اسلام آباد : پاکستان کی معیشت پر ایک بار پھر بوجھ ڈالنے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی افراط زر اور روزمرہ اخراجات کی یلغار کا شکار ہیں، اور یہ اضافہ ان کی مشکلات کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنے گا۔ خزانہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور متعلقہ وزارتوں کی سفارشات کی روشنی میں یہ تبدیلی کی گئی ہے، جو بین الاقوامی تیل کی مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ اور دیگر عوامل کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ نئی ریٹس آج رات سے نافذ العمل ہو جائیں گی اور اگلے 15 دن، یعنی 1 نومبر سے 15 نومبر 2025 تک برقرار رہیں گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 43 پیسے کا اضافہ عمل میں لایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اب یہ 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل، پچھلے 15 دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت 263 روپے 2 پیسے فی لیٹر تھی، جو اب صارفین کے لیے مزید بھاری پڑے گی، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں ٹرانسپورٹ کے اخراجات پہلے ہی آسمان چھو رہے ہیں۔
اسی طرح، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 2 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے یہ اب 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ فورتی نائٹ میں اس کی قیمت 275 روپے 42 پیسے تھی، اور یہ اضافہ ٹرک ڈرائیورز، زرعی آلات کے استعمال کرنے والے کسانوں اور صنعتی شعبے کے لیے شدید دباؤ کا باعث بنے گا۔ حکومت کا یہ اقدام دوسری متواتر فورتی نائٹ ہے جہاں پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں، جو معاشی استحکام کی راہ میں ایک نئی رکاوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ اضافہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی اتارتھلگات اور امریکی روس کے تیل کی صنعت پر نافذ کیے گئے حالیہ پابندیوں کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے، جو پاکستان جیسے درآمد پر انحصار کرنے والے ملکوں کے لیے امپورٹ بل کو بڑھا رہے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی اور عالمی مارکیٹ کی عدم استحکام نے بھی اس فیصلے کو ناگزیر بنا دیا، حالانکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں صارفین کی بہتری کے لیے ضروری ہیں تاکہ ایندھن کی فراہمی میں کوئی خلل نہ پڑے۔ تاہم، یہ قدم عوام کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے، جو ان کی جیبوں پر مزید دباؤ ڈالے گا اور روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرے گا۔
مہنگائی کی لپیٹ میں پاکستان
یہ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی کمزوریوں کو مزید واضح کرتا ہے، جہاں عالمی عوامل پر انحصار کی وجہ سے مقامی معیشت بار بار جھٹکوں کا شکار ہو رہی ہے۔ حالیہ امریکی پابندیوں اور تیل کی عالمی قیمتوں کی اتارتھلگات نے امپورٹ بل کو بڑھا دیا ہے، جو افراط زر کو مزید ہوا دے گی اور ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتوں پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ حکومت کو اب متبادل توانائی ذرائع جیسے قابل تجدید وسائل پر توجہ دینی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچا جا سکے، ورنہ عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوگا جو سیاسی استحکام کو چیلنج کر سکتا ہے۔ یہ اضافہ، اگرچہ چھوٹا لگتا ہے، طویل مدتی طور پر غربت کی سطح کو بڑھا سکتا ہے اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا اور سڑکوں پر عوام کی آوازیں غم و غصے سے بھری ہوئی ہیں، جہاں ایک صارف نے لکھا کہ "اب تو پیٹرول پمپ پر پیسے بھی کم پڑ رہے ہیں، حکومت کب تک لوٹتی رہے گی؟”۔ کئی لوگ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی توقع کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ "یہ اضافہ غریبوں کی کمر توڑ دے گا”، جبکہ کچھ تجاویز دے رہے ہیں کہ "حکومت سبسڈی دے یا تیل کی درآمد کم کرے”۔ مجموعی طور پر، مایوسی غالب ہے، لیکن کچھ آوازیں معاشی اصلاحات کی امید بھی رکھتی ہیں۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!
