Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

غزہ کی سرزمین پر ترک فوجی قدم نہیں رکھ سکتے،اسرائیل کی دوٹوک وارننگ

غزہ تمہیں صرف دور سے نظر آئے گی۔اسرائیلی وزیر دفاع، کارٹز کی ایردوان کے خلاف ایک بار پھر ٹویٹ
غزہ کی سرزمین پر ترک فوجی قدم نہیں رکھ سکتے،اسرائیل کی دوٹوک وارننگ

تل ابیب: مشرق وسطیٰ کی کشیدہ جغرافیائی سیاست میں ایک اور باب شامل ہو گیا ہے جہاں اسرائیل نے غزہ کی تباہ شدہ سرزمین پر ترک فوجیوں کی ممکنہ موجودگی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور وزیراعظم کے دفتر کی ترجمان شوش بیڈروسیئن نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ غزہ کی زمین پر کسی بھی حال میں ترک فوجی کا پاؤں نہیں لگے گا جو اسرائیل اور ترکی کے درمیان پرانی دشمنی کی ایک زندہ عکاسی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ بین الاقوامی امن فورس کی راہ میں ایک نئی رکاوٹ بن گئی ہے۔ یہ بیان نہ صرف تل ابیب کی سفارتی حد بندی کو واضح کرتا ہے بلکہ غزہ کی بحالی اور امن عمل کی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے جہاں امریکہ کی 20 نکاتی امن منصوبہ بندی کے تحت ایک 5 ہزار فوجیوں پر مشتمل استحکام فورس کی تشکیل کی بات ہو رہی ہے مگر اسرائیل کی شرط ہے کہ اس میں صرف ایسے ممالک شامل ہوں جو تل ابیب کی تحفظات کا احترام کریں اور ترکی جیسی ریاستوں کو خارج رکھا جائے جو صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں اسرائیل مخالف بیان بازی کا شکار رہی ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی ترجمان شوش بیڈروسیئن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس مؤقف کو مزید پختہ کیا اور کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی صورت میں ترک فوجی دستوں کو شامل کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے جو اسرائیل کی سرحدوں کی حفاظت اور علاقائی سلامتی کی نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تل ابیب نے اس سخت گیر موقف کو امریکی حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی حال میں غزہ کی پٹی میں ترک فوج کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا جو امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی حالیہ دورہ اسرائیل کے دوران سامنے آئی تناؤ کی جھلک ہے جہاں روبیو نے کہا تھا کہ استحکام فورس میں صرف ایسے ممالک شامل ہوں گے جن سے اسرائیل مطمئن ہو اور ترکی کی شمولیت تل ابیب کی ناراضی کا باعث بن سکتی ہے۔ بیڈروسیئن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل و حماس کے درمیان نازک جنگ بندی کے تحت یرغمالوں کی لاشوں کی واپسی اور انسانی امداد کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگر اسرائیل کی یہ شرط استحکام فورس کی تشکیل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے جو غزہ کی تعمیر نو اور سلامتی خلا کو پر کرنے کا ذریعہ بننے والی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے گزشتہ ماہ ہنگری میں ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ جو ممالک غزہ میں اپنی افواج بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں کم از کم اسرائیل کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنانا چاہیے جو تل ابیب کی سفارتی ترجیحات کی بنیاد ہے۔ سار نے خاص طور پر ترکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں انقرہ نے اسرائیل کے خلاف جارحانہ مؤقف اپنایا ہے جو نہ صرف سیاسی بیانات تک محدود رہا بلکہ علاقائی تنازعات کو ہوا دی ہے اس لیے اسرائیل کسی طور پر ترک فوج کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا جو دونوں ممالک کے درمیان 2010 کی میوی مرمرہ جہاز حادثے کی تلخ یادوں کو تازہ کر دیتا ہے جہاں ترک فوجی بحریہ کی تنصیبات اور اسرائیلی کمانڈوز کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ یہ تحفظات امریکی منصوبے کے تحت غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کی تجویز پر بھی مبنی ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ کی 20 نکاتی امن منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور جس کا مقصد غزہ کی تعمیر نو اور ہمس کی بحالی کو یقینی بنانا ہے مگر اسرائیل کی شرط نے انقرہ کو خارج کر دیا ہے جو ترکی کی غزہ میں انسانی امداد اور امن عمل میں کردار کی خواہش کو نظر انداز کر رہی ہے۔

اس بیان کے پس منظر میں غزہ کی صورتحال مزید تشویش ناک ہے جہاں ہمس کی طرف سے یرغمالوں کی لاشوں کی واپسی اور رافع سرحد پر سرنگوں کا تنازعہ جاری ہے اور ترکی نے امریکی مدد سے ہدار گولڈن کی لاش کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر اسرائیلی وزیر دفاع، کارٹزنے اردوان کو تنبیہ کی ہے کہ غزہ تمہیں صرف دور سے نظر آئے گی جو تل ابیب کی سفارتی جرات کا عکاس ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ استحکام فورس کا مقصد امن کی نفاذ نہیں بلکہ امن کی حفاظت ہے جو اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کی بیان شدہ تشویش کو دور کرنے کی کوشش ہے مگر اسرائیل کی ترک مخالف پالیسی نے اس فورس کی تشکیل کو علاقائی ممالک جیسے انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے لیے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری چاہتے ہیں۔

اسرائیل ترکی تناؤ اور غزہ امن عمل پر اثرات

یہ بیان اسرائیل کی غزہ امن فورس میں ترک شمولیت کی مکمل مخالفت کو ظاہر کرتا ہے جو ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو چیلنج کرتا ہے مگر یہ بھی بتاتا ہے کہ تل ابیب کی سلامتی کی ترجیحات علاقائی دشمنیوں پر فوقیت رکھتی ہیں۔ ایک طرف تو ترکی کی مدد سے یرغمالوں کی لاشوں کی واپسی جیسے اقدامات امن عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں مگر دوسری طرف اردوان کی اسرائیل مخالف بیان بازی نے انقرہ کو فورس سے خارج کر دیا ہے جو غزہ کی بحالی میں ترک کردار کو محدود کر دے گا اور امریکی منصوبے کو عرب ممالک کی طرف رجحان دے سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تناؤ ٹرمپ کی 20 نکاتی منصوبہ بندی کی کامیابی کو مشروط بناتا ہے جہاں اسرائیل کی شرطیں امن کی راہ کو تنگ کر رہی ہیں اور فلسطینی حقوق کی نظر اندازی کا خدشہ بڑھا رہی ہیں جو علاقائی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور عالمی فورمز پر ایک شدید تقسیم کا شکار ہے جہاں اسرائیلی حامی اسے سلامتی کی ضمانت قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ترک فوج کی موجودگی غزہ میں ہمس کی واپسی کو ہوا دے گی جبکہ ترک اور فلسطینی حامی اسے اسرائیلی جارحیت کی توسیع سمجھتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ کی منصوبہ بندی میں فلسطینی ریاست کی تشکیل کو ترجیح دی جائے۔ کچھ صارفین ٹرمپ کی امن کوششوں کی تعریف کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر غم و غصہ ہے کہ یہ تناؤ غزہ کی انسانی بحران کو طول دے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں