Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ویسٹ انڈیز کو آخری 5 اوورز میں ریکارڈ رنز بنانے کے باوجود سنسنی خیز شکست

میچ کی بنیاد رکھتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیتی اور نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی
ویسٹ انڈیز کو آخری 5 اوورز میں ریکارڈ رنز بنانے کے باوجود سنسنی خیز شکست

آکلینڈ: کرکٹ کے مختصر ترین فارمیٹ میں ایک ایسی کہانی رقم ہوئی ہے جو فینز کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی جہاں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں آخری پانچ اوورز میں 87 رنز کا عالمی ریکارڈ قائم کیا مگر پھر بھی صرف تین رنز کی معمولی فرق سے ہار گئی اور نیوزی لینڈ نے سنسنی خیز مقابلے میں 207 رنز کا پہاڑ جیسا سکور دفاعی کر لیا۔ یہ میچ نہ صرف دونوں ٹیموں کی جارحانہ بلے بازی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کرکٹ میں آخری لمحات کس طرح سب کچھ بدل سکتے ہیں اور ایک ٹیم کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر دیں۔ ویسٹ انڈیز کی یہ ناکامی ان کی صلاحیتوں کو تو اجاگر کرتی ہے مگر ایک سبق بھی دیتی ہے کہ موقع کی قدر نہ کرنے پر کامیابی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

میچ کی بنیاد رکھتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیتی اور نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جو ایک حکمت عملی کا حصہ تھی کیونکہ آکلینڈ کی پچ بلے بازوں کے لیے موافق تھی اور وہ مخالف ٹیم کو بڑا سکور بنانے کا موقع دے کر اپنی مضبوط بیٹنگ لائن اپ پر بھروسہ کر رہے تھے۔ نیوزی لینڈ نے اس موقع کو پوری طرح سے سمیٹ لیا اور اپنی اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا جہاں ان کے مڈل آرڈر نے ستاروں کی طرح چمکا۔ مارک چیپمین نے 28 گیندوں پر 78 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی جس میں آٹھ چھکوں اور چار چوکوں کی برسات ہوئی اور انہوں نے میچ کی سمت بدل دی جس سے ان کی ٹیم 20 اوورز میں صرف پانچ وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز تک پہنچ گئی جو ایک بہت بھاری ہدف تھا اور ویسٹ انڈیز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔

اس اننگز میں ٹم رابنسن نے 39 رنز کا اہم حصہ ڈالا جو ان کی مستقل مزاجی کی علامت تھی اور انہوں نے چیپمین کے ساتھ اچھی شراکت داری نبھائی جس سے نیوزی لینڈ کا سکور تیزی سے بڑھا۔ ڈیرل مچل نے 28 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی جو ان کی ختم ہونے والے اوورز میں صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے اور انہوں نے پاور پلے کے بعد کی مشکلات کو کم کیا۔ ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ یونٹ نے بہترین کوشش کی مگر وہ مخالف ٹیم کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئی جہاں روسٹن چیز نے دو وکٹیں لے کر کچھ امید جیلی جبکہ میتھیو فورڈ، جیسن ہولڈر اور روماریو شیفرڈ نے ایک ایک وکٹ سمیٹ کر ٹیم کی کوشش کو سراہنی بنایا۔ یہ باؤلنگ کارکردگی ویسٹ انڈیز کی فیلڈنگ کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتی ہے جو انہیں مہنگا پڑ گئی۔

اب ہدف کے تعاقب کی باری آئی تو ویسٹ انڈیز نے جرات مندانہ آغاز کیا مگر ابتدائی وکٹیں گرنے سے دباؤ بڑھ گیا اور انہیں 20 اوورز میں صرف 204 رنز بنانے پڑے جو آٹھ وکٹوں کے نقصان پر ختم ہوئے اور تین رنز کی ناکامی نے ان کی محنت کو ضائع کر دیا۔ رومن پاول نے اس میچ کی سب سے یادگار اننگز کھیلی جہاں انہوں نے صرف 16 گیندوں پر 45 رنز تھوڑے جو ان کی طاقت اور ٹائمنگ کی عمدہ مثال تھی مگر بدقسمتی سے ان کی یہ کاوش ٹیم کی فتح میں تبدیل نہ ہو سکی اور وہ آخری اوورز میں سب کچھ بدلنے کی کوشش میں ناکام رہے۔ روماریو شیفرڈ نے 34 رنز بنائے جو ان کی آل راؤنڈ صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ ایلک اتھاناز کی 33 رنز کی اننگز نے ٹیم کو امید دی اور میتھیو فورڈ نے ناٹ آؤٹ 29 رنز کے ساتھ اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر یہ سب مل کر بھی ہدف کو عبور نہ کر سکے۔

نیوزی لینڈ کی باؤلنگ نے میچ کا رخ موڑ دیا جہاں ایش سودھی اور مچل سینٹنر نے تین تین وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کی بلے بازی کو توڑ دیا اور ان کی اسپن باؤلنگ نے مڈل اوورز میں کمال کا مظاہرہ کیا۔ جیکب ڈفی اور کائل جیمیسن نے ایک ایک وکٹ سمیٹ کر اپنی ٹیم کی جیت کو یقینی بنایا جو ان کی مختلف قسم کی باؤلنگ کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ کارکردگی نیوزی لینڈ کی ٹیم ورک کی طاقت تھی جو انہیں ایسی صورتحال میں بھی فتح دلاتی ہے۔

یہ میچ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی روح کو زندہ کر دیتا ہے جہاں آخری پانچ اوورز میں 87 رنز کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کی بلے بازوں کی بے باک سوچ کو اجاگر کرتا ہے مگر تین رنز کی شکست یہ سبق دیتی ہے کہ چھکوں کی برسات کے باوجود وکٹوں کا تحفظ اور درست پلاننگ ہی جیت کا راز ہے۔ رومن پاول کی اننگز ایک انفرادی شاہکار تھی جو انہیں اسٹار آف دی میچ بنا سکتی تھی مگر ٹیم کی مجموعی ناکامی ابتدائی اوورز میں سست آغاز اور فیلڈنگ کی غلطیوں کی وجہ سے ہوئی جو ویسٹ انڈیز کو مستقبل میں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے مارک چیپمین کی اننگز اور اسپنرز کی واپسی نے ثابت کیا کہ متوازن ٹیم ہی دباؤ میں کامیاب ہوتی ہے اور یہ میچ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلے کی شدت کو بڑھا دیتا ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کی طرح پھیل گئی ہے جہاں ویسٹ انڈیز کے فینز پاول کی اننگز کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ شکست ناکامی نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے اور آگے کی میچز میں وہ واپسی کریں گے جبکہ نیوزی لینڈ کے حامیوں کا خیال ہے کہ ان کی باؤلنگ نے میچ کو جیت لیا اور یہ ان کی گھر کی پچ پر برتری کا ثبوت ہے۔ کچھ ناظرین اسے ٹی ٹوئنٹی کی خوبصورتی قرار دے رہے ہیں جہاں ریکارڈز بنتے ہیں مگر جیت ایک الگ کہانی ہوتی ہے اور مجموعی طور پر یہ بحث فینز کو مزید جوش دلاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں