Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستان سمیت کئی ممالک غزہ استحکام فورس کا حصہ بننے پر غور کر رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ

تاہم، ابھی تک کسی بھی ملک سے فوجی تعاون کی حتمی یقین دہانی نہیں حاصل کی گئی
پاکستان سمیت کئی ممالک غزہ استحکام فورس کا حصہ بننے پر غور کر رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ

اسلا م ا   ٓباد(غلام مرتضی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت کچھ ممالک نے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے کی پیشکش کی ہے، جس پر امریکا انتہائی شکر گزار ہے۔ تاہم، ابھی تک کسی بھی ملک سے فوجی تعاون کی حتمی یقین دہانی نہیں حاصل کی گئی۔

مارکو روبیو نے امریکی وزارت خارجہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مختلف ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، نے غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے فوجی دستے بھیجنے پر غور کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی طرف سے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر امریکا بہت ممنون ہے۔

پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ آیا پاکستان نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے پر امریکا کو باضابطہ طور پر اپنی رضامندی دی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ابھی تک کسی ملک سے فوجی تعاون کی حتمی یقین دہانی نہیں کی گئی، تاہم امریکا کو پاکستان کی پیشکش پر خوشی ہے۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک غزہ استحکام فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں اور ان کی پیشکشوں پر امریکا غور کر رہا ہے تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا غزہ میں امن فورس کا حصہ بننے کی پیشکش عالمی سیاست میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پیشکش پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کرتی ہے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اس کی حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو اس طرح کی پیشکش کے بعد بین الاقوامی برادری سے حقیقی حمایت کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ اقدام مؤثر ثابت ہو سکے۔ ان کے مطابق، امریکا کا اس پیشکش پر شکر گزار ہونا ایک سفارتی کامیابی کی علامت ہے، لیکن عملی طور پر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔

فوجی ماہرین
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں امن فورس بھیجنے کے لیے نہ صرف فوجی طاقت کی ضرورت ہوگی بلکہ بین الاقوامی تعلقات، مفاہمت اور سیاسی استحکام بھی ضروری ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کسی بھی غیر ملکی فوجی دستے کی تعیناتی کے ساتھ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ فیصلہ کسی کی خودمختاری کی خلاف ورزی نہ ہو اور اس کے اثرات مقامی آبادی پر منفی نہ ہوں۔ ان ماہرین کے مطابق، اس اقدام کے لیے قریبی ہم آہنگی اور سیاسی اتفاق درکار ہے تاکہ غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔

اقتصادی ماہرین
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوجی دستے بھیجنا ایک پیچیدہ معاملہ ہو سکتا ہے، جس میں خطے کی اقتصادی حالت اور وسائل کی تقسیم کا بھی بڑا کردار ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی مشن کے ساتھ ساتھ معاشی امداد اور سماجی ترقی کی ضرورت ہوگی تاکہ غزہ کی معاشی تباہی کو ٹھیک کیا جا سکے اور طویل مدتی امن قائم ہو سکے۔ اگر صرف فوجی حل پر زور دیا جائے تو اس کے اثرات وقتی ہو سکتے ہیں اور طویل عرصے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کی پیشکش اور اس کے سفارتی اثرات
پاکستان کی طرف سے غزہ میں امن فورس کا حصہ بننے کی پیشکش ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی عالمی سطح پر موجودگی کو مستحکم کرتا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک ذمہ دار اور فعال شریک بننے کے لیے تیار ہے۔ اس پیشکش کو امریکا کی جانب سے مثبت ردعمل ملا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، پاکستان کی پیشکش کا اصل چیلنج عملی طور پر فوجی دستے بھیجنے میں درپیش رکاوٹوں کا ہے۔ غزہ ایک پیچیدہ اور متنازع علاقہ ہے جہاں مختلف سیاسی، مذہبی اور نسلی گروہ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، عالمی سطح پر طاقتور ممالک کے مختلف مفادات اور عالمی قانون کی پیچیدگیاں اس پیشکش کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔

غزہ میں امن کی بحالی
غزہ میں امن قائم کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے، اور اس کے لیے صرف فوجی مداخلت کافی نہیں ہوگی۔ وہاں کے مقامی مسائل، سیاسی تنازعات اور مذہبی اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور جامع امن معاہدہ کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان امن فورس کا حصہ بنتا ہے تو اسے سیاسی مذاکرات اور مفاہمت کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر قبولیت حاصل کی جا سکے۔

چیلنجز اور ممکنہ حل
اگرچہ پاکستان کی پیشکش ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کے لیے کئی عوامل درکار ہوں گے

  1. بین الاقوامی حمایت: پاکستان کو اس پیشکش کے لیے امریکا سمیت دوسرے ممالک کی مکمل حمایت حاصل کرنی ہوگی تاکہ یہ منصوبہ حقیقت میں تبدیل ہو سکے۔

  2. مقامی امن اور مفاہمت: غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے مقامی فلسطینی حکام اور دیگر فریقین کے ساتھ مل کر ایک پائیدار معاہدہ ہونا ضروری ہے۔

  3. اقتصادی امداد اور تعمیر نو: صرف فوجی دستے نہیں، بلکہ غزہ کی معاشی بحالی کے لیے بھی عالمی سطح پر امداد فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ طویل مدتی امن ممکن ہو۔

پاکستان کی غزہ میں فوجی دستے بھیجنے کی پیشکش ایک سفارتی فتح اور عالمی سطح پر پاکستان کی مضبوط پوزیشن کی نشاندہی ہے۔ تاہم، اس پیشکش کی کامیابی کے لیے عالمی برادری کی بھرپور حمایت اور غزہ میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ یہ اقدام امن کی طرف ایک ٹھوس قدم ثابت ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں