Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

’جادوئی مشروم‘ میں موجود مرکب کس دماغی بیماری کا علاج کر سکتا ہے؟

موجودہ تحقیق میں سِلوسیبن کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے
’جادوئی مشروم‘ میں موجود مرکب کس دماغی بیماری کا علاج کر سکتا ہے؟

حالیہ برسوں میں میجک مشروم میں موجود سِلوسیبن مرکب پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی گئی ہے، اور ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مرکب ڈپریشن کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، سِلوسیبن دماغ کی ایک خاص سرگرمی کو کم کرتا ہے جو مریض کو منفی سوچ کے چکر میں جکڑ کر چھوڑ دیتی ہے، اور اس طرح یہ ڈپریشن سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ڈپریشن ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں دنیا بھر میں کروڑوں لوگ مبتلا ہیں۔ اس میں فرد کو کئی ہفتوں تک خوشی کا احساس نہیں ہوتا، اور وہ معمول کی سرگرمیوں میں دلچسپی کھو دیتا ہے۔

ڈپریشن کے علاج کے لیے عموماً ٹاک تھراپی اور اینٹی ڈپریسنٹ ادویات تجویز کی جاتی ہیں، تاہم تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ طریقے ہر مریض پر کارگر نہیں ہوتے۔

اس بات کا تعین کرنا کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد طویل عرصے تک کیوں اس کیفیت میں رہتے ہیں، ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے، لیکن حالیہ تحقیق میں سِلوسیبن کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کے سائنس دانوں کے مطابق، سِلوسیبن دماغ کی اس سرگرمی کو کمزور کرتا ہے جو مریضوں کو رومینیشن (منفی خیالات میں مسلسل محصور رہنا) کے عمل میں مبتلا کر دیتی ہے۔

ایلکس کوان، جو اس تحقیق کے مصنف ہیں، نے جرنل سیل میں شائع ہونے والے مقالے میں بتایا کہ رومینیشن ڈپریشن کا ایک اہم جزو ہے، جس میں مریض ایک جیسے منفی خیالات میں مسلسل پھنسے رہتے ہیں۔ سِلوسیبن ان منفی خیالات کے چکر کو توڑ کر مریض کی حالت میں بہتری لا سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

نفسیاتی ماہرین
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سِلوسیبن کی تحقیق ایک انتہائی دلچسپ پیشرفت ہے، کیونکہ اس مرکب کے اثرات ڈپریشن جیسے پیچیدہ مرض کے علاج میں ایک نیا زاویہ پیش کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سِلوسیبن کی مدد سے نہ صرف منفی سوچ کے چکروں کو توڑا جا سکتا ہے، بلکہ اس کے ذریعے دماغ کی ان پٹھوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے جو عموماً ڈپریشن کے دوران کمزور پڑ جاتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق، رومینیشن کا علاج کرنے کی صلاحیت سِلوسیبن کو ایک مؤثر طریقہ علاج بناتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو روایتی طریقوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

نیوروسائنس ماہرین
نیوروسائنس ماہرین اس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ سِلوسیبن کے دماغی اثرات اب تک کی تحقیق کے مطابق دیرپا ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سِلوسیبن دماغ میں موجود پلاستکٹی (نیورل کنکشنز کے لچکدار ہونے) کو بڑھا سکتا ہے، جس سے دماغ نئے طریقوں سے سوچنے اور محسوس کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ تاہم، ان ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سِلوسیبن کا استعمال احتیاط کے ساتھ اور تجربہ کار ماہرین کی نگرانی میں کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کا غیر محتاط استعمال ذہنی صحت کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

طبی ماہرین
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سِلوسیبن کی مدد سے ڈپریشن کے علاج میں انقلاب آ سکتا ہے، لیکن اس کا استعمال صرف ان مریضوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے جو روایتی علاج سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مرکب میکانزم کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے اثرات اور طویل مدتی نتائج کے بارے میں مزید تفصیل سے سمجھا جا سکے۔ اس کے باوجود، سِلوسیبن کی ممکنہ فوائد پر تحقیق جاری ہے اور اس کے اثرات کو کلینیکل ماحول میں آزمانا ضروری ہوگا۔

نئی تحقیق اور اس کے اثرات
سِلوسیبن کی تحقیق، جس میں اسے ڈپریشن کے علاج کے لیے آزمایا جا رہا ہے، دماغی صحت کے علاج کے میدان میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس مرکب کے دماغ پر اثرات نے ایک نئے علاجی طریقہ کو جنم دیا ہے جو روایتی طریقوں سے مختلف ہے۔ سِلوسیبن کی مدد سے نہ صرف رومینیشن کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ دماغ میں نیورل کنکشنز کو بھی مضبوط کرتا ہے، جس سے ذہنی صحت کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

تکنیکی پہلو
جب بات سِلوسیبن کی آتی ہے، تو اس کے اثرات کے بارے میں جو بات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ اس کا دماغ پر دیرپا اثر ہے۔ روایتی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات عام طور پر مکمل طور پر دماغی کیمیکلز میں توازن پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہیں، لیکن سِلوسیبن دماغی نیورل سرکٹس میں تبدیلیاں لاتا ہے جو طویل مدت تک اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ اس طرح کے اثرات عام طور پر دیگر علاجی طریقوں میں دیکھنے کو نہیں ملتے، جو سِلوسیبن کو ایک اہم اور مؤثر علاجی آپشن کے طور پر سامنے لاتا ہے۔

چیلنجز اور احتیاط
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگرچہ سِلوسیبن کے اثرات بہت امید افزا ہیں، لیکن اس کا استعمال صحیح نگرانی کے بغیر کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سِلوسیبن ایک سائیکڈیلک مرکب ہے، اور اس کا غیر محتاط استعمال ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے اس کے استعمال کو طبی ماہرین کی نگرانی میں اور مناسب تحقیق کے ساتھ ہی شروع کیا جانا چاہیے۔

اگر سِلوسیبن کی تحقیق کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ دماغی بیماریوں کے علاج کے طریقے کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ مخصوص دماغی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو اکثر ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل میں مبتلا افراد میں پائی جاتی ہیں۔ مستقبل میں، سِلوسیبن کو ممکنہ طور پر ڈپریشن، پریشانی، ادھوری یادداشت اور دیگر ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک اہم علاجی طریقہ بنایا جا سکتا ہے۔

سِلوسیبن کی تحقیق ایک بڑی پیشرفت ہے جس میں ذہنی صحت کے مسائل کے علاج کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس تحقیق کو مزید تفصیل سے آزمانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے مکمل فوائد اور نقصانات کے بارے میں بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ اس وقت تک، سِلوسیبن کا استعمال محتاط اور ماہرین کی نگرانی میں ہی کرنا بہتر ہے تاکہ اس کے طویل مدتی اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں