم کرتے ہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام مذہبی حلف، سماجی دباؤ یا غیر رسمی طریقۂ انصاف کے بجائے قانون، شواہد اور آئین کے تحت ہی فیصلے کرے گا۔ یہ مؤقف ریاستی نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اس عدالتی مؤقف کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
کیا آپ کے خیال میں قرآن پر حلف جیسے غیر رسمی طریقوں کو قانونی عمل میں کوئی جگہ ملنی چاہیے یا عدالت کا مؤقف بالکل درست ہے؟

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں