Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان، بھارتی حکومت پریشان

پاکستان کی جانب سے فضائی پابندی کے بعد ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ہو گیا ہے
فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان، بھارتی حکومت پریشان

نیو دہلی:بھارت کے بلند دعوؤں اور جارحانہ سیاسی بیانیے کے برعکس پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری سمیت سیاسی و عسکری قیادت کی کمزوریاں آشکار کر دی ہیں۔ اس پابندی نے نہ صرف بھارتی فضائی آپریشنز پر گہرا اثر ڈالا ہے بلکہ ملک کے سب سے بڑے فضائی ادارے ایئر انڈیا کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کی پابندیوں کے بعد ایئر انڈیا کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت کے ’’آپریشن سندور‘‘ میں تاریخی ناکامی اور مہینوں سے جاری مالی خسارے نے مرکزی حکومت پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اسی پس منظر میں بھارتی حکومت کی ہچکچاہٹ اور بوکھلاہٹ واضح طور پر سامنے آ رہی ہے۔

بھارتی میڈیا چینل ریپبلک نیوز نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فضائی حدود بند کیے جانے کے نتیجے میں ایئر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس غیر معمولی مالی دھچکے کے بعد ایئر انڈیا نے سرکاری خزانے سے معاوضے کی باقاعدہ درخواست بھی دائر کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فضائی پابندی کے باعث ایئر انڈیا کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، اور چین کی فضائی حدود استعمال کرنے کیلئے بھی بھارتی حکومت سے خصوصی منظوری لینا پڑ رہی ہے۔ طویل راستوں نے نہ صرف پروازوں کے وقت میں اضافہ کیا ہے بلکہ اخراجات بھی کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے فضائی پابندی کے بعد ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ فضائی پابندی کی وجہ سے بھارتی قومی ایئر لائن کو سالانہ ساڑھے 45 کروڑ ڈالر تک کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ان پابندیوں کے باعث ایئر انڈیا کی امریکا، کینیڈا اور یورپ جانے والی پروازیں اب پہلے سے کہیں زیادہ طویل روٹس اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس کا براہِ راست اثر آپریشنل اخراجات پر پڑ رہا ہے۔ ایندھن، عملے، جہازوں کی دیکھ بھال اور شیڈولنگ کے مسائل اس نقصان میں مزید اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔

خسارہ کم کرنے کے لیے ایئر انڈیا نے چین سے سنکیانگ کی فضائی حدود کھولنے کی درخواست بھی کر دی ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی و تکنیکی سطح پر لابنگ شروع کی گئی ہے۔ تاہم چینی دفترِ خارجہ نے اس درخواست سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کی یہ کوشش بھی مطلوبہ نتائج دینے میں شاید کامیاب نہ ہو سکے۔

اس صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ علاقائی تناؤ، سفارتی کشیدگی اور فضائی پابندیاں صرف عسکری یا سیاسی چیلنج نہیں ہوتیں بلکہ ان کے معاشی اثرات طویل مدتی اور شدید ہو سکتے ہیں۔ ایئر انڈیا کا 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان صرف ایک ادارے کا مالی مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کی قومی پالیسیوں اور خطے کی جغرافیائی سیاست کا نتیجہ ہے۔

بھارتی قیادت نے جس جارحانہ حکمتِ عملی کو اپنایا، وہ اب خود اس کے لیے اقتصادی بوجھ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ فضائی حدود کی بندش ایک سفارتی دباؤ بھی ہے اور بھارت اس کا موثر توڑ تلاش کرنے میں تاحال ناکام ہے۔
اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو بھارتی ایوی ایشن سیکٹر ایک بہت بڑے بحران سے دوچار ہوسکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ایئر انڈیا پہلے ہی مالی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے۔

عوامی رائے

◼ بھارتی سوشل میڈیا پر کئی لوگ ایئر انڈیا کی جانب سے حکومت پر بوجھ ڈالنے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
◼ کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بند کرنے کا جواب بھارت کے پاس مؤثر انداز میں موجود نہیں تھا۔
◼ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق طویل روٹس نے بھارت کی فضائی مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے۔
◼ ایک طبقہ حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ فضائی تنازع کو فوری طور پر سفارتی سطح پر حل کیا جائے تاکہ نقصان مزید نہ بڑھے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا بھارت کی فضائی حکمتِ عملی درست ہے؟
کیا ایئر انڈیا کو اتنا بڑا مالی معاوضہ دیا جانا چاہیے؟
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کا فیصلہ آپ کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں