Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

ایف آئی اے کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ 21 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد سنایا۔
توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

اسلام آباد:(فہیم اختر )توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جرم ثابت ہونے پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی ہے، جبکہ دونوں پر فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں سنایا۔ عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور دونوں ملزمان کو جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 کے تحت 10 سال قید جبکہ انسدادِ رشوت ستانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بشریٰ بی بی کو بھی مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں دونوں کو مزید چھ، چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان کی عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم سزا دی گئی، جبکہ دونوں کے عرصۂ حوالات کو بھی سزا میں شامل کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 13 جولائی 2024 کو نیب نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا تھا۔ دونوں ملزمان 37 دن تک نیب کی تحویل میں رہے، جس کے بعد 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا مؤقف

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خصوصی عدالت سینٹرل-I اسلام آباد نے توشہ خانہ-II کیس میں سابق وزیرِاعظم عمران احمد خان نیازی اور ان کی اہلیہ بشرٰی عمران کو مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی ہے۔

عدالت نے ملزمان کو دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان کے تحت 10 سال قیدِ سادہ اور دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت 7 سال قیدِ سادہ کی سزا سنائی، جبکہ دونوں پر 16,405,000 روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ 21 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد سنایا۔

مقدمے کے پس منظر میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ ملزمان نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران موصول ہونے والا Bvlgari کا جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا، حالانکہ وہ اس بات کے لیے قانونی طور پر پابند تھے۔

تفتیش کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت اور بدنیتی سے جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت لگوائی، جس کے باعث قومی خزانے کو 32.851 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

ایف آئی اے کے مطابق یہ مقدمہ اس ادارے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، جس میں سابق وزیرِاعظم اور ان کی اہلیہ کو خالصتاً دستاویزی شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔

فیصلے کے بعد ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے دونوں ملزمان کو تحویل میں لے کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ایف آئی اے نے اس موقع پر بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدمے کی کامیاب پیروی پر متعلقہ تفتیشی ٹیم اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔

ماہرینِ قانون کی رائے

قانونی ماہرین
قانونی ماہرین کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا ایک اہم قانونی پیشرفت ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ بدعنوانی اور قانون کی خلاف ورزی کسی بھی سطح پر قابلِ سزا ہیں، چاہے وہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداران ہوں یا عوامی شخصیات۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ دستاویزی شواہد کے ذریعے کیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی عدلیہ بدعنوانی کے مقدمات میں صرف سیاسی اثرات سے آزاد ہو کر فیصلے کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے جرمانے اور قید کی سزاؤں کا تعین کرتے وقت ملزمان کی عمر اور خاتون ہونے کو مدنظر رکھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں نرمی کے اصول بھی ہیں لیکن مقدمے کی نوعیت اور ملزمان کے جرم کی سنگینی کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔

عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلے میں فیصلہ کن شواہد پر زور دیا گیا، جیسے کہ قومی خزانے کو نقصان اور مملکت سعودی عرب سے ملنے والے تحفے کی غیر قانونی فروخت۔ اس سے ایک مضبوط قانونی بنیاد بن گئی جس کی وجہ سے ملزمان کو سزا ملنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

سیاسی و قانونی تجزیہ

سیاسی تجزیہ
سیاسی ماہرین کے مطابق، توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بات عمران خان جیسے سابق وزیراعظم کی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی ساکھ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری اور سزا ایک سیاسی معاملہ بن چکا ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مضبوط موقف مل سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس فیصلے کو سیاسی انتقام کے طور پر پیش کر سکتی ہے، جو پارٹی کے حامیوں میں ناراضگی پیدا کر سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی مقبولیت میں کمی محسوس کر سکتی ہے، خاص طور پر ان کے عوامی بیانیہ میں جس میں وہ حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہیں۔

قانونی تجزیہ
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ عدلیہ کی آزادی اور مضبوط انصاف کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ کیس سیاسی رنگ اختیار کر چکا تھا، لیکن اس کے باوجود عدالت نے قانونی دلائل اور دستاویزی شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا۔ اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ نے اپنے فیصلوں میں مؤثر اور جامع دلیلیوں کا استعمال کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو ہر سطح پر برقرار رکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ جیسے کیسز میں انصاف کا بروقت فراہم ہونا اور کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف کارروائی سے یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ سیاستدان ہو یا عوام۔

عوامی ردعمل

عوامی ردعمل میں مختلف آراء سامنے آئیں ہیں۔ ایک طرف، بہت سے افراد نے اس فیصلے کو قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کے طور پر سراہا ہے، اور انہیں یہ فیصلہ ایک نیا عزم قرار دیا ہے کہ ملک میں اب قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو سزا ملے گی۔

دوسری طرف، کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا پی ٹی آئی کے حامیوں میں غصہ اور احتجاج کو بڑھا سکتی ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی محرکات ہیں، اور کیا یہ سیاسی انتقام کا حصہ ہے؟ تاہم، عدالت نے اس فیصلہ کو دستاویزی شواہد کی بنیاد پر مستحکم کیا، جو کہ اس پر عوامی اعتماد کو مستحکم کرتا ہے۔

توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے ایک اہم پیغام ہے کہ بدعنوانی کے مرتکب افراد چاہے جتنی بھی اہم پوزیشن پر ہوں، ان کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ اس فیصلے نے عدلیہ کی خود مختاری کو مزید مضبوط کیا ہے اور اس سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ پاکستان میں کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم، یہ فیصلہ سیاسی لحاظ سے متنازعہ ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات پی ٹی آئی اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر واضح طور پر دکھائی دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں