Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سرکاری ملازمین کو دھمکیاں دینے پر الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا

وزیراعلیٰ کا اصل پیغام یہ تھا کہ انتخابات میں مداخلت ایک جرم ہے اور ایسی کارروائیوں پر سخت قانونی ایکشن ہوگا۔ترجمان
سرکاری ملازمین کو دھمکیاں دینے پر الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا

اسلام آباد:ضمنی انتخابات کے دوران سرکاری ملازمین کے حوالے سے دئیے گئے متنازع اور دھمکی آمیز بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات انتخابی عمل اور عوامی سلامتی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سہیل آفریدی کو فوری طور پر طلب کیا جائے تاکہ ان کے بیان کے انتخابی ماحول پر اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے نے این اے 18 ہری پور کے پرامن ضمنی الیکشن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے اور ووٹرز کی جان کو حقیقی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے ساتھ فوری میٹنگ کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب دونوں کو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت 21 نومبر 2025 کو طلب کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی وضاحت

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سہیل آفریدی کے ایبٹ آباد جلسے کے بیان کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ کا اصل پیغام یہ تھا کہ انتخابات میں مداخلت ایک جرم ہے اور ایسی کارروائیوں پر سخت قانونی ایکشن ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کسی سرکاری افسر یا فرد کو دھمکی نہیں دی بلکہ صرف قانون نافذ کرنے کی بات کی تھی۔
ان کے مطابق ایماندار اور فرض شناس افسران مکمل تحفظ میں ہیں جبکہ قانون توڑنے والوں ہی کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے کو ’’سیاسی پوائنٹ اسکورنگ‘‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ ضمنی انتخابات یقینی بنائے گی۔

جلسے میں دیا گیا بیان

واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے ایبٹ آباد کے جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ 23 نومبر کے ضمنی الیکشن میں دو لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوں گی۔
اس موقع پر انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر الیکشن کے دن کسی بھی قسم کی بدمزگی ہوئی تو متعلقہ افسران ’’رات تک اپنے عہدوں پر نہیں رہیں گے‘‘۔

انہی الفاظ کو الیکشن کمیشن نے دھمکی آمیز اور انتخابی ضابطوں کے خلاف قرار دے کر وزیراعلیٰ کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان میں انتخابی ماحول ابھی تک مکمل طور پر ادارہ جاتی نہیں ہو سکا۔ وزیراعلیٰ جیسے اعلیٰ عہدے پر بیٹھا کوئی شخص جب سرکاری ملازمین کے حوالے سے سخت لہجے میں بات کرتا ہے، تو اس سے انتخابی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔

اگرچہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، لیکن اس طرح کے الفاظ سیاق و سباق جو بھی ہو، انتظامی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ سرکاری مشینری کے لیے بھی غیر ضروری خوف کا باعث بنتی ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کا بروقت ایکشن مثبت علامت ہے، کیونکہ ادارے کی یہ پابندی انتخابی شفافیت کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ایسے اقدامات مستقل مزاجی سے جاری رہیں گے یا یہ فیصلہ بھی سیاسی تنازعات کا حصہ بن جائے گا۔

عوامی رائے

◼ کئی شہریوں نے الیکشن کمیشن کے اقدام کو سراہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ادارہ بالآخر اپنی رٹ قائم کر رہا ہے۔
◼ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کو ایسے حساس بیانات سے گریز کرنا چاہیے تاکہ بیوروکریسی پر دباؤ نہ بڑھے۔
◼ ایک طبقہ یہ بھی مانتا ہے کہ بیان چاہے قانونی زبان میں دیا گیا ہو، اس کا تاثر دھمکی آمیز ہی تھا۔
◼ کچھ سیاسی کارکن اسے ’’سیاسی رنگ‘‘ دینے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور اسے میڈیا کا مبالغہ قرار دے رہے ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کا بیان واقعی دھمکی تھا؟
یا یہ محض قانون کے نفاذ کی بات تھی جسے غلط رنگ دیا گیا؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں