Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

دنیا کا واحد ملک جہاں خواتین مردوں سے زیادہ کماتی ہیں،یہ حیران کن حقیقت کس خطے میں ہے؟

لیکسمبرگ نہ صرف صنفی برابری کے لحاظ سے نمایاں ہے بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں بھی شمار ہوتا ہے
دنیا کا واحد ملک جہاں خواتین مردوں سے زیادہ کماتی ہیں،یہ حیران کن حقیقت کس خطے میں ہے؟

لکسمبرگ:دنیا بھر میں خواتین اور مردوں کی تنخواہوں میں فرق ایک دیرینہ مسئلہ ہے، مگر یورپی ملک لیکسمبرگ وہ واحد ملک ہے جہاں یہ توازن الٹ چکا ہے ۔ اور خواتین اوسطاً مردوں سے زیادہ کمائی کرتی ہیں۔
یورو اسٹیٹ کی نئی رپورٹ نے عالمی سطح پر صنفی تنخواہی فرق (Gender Pay Gap) سے متعلق بحث میں ایک غیر معمولی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔

عالمی تناسب

دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں گزشتہ نصف صدی کے دوران خواتین کی ملازمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، انہوں نے سی ای او، پائلٹ، انجینیئر، سائنس دان اور دفاع سمیت ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اس کے باوجود انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق عالمی سطح پر خواتین مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 20 فیصد کم تنخواہ حاصل کرتی ہیں۔

یہ فرق ترقی یافتہ ممالک   جیسے امریکہ اور برطانیہ   میں بھی واضح طور پر برقرار ہے۔
اقتصادی طور پر بہتر مواقع اور تعلیم کے باوجود خواتین کے کم تنخواہ پانے کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔

 واحد ملک جہاں تنخواہیں مردوں سے زیادہ ملتی ہیں

غیر ملکی میڈیا اور یورو اسٹیٹ کی رپورٹ کے مطابق لیکسمبرگ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی کمائی کی شرح مردوں سے زیادہ ہے۔
یہاں جینڈر پے گیپ 0.7% خواتین کے حق میں ہے، یعنی خواتین اوسطاً مردوں سے زیادہ تنخواہ حاصل کرتی ہیں۔

یہ فرق بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر عالمی تناظر میں یہ ایک انقلابی تبدیلی ہے ۔ کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں خواتین کو کم تنخواہیں ملتی ہیں۔

لیکسمبرگ میں خواتین زیادہ کیوں کماتی ہیں؟ پالیسیوں کا اہم کردار

رپورٹ کے مطابق اس غیرمعمولی رجحان کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں:

  • صنفی بنیاد پر مضبوط اور غیر امتیازی سرکاری پالیسیاں

  • سرکاری شعبے میں خواتین کا نمایاں کردار

  • اعلیٰ سطح کی ملازمتوں تک خواتین کی رسائی

  • ورک پلیس میں مساوات کو قانونی تحفظ

لیکسمبرگ نہ صرف صنفی برابری کے لحاظ سے نمایاں ہے بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں بھی شمار ہوتا ہے، جہاں ملازمین کو بلند تنخواہیں اور بہترین مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔

لیکسمبرگ کا یہ ماڈل دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے، خصوصاً اُن ممالک کے لیے جہاں صنفی بنیاد پر تنخواہی فرق کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔
یہ واضح ہوتا ہے کہ جب ریاست مضبوط قوانین، شفاف پالیسیوں اور مؤثر نظام کے ذریعے زنانہ ملازمین کو مساوی مواقع فراہم کرے تو نتائج نہ صرف مثبت آتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر نمایاں بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ لیکسمبرگ میں خواتین کے زیادہ کمانے کا مطلب صرف تنخواہ کا فرق نہیں، بلکہ ملک کا مجموعی سماجی، تعلیمی اور معاشی ڈھانچہ بھی اس کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے دیگر ممالک بھی اسی ماڈل کو اپنا کر صنفی برابری حاصل کر پائیں گے؟ یا یہ فرق آنے والی دہائیوں تک برقرار رہے گا؟

عوامی رائے

◼ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ دنیا کو لیکسمبرگ جیسی پالیسیاں اپنانی چاہئیں تاکہ صنفی ناانصافی ختم ہو سکے۔
◼ کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نتائج پہلی بار کسی ملک میں دیکھنے کو ملے ہیں۔
◼ کچھ لوگوں کے مطابق اس فرق کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، بلکہ خواتین کو آخرکار وہ مقام ملا ہے جس کی وہ دہائیوں سے مستحق تھیں۔
◼ کئی شہری اس بحث کو مثبت سمت قرار دیتے ہیں جس سے صنفی برابری کے موضوع پر عالمی سطح پر نئی بحث جنم لے رہی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا دیگر ممالک بھی لیکسمبرگ کی طرح خواتین کو زیادہ تنخواہیں دے کر حقیقی صنفی برابری حاصل کر سکتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں