کراچی: پاکستانی شوبز کی سینئر اور بے باک اداکارہ سیمی راحیل نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں پاکستانی ایوارڈ شوز کو کھل کر "جعلی اور غیر منصفانہ” قرار دے کر انڈسٹری میں ایک زلزلہ سا پیدا کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ جب پاکستان جیسے ملک میں اصل انتخابات کے نتائج بھی شفاف نہیں ہوتے تو ایوارڈ شوز کی ووٹنگ پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ووٹنگ کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ووٹنگ کسی بھی طرح حقیقی اور معتبر نہیں ہو سکتی۔ سیمی راحیل نے مزید کہا کہ ہر شخص نے اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے اور اپنے من پسند لوگوں کو ایوارڈ دے دیتا ہے، جس سے ایسے اعزازات جعلی اور بے معنیٰ لگتے ہیں کیونکہ جن میں صلاحیت نہیں ہوتی انہیں بھی نوازا جاتا ہے۔ انہوں نے ہر چینل پر الزام عائد کیا کہ اپنی پسند کے مطابق ایوارڈز کا نظام کھڑا کیا گیا ہے جہاں تقسیم اکثر تعصب اور پسند ناپسند کی بنیاد پر ہوتی ہے اور نہ کوئی میرٹ ہے اور نہ ہی انصاف۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں مہمان کے طور پر موجود سیمی راحیل نے شوبز انڈسٹری کی اندرونی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ شوز کی ووٹنگ ایک دھوکہ ہے کیونکہ جب ملک کے بڑے انتخابات بھی شفاف نہیں تو چھوٹے ایوارڈز کی ووٹنگ کیسے سچی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکا کا مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی ووٹنگ کا عمل متاثر ہو چکا ہے، اس لیے یہ ووٹنگ کسی بھی طرح حقیقی نہیں مانی جا سکتی۔ اداکارہ نے کہا کہ ہر چینل اور پروڈکشن ہاؤس نے اپنی الگ "مسجد” بنا رکھی ہے جہاں اپنے قریبی اور من پسند فنکاروں کو ایوارڈ دے کر دوسروں کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے ایوارڈز جعلی اور بے وقعت لگتے ہیں کیونکہ جن میں ٹیلنٹ نہیں انہیں بھی اعزاز سے نواز دیا جاتا ہے جو انڈسٹری کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سیمی راحیل نے ہر چینل پر تنقید کی کہ ایوارڈز کی تقسیم میں تعصب غالب ہے اور نہ کوئی میرٹ ہے اور نہ ہی انصاف، جو شوبز کی شفافیت پر بڑا سوال اٹھاتا ہے۔
سیمی راحیل جو کئی دہائیوں سے ڈراموں اور فلموں میں اپنی اداکاری سے شہرت رکھتی ہیں، نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا جب ایوارڈ سیزن قریب آ رہا ہے اور مختلف چینلز اپنے ایوارڈ شوز کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان کا یہ انکشاف شوبز کی اندرونی سیاست اور گروپ بندی کو بے نقاب کرتا ہے جہاں ووٹنگ کو اکثر مینج کیا جاتا ہے اور حقیقی صلاحیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف نئے فنکاروں کے لیے ایک سبق ہے بلکہ ایوارڈ شوز کے منتظمین کے لیے بھی ایک چیلنج ہے جو شفافیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
سیمی راحیل کا بیان اور شوبز کی شفافیت پر اثرات
یہ بیان پاکستانی شوبز کی اندرونی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے جہاں ایوارڈ شوز کو تعصب اور پسند ناپسند کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے اور ووٹنگ کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے جو انڈسٹری کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک طرف تو انتخابات کی مثال سے موازنہ ایک طنز ہے مگر دوسری طرف یہ حقیقی مسئلہ کو اجاگر کرتا ہے کہ میرٹ کی بجائے رابطے غالب ہیں۔ سیمی راحیل کی بے باکی نئے فنکاروں کو حوصلہ دے گی مگر یہ ایوارڈ شوز کی مقبولیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ بیان شفافیت کی ضرورت کو واضح کرتا ہے جو شوبز کی بہتری کے لیے ضروری ہے ورنہ یہ جعلی اعزازات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک شدید بحث کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں کچھ صارفین سیمی راحیل کی حمایت کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایوارڈ شوز واقعی جعلی ہیں جبکہ دوسرے انہیں "تلخ” قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ انڈسٹری کا حصہ ہے۔ مجموعی طور پر اتفاق غالب ہے جو شفافیت کی طرف راغب کر رہا ہے۔
