Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا

احتجاجات کی شدت میں اضافہ، زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کی طرف نکلنے کا مشورہ
امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد/واشنگٹن (خصوصی رپورٹ – غلام مرتضیٰ) امریکہ نے اپنے شہریوں کو ایران سے فوری طور پر نکلنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی ورچوئل ایمبیسی ایران نے سیکیورٹی الرٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری احتجاجات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات پرتشدد ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

احتجاجات کی صورتحال اور خطرات

  • احتجاجات دسمبر 2025کے آخر سے جاری ہیں جو معاشی بحران، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی سے شروع ہوئے اور اب حکومتی نظام کے خلاف تبدیل ہو چکے ہیں۔
  • امریکی الرٹ کے مطابق گرفتاریاں، زخمی ہونے کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی، سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی اور انٹرنیٹ کی مکمل یا جزوی بندش جاری ہے۔
  • متعدد ایئرلائنز نے ایران آنے جانے والی پروازوں کو محدود یا منسوخ کر دیا ہے، کئی کمپنیاں 12 جنوری تک سروس معطل کر چکی ہیں۔

زمینی راستوں سے نکلنے کا مشورہ

امریکی ورچوئل ایمبیسی نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر محفوظ محسوس کریں تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کی طرف نکل جائیں۔

  • انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے متبادل رابطہ کے انتظامات (جیسے سیٹلائٹ فون یا دیگر ذرائع) بنائیں۔
  • امریکہ حکومت شہریوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی، لہٰذا خروج کا پلان خود تیار کریں۔

دوہری شہریت والوں کے لیے الرٹ

دوہری امریکی-ایرانی شہریت رکھنے والوں کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا اور ایسے افراد کو صرف ایرانی شہری سمجھا جاتا ہے۔

  • ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑیں۔
  • امریکی پاسپورٹ دکھانے یا امریکہ سے تعلق ظاہر کرنے پر گرفتاری کا شدید خطرہ ہے۔

موجودہ رہنے والوں کے لیے ہدایات

جو امریکی شہری ابھی ایران میں موجود ہیں انہیں تاکید کی گئی ہے کہ

  • احتجاجات اور عوامی اجتماعات سے مکمل طور پر دور رہیں۔
  • کم پروفائل رکھیں، اپنے اردگرد کا مکمل خیال رکھیں۔
    • سبب: شدید معاشی بحران، ریال کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، بے روزگاری، کرپشن، خوراک اور توانائی کی قلت
    • "خامنہ ای مردہ باد”، "ولی فقیہ کے خلاف نعرے”، "ایران کی آزادی کا مطالبہ”

    • صورتحال: ملک کے 30 سے زائد شہروں میں پھیلاؤ، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، پروازوں کی معطلی، شدید کریک ڈاؤن
      • دورانیہ: ستمبر 2022 – 2023 کے وسط
      • سبب: کرد خاتون مہسا (ژینا) امینی کی اخلاقی پولیس حراست میں موت
      • شعار: "زن، زندگی، آزادی” (Jin, Jiyan, Azadi)
      • نتیجہ: 500 سے زائد ہلاکتیں، 22 ہزار سے زیادہ گرفتاریاں، متعدد پھانسیاں
      • عالمی اثر: دنیا بھر میں احتجاج، ایران پر نئی پابندیاںخارجی ردعمل: امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری نکلنے کا حکم دیا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیامحفوظ مقامات پر رہیں، خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروریات کا ذخیرہ رکھیں۔

        ایران کی تاریخ گزشتہ چار دہائیوں میں متعدد بڑے پیمانے پر عوامی احتجاجات اور انقلابات کی گواہ رہی ہے۔ ہر احتجاج نے ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی ساخت کو متاثر کیا اور کئی بار حکومتوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ آج جب دسمبر 2025 سے جاری تازہ ترین احتجاجات شدت اختیار کر چکے ہیں، آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ایران کے احتجاجات کی تاریخی جھلک پر۔

        1. اسلامی انقلاب 1979

        • دورانیہ: 1978–1979
        • سبب: شاہ محمد رضا پہلوی کی آمریت، مغربی تہذیب کی نفاذ، معاشی عدم مساوات اور مذہبی رہنماؤں پر پابندیاں
        • قیادت: آیت اللہ روح اللہ خمینی (پیرس سے جلاوطنی میں)
        • نتیجہ: شاہ کا تختہ الٹا گیا، اسلامی جمہوریہ ایران کا قیام، 2500 سالہ بادشاہت کا خاتمہ
        • ہلاکتیں: ہزاروں (دونوں اطراف سے)

