اسلام آباد:پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بار پھر واضح انداز میں الزام عائد کیا ہے کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں استعمال ہو رہی ہے اور افغان طالبان پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کرنے والے عناصر کے خلاف موثر اقدام کرنے میں ناکام ہیں۔ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ملکی اور خارجی امور کے خصوصی نکات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس وقت یورپی یونین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے چوتھے یورپی یونین انڈو پیسفک فورم میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے یورپی یونین کے سینئر عہدیداران سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیر خارجہ سے بھی خصوصی ملاقات کی جس میں طلبہ کے لیے وظائف سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈینش، سلوانین اور ڈچ وزرائے خارجہ سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
ترجمان نے بتایا کہ یورپی دورے سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 17 سے 18 نومبر ماسکو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایس سی او کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کی اور روسی صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اجلاس کے دوران افغانستان کے ساتھ تعلقات اور خطے کی معاشی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی، جس کے بعد ایس سی او نے اکنامک کوآپریشن پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں لال قلعہ بم دھماکوں کے کیس میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں جن میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق بھارتی مقبوضہ کشمیر سے بتایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مسلسل مصروف ہے، جس پر پاکستان عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بنگلا دیش کی سیاست سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ حسینہ واجد کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا بنگلا دیش کا اندرونی معاملہ ہے، کیونکہ اس ملک کا اپنا آئین اور قانون موجود ہے۔
افغانستان کے ساتھ تجارت اور بارڈر پالیسی کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردوں کی پشت پناہی اور پاکستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے عناصر کو روکنے میں ناکامی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان شہری مسلسل افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے ترک صدر کی جانب سے ثالثی کے بیان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ترک وفد کا دورہ نائب صدر کے غیر ملکی دوروں کے باعث التوا کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق کئی ممالک پاکستان کے لیے افغان ثالثی کے امکانات پر گفتگو کر چکے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کے جنگ نہ کرنے سے متعلق بیان کو پاکستان معتبر سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی کانگریس کی رپورٹ ایک تحقیقی دستاویز ہے جو اوپن سورس مواد پر مبنی ہے۔ افغانستان میں پاکستان کا سفارت خانہ کھلا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مواصلاتی چینلز فعال ہیں۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے امریکی قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر اپنا مؤقف واضح کیا جبکہ چین نے بھی اس معاملے پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اور چین کے مؤقف میں کئی نکات پر مماثلت موجود ہے۔
دفتر خارجہ کی اس بریفنگ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کئی اہم پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو۔ بارڈر پالیسی، تجارت کی معطلی اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی قیادت افغانستان حکومت کی پالیسیوں سے شدید ناخوش ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کو کنٹرول نہ کر پانا خطے کی پائیدار سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے سفارتی دورے، یورپی یونین، روس اور ترکی کے ساتھ بڑھتی ہوئی مشاورت ظاہر کرتی ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے مسئلے کو بین الاقوامی سفارتی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ ترجمان کا امریکی صدر کی یقین دہانی پر اعتماد ظاہر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے عالمی اعتماد کو اہمیت دے رہا ہے۔
عوامی رائے
◼ عوام کے ایک بڑے حصے نے افغانستان کے حوالے سے دفتر خارجہ کے بیانات کو ’’وقت کی ضرورت‘‘ قرار دیا ہے۔
◼ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
◼ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے بھارت کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
◼ کچھ لوگوں نے پاکستان کے سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افغانستان واقعی پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے؟
کیا پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
