کراچی:سندھ پولیس کے بہادر اور بے خوف افسر شہید چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بھارت کی حالیہ پروپیگنڈا فلم کے خلاف سخت ردِعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فلم کے ڈائریکٹر اور رائٹر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گی۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بھارتی فلم کو پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔
نورین اسلم
نورین اسلم کا کہنا تھا کہ لیاری کے موضوع پر بنائی گئی بھارتی فلم دراصل پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہے، جس کے پیچھے واضح طور پر سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق میں شکست کھانے کے بعد بھارت اب فلموں کے ذریعے پاکستان مخالف مہم چلانے کی کوشش کر رہا ہے، جو ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگی۔”
ان کے مطابق فلم میں نہ صرف چوہدری اسلم کی خدمات کو نظرانداز کیا گیا بلکہ ان کے کردار کو منفی انداز میں پیش کیا گیا، جو عالمی قوانین کے مطابق ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔
“گینگ وار کے دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر دکھانا پاکستان دشمنی ہے”
نورین اسلم نے شدید سوال اٹھایا کہ فلم میں اصل ہیرو یعنی چوہدری اسلم کو تو مسخ شدہ انداز میں دکھایا گیا، مگر دوسری جانب گینگ وار کے سفاک دہشتگرد رحمان ڈکیت کو نمایاں کیا گیا۔
انہوں نے کہا:“یہ فلم پاکستان مخالف دہشتگردوں کی حمایت کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ ایک ایجنڈا ہے، اور ہم اسے بے نقاب کریں گے۔”
انہوں نے واضح کہا کہ بھارت چوہدری اسلم کی حب الوطنی، بہادری اور عوامی محبت کو نہ تو کم کر سکتا ہے اور نہ مٹا سکتا ہے۔
قانونی کارروائی کا اعلان
نورین اسلم نے بتایا کہ وہ اس فلم کے پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور رائٹر کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت قانونی کارروائی کریں گی، کیونکہ فلم میں جھوٹ اور اشتعال انگیز مواد شامل ہے، جو شہید کے خاندان کی دل آزاری کا سبب بھی بنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ“شہید چوہدری اسلم پاکستان کے ہیرو تھے، ہیں اور رہیں گے۔ نام نہاد فلمیں ان کی خدمات، قربانیوں اور بہادری کو کبھی کم نہیں کر سکتیں۔”
بھارتی فلم میں چوہدری اسلم کے کردار کو منفی انداز میں دکھایا جانا محض فلمی آزادی نہیں بلکہ واضح پروپیگنڈا حربہ ہے، جو پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کے بڑے بیانیے کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
چوہدری اسلم نے کراچی میں دہشتگردی، بھتہ مافیا، ٹارگٹ کلرز اور گینگ وار کے خلاف تاریخی جنگ لڑی۔ انہیں کمزور دکھانا یا ان کی کردارکشی کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ خطے میں جاری نفسیاتی جنگ (Hybrid Warfare) کا ایک حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
نورین اسلم کا سخت ردِعمل نہ صرف ان کی ذاتی تکلیف کا اظہار ہے بلکہ پاکستانی معاشرے کے اس بڑے طبقے کی آواز بھی ہے جو اپنے شہدا کا احترام کرتا ہے اور بین الاقوامی میڈیا کے منفی کردار کو دیکھ کر مایوس ہوتا ہے۔
اگر پاکستان حقیقی معنوں میں اپنی سافٹ اسٹیٹ پاور کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسے پروپیگنڈا کا موثر جواب فلم، میڈیا اور قانونی پلیٹ فارمز پر دینا ہوگا۔
عوامی رائے
◼ شہریوں نے نورین اسلم کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ جھوٹی کہانیوں کے ذریعے پاکستان کے ہیروز کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
◼ سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ چوہدری اسلم کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، فلم کا مقصد نفرت پھیلانا ہے، حقیقت دکھانا نہیں۔
◼ کچھ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فلم کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کی جائے۔
◼ کئی صارفین نے کہا کہ بھارت بارہا پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہر بار ناکام رہتا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا بھارتی فلم واقعی پروپیگنڈا کا حصہ ہے؟
کیا شہید چوہدری اسلم کے خلاف ایسا مواد قانونی کارروائی کے قابل ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!