        2. 2009 کا سبز انقلاب (Green Movement)

        • دورانیہ: جون 2009
        • سبب: صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی (محمود احمدی نژاد کی دوبارہ جیت)
        • قیادت: میر حسین موسوی، مہدی کروبی، سابق صدر محمد خاتمی
        • علامت: سبز رنگ، "میں ووٹ دیا” کا نعرہ
        • نتیجہ: حکومت نے شدید کریک ڈاؤن کیا، سینکڑوں گرفتاریاں، متعدد ہلاکتیں
        • اہمیت: انقلاب کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج

        3. 2017–2018 معاشی احتجاجات

        • دورانیہ: دسمبر 2017 – جنوری 2018
        • سبب: مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، معاشی بدحالی
        • "نہ غزہ، نہ لبنان، ہماری جان صرف ایران کے لیے”

        • نتیجہ: 25 سے زائد شہروں میں پھیلاؤ، کم از کم 25 ہلاکتیں، ہزاروں گرفتاریاں

        4. 2019 تیل کی قیمتوں کے احتجاج

        • دورانیہ: نومبر 2019
        • سبب: اچانک پیٹرول کی قیمت میں 50–200 فیصد اضافہ
        • نتیجہ: ایران کی تاریخ کا سب سے خونی احتجاج، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 1500 سے زائد ہلاکتیں، انٹرنیٹ مکمل بند
        • اہمیت: حکومت نے پہلی بار اعتراف کیا کہ احتجاجات وسیع تھے

        5. مہسا امینی احتجاجات 2022–2023 (زن، زندگی، آزادی)

        • دورانیہ: ستمبر 2022 – 2023 کے وسط
        • سبب: کرد خاتون مہسا (ژینا) امینی کی اخلاقی پولیس حراست میں موت
        • شعار: "زن، زندگی، آزادی” (Jin, Jiyan, Azadi)
        • نتیجہ: 500 سے زائد ہلاکتیں، 22 ہزار سے زیادہ گرفتاریاں، متعدد پھانسیاں
        • عالمی اثر: دنیا بھر میں احتجاج، ایران پر نئی پابندیاں

صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ الرٹ محض ایک روٹین وارننگ نہیں بلکہ موجودہ حالات کی شدت کی عکاسی ہے۔ ایران میں احتجاجات اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سینکڑوں ہلاکتیں اور ہزاروں گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور پروازوں کی معطلی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

امریکہ کی طرف سے زمینی راستوں (خاص طور پر آرمینیا اور ترکی) کا مشورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فضائی راستے اب قابل اعتماد نہیں رہے۔ دوہری شہریت والوں کے لیے الرٹ انتہائی سنگین ہے کیونکہ ایران انہیں اپنے قوانین کے تحت سزا دے سکتا ہے اور سوئس ایمبیسی (جو امریکی مفادات کی نمائندگی کرتی ہے) بھی محدود مدد دے سکتی ہے۔

یہ صورتحال علاقائی تناؤ کو بھی بڑھا رہی ہے، جہاں صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی آپشنز پر غور اور ایرانی قیادت کی سخت تنقید جاری ہے۔ اگر احتجاجات جاری رہے تو ایران میں مزید خونریزی اور بین الاقوامی مداخلت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کو بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔

ایران کے احتجاجات کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دفعہ بنیادی مسائل ایک جیسے رہے ہیں: معاشی بدحالی، سیاسی آزادی کی کمی، اور مذہبی حکمرانی پر عوامی عدم اطمینان۔ 1979 کا انقلاب مذہبی تھا، مگر 2009 سے اب تک کے احتجاجات سیکولر اور نظام مخالف ہو چکے ہیں۔موجودہ احتجاجات 2019 اور 2022 سے بھی زیادہ خطرناک لگ رہے ہیں کیونکہ معاشی بحران اب ناقابل برداشت سطح پر ہے اور نوجوان نسل (جو انقلاب کے بعد پیدا ہوئی) مکمل طور پر نظام سے بیزار ہے۔ حکومت کے پاس اب صرف طاقت کا راستہ بچا ہے، مگر یہ طویل مدتی حل نہیں۔ اگر احتجاجات جاری رہے تو ایران میں یا تو ایک نیا انقلاب آ سکتا ہے یا پھر شدید فوجی کریک ڈاؤن کے ساتھ عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم ہے کیونکہ ایران میں عدم استحکام کا براہ راست اثر علاقائی سلامتی پر پڑتا ہے

آپ کو ایران میں جاری احتجاجات اور امریکی شہریوں کے لیے یہ الرٹ کیسی لگا؟ کیا یہ صورتحال مزید سنگین ہو گی؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں