اسلام آباد/لندن/واشنگٹن (رپورٹ – غلام مرتضیٰ) مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مغربی فوجی ذرائع اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی فوجی حملے کے امکانات اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام دستیاب شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ حملہ عنقریب ہو سکتا ہے۔
مغربی فوجی حکام نے بتایا کہ غیر متوقع اور اچانک اقدامات امریکی عسکری حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے صورتحال کو جان بوجھ کر غیر واضح اور مبہم رکھا جا رہا ہے تاکہ ایران کو تیاری کا موقع نہ ملے۔ سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
برطانیہ نے ایران سے اپنا تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے اور تہران میں موجود برطانوی سفیر کو بھی فوری طور پر وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ اقدام ممکنہ فوجی کارروائی سے براہ راست منسلک سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مظاہرین پر تشدد اور پھانسیوں کے معاملے پر پہلے ہی سنگین نتائج کی دھمکی دے رکھی ہے۔ گزشتہ رات اوول آفس میں پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال میں کچھ کمی آئی ہے۔
اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملہ کچھ دنوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے کیونکہ اب تہران سے مظاہرین کی ہلاکتوں کی خبروں میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔
خطرے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسپین، پولینڈ، اٹلی، بھارت، فرانس اور دیگر کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
علاقائی سطح پر بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی ایئر بیسز سے فوجیوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔
ایران نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے اور ایران شدید جوابی کارروائی کرے گا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال 2003 کے عراق بحران سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہے، جہاں عسکری دباؤ کے ساتھ سفارتی ابہام کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کو نفسیاتی دباؤ میں رکھ کر اندرونی صورتحال پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے، جبکہ کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں خطہ طویل اور خطرناک جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو مظاہرین پر تشدد کے الزام میں نشانہ بنا رہے ہیں، دوسری طرف ایران میں جاری احتجاجات ابھی تک جاری ہیں۔ حملے کی تاخیر کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ یہ صرف حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کا سفارتی عملہ واپس بلانا اور دیگر ممالک کا اپنے شہریوں کو نکالنے کا حکم یہ واضح کرتا ہے کہ خفیہ اطلاعات میں کچھ سنگین پیش رفت ہو رہی ہے۔ اگر حملہ ہوا تو خلیج میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، عالمی معیشت پر دھچکا اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک میں بھی شدید اثرات مرتب ہوں گے۔
حکومت پاکستان کو فوری طور پر اپنے شہریوں کی واپسی کا پلان تیار کرنا چاہیے اور خطے میں امن کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں بلکہ فعال سفارت کاری کا ہے۔
اگر امریکا نے حملہ کیا تو کیا ہو گا؟
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے ایران پر فوجی حملہ کیا تو ایران کی جوابی حکمت عملی انتہائی شدید اور وسیع پیمانے پر ہو گی۔ ایرانی فوج اور سپریم لیڈر کے قریبی ذرائع کے مطابق، تہران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مکمل طور پر فعال کر رکھا ہے۔
ایران کی ممکنہ جوابی حکمت عملی کے اہم پہلو
ایرانی حکام اور فوجی تجزیہ کاروں کے بیانات اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر جوابی کارروائی کے ممکنہ عناصر یہ ہیں:
- خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کا مکمل بلاک ایران کی بحریہ اور آئی آر جی سی (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کی بحری افواج خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تیل کی ترسیل کو روک سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا کے ۲۰ فیصد تیل گزرتا ہے۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ "اگر ہمارا تیل نہیں نکل سکے گا تو کسی کا بھی نہیں نکلے گا”۔
- امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے ایران کے پاس ۳۰۰۰ سے زائد بیلسٹک میزائل ہیں جن میں سے کئی امریکی ایئر بیسز (قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق میں) کی رینج میں ہیں۔ شہاب-۳، قدر، فاتح اور خیبر شکن میزائل انتہائی درست اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
- ڈرون سوارم حملے ایران نے شہید سیریز کے ہزاروں کم قیمت ڈرون تیار کر رکھے ہیں۔ یہ ڈرون سوارم (بڑی تعداد میں ایک ساتھ حملہ) امریکی دفاعی نظام کو مغلوب کر سکتے ہیں، جیسا کہ 2019 میں سعودی آرامکو پلانٹس پر حملے میں دیکھا گیا۔
- پراکسی فورسز کا فعال ہونا ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا (حزب اللہ لبنان، حوثی یمن، حشد الشعبی عراق، حماس اور دیگر) ایک ساتھ فعال ہو سکتی ہیں۔ حزب اللہ کے پاس ۱۵۰ ہزار سے زائد میزائل ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ حوثی یمن سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے بڑھا سکتے ہیں۔
- سائبر حملے اور انفراسٹرکچر پر نشانہ ایران کی سائبر فورسز نے ماضی میں سعودی آرامکو اور امریکی بینکوں پر کامیاب حملے کیے ہیں۔ ممکنہ حملے کی صورت میں بجلی، بینک، ٹریفک اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
- جوہری پروگرام کی تیز رفتاری اگر حملہ ہوا تو ایران اپنے جوہری پروگرام کو تیز کر سکتا ہے اور چند ماہ میں ہتھیار کی سطح تک یورینیم افزودگی کا اعلان کر سکتا ہے۔
ایران کے سرکاری بیانات
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی کا کہنا تھا کہ
"اگر دشمن نے غلطی کی تو ہمارا جواب انتہائی سخت اور غیر متوقع ہو گا۔ امریکی اڈے ہمارے نشانے پر ہیں اور خطے میں کوئی بھی امریکی بحری جہاز محفوظ نہیں رہے گا۔”
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ خطاب میں کہا کہ "دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دس گنا شدید ہو گا”۔
آپ کو ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے امکانات کیسے لگ رہے ہیں؟ کیا یہ صرف دھمکی ہے یا واقعی جنگ ہونے والی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!
