ممبئی بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ کترینہ کیف، جو حال ہی میں ماں بننے کی خوشخبری سنا چکی ہیں، ایک بار پھر ہنگامہ خیز خبروں کا حصہ بن گئیں جب ان کی مبینہ طور پر حاملہ ہونے کی نجی تصاویر انٹرنیٹ کی دنیا میں تیزی سے پھیل گئیں۔ یہ تصاویر، جو مبینہ طور پر ان کے ممبئی کے اپارٹمنٹ کی بالکونی میں کھینچی گئی تھیں، ایک آن لائن میڈیا پورٹل کی جانب سے شیئر کی گئیں، جس نے فوری طور پر سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف کترینہ کی ذاتی زندگی کی پردہ داری کو چیلنج کرتا ہے بلکہ مشہور ہستیوں کی پرائیویسی کے حوالے سے جاری تنازعات کو مزید ہوا بھی دیتا ہے۔
بھارتی میڈیا کی متعدد رپورٹس کے مطابق، یہ تصاویر کترینہ کو ڈھیلے سوٹ اور آرام دہ لباس میں دکھاتی ہیں، جہاں ان کی بےبی بمپ واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ اداکارہ اب تین ماہ کی حمل کی حالت میں ہیں، حالانکہ حالیہ اعلانات کے مطابق وہ ڈلیوری کی تاریخ قریب ہونے پر ہیں۔ یہ تصاویر کھینچنے والے فوٹوگرافر نے بظاہر اجازت کے بغیر زوم ان کر کے انہیں حاصل کیا، جو گھر کی بالکونی جیسے نجی مقام پر کی گئی جاسوسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ میڈیا پورٹل نے انہیں "ایکسکلوسیو” کے طور پر پیش کیا، جو فوری طور پر تنقید کی زد میں آ گیا اور پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس پوسٹ کو دیکھتے ہی شدید ردعمل کا اظہار کیا، جہاں حیرت اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ کئی صارفین نے اسے "پرائیویسی کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے ذاتی لمحات کو شیئر کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ ایک صارف نے لکھا کہ "یہ کوئی خبر نہیں، یہ جرم ہے”، جبکہ دوسرے نے کہا کہ "حمل جیسا نازک دور میں اس طرح کی درندگی ناقابل برداشت ہے”۔ یہ غم و غصہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مداح کترینہ کی خوشیوں میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی حدود کا احترام بھی کرنا چاہتے ہیں۔
اس واقعے پر بالی ووڈ کی ایک اور اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی کھل کر برہمی کا اظہار کیا، جہاں انہوں نے میڈیا پورٹل کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "تم سب مجرموں سے کم نہیں ہو”۔ سوناکشی کا یہ بیان نہ صرف کترینہ کی حمایت میں ایک مضبوط آواز ہے بلکہ انڈسٹری بھر میں پرائیویسی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اعمال شرمناک ہیں اور فوری طور پر روکے جائیں، جو دیگر اداکاراؤں کی بھی حمایت حاصل کر رہا ہے۔
یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ کترینہ کیف اور ان کے شوہر، اداکار وکی کوشل نے ستمبر 2025 میں ایک خوبصورت انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے اپنے پہلے بچے کی آمد کی خوشخبری سنائی تھی۔ اس پوسٹ میں ایک بلیک اینڈ وائٹ پولرائیڈ فوٹو تھی، جہاں کترینہ اپنی بمپ کو چھوتی دکھائی دے رہی تھیں اور وکی انہیں پیار سے تھامے ہوئے تھے۔ یہ اعلان مداحوں کے لیے ایک پیارا لمحہ تھا، جو اب اس نجی تصاویر کے وائرل ہونے سے داغدار ہو گیا ہے۔ جوڑا، جو 2021 میں راجستھان کے ایک شاندار مقام پر شادی کے بندھن میں بندھا تھا، ہمیشہ سے اپنی ذاتی زندگی کو میڈیا کی آنکھوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جو اس واقعے کو مزید افسوسناک بناتا ہے۔
اب تک نہ تو کترینہ کیف نے اور نہ ہی وکی کوشل نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان دیا ہے، جو ان کی روایتی خاموشی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، یہ سکوت مداحوں کے لیے مزید تشویش کا باعث بن رہا ہے، جو ان کی حفاظت اور پرامن ماحول کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ علیہ بھٹ جیسے دیگر اداکاراؤں کے ساتھ ہونے والے ملتی جلتی پیش رفت کی یاد دلاتا ہے، جہاں حمل کے دوران نجی تصاویر کی لیک ہونے پر بھی شدید تنقید ہوئی تھی۔
ایک مسلسل جدوجہد
یہ واقعہ بالی ووڈ کی دنیا میں پرائیویسی کے بحران کو مزید گہرا کرتا ہے، جہاں مشہور ہستیوں کی ذاتی زندگی کو میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کی بھوک کا شکار بنایا جاتا ہے۔ حمل جیسے نازک مرحلے میں ایسی خلاف ورزی نہ صرف نفسیاتی دباؤ بڑھاتی ہے بلکہ قانونی اور اخلاقی حدود کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ میڈیا پورٹلز کو "ایکسکلوسیو” کی آڑ میں جاسوسی کو فروغ دینا بند کرنا چاہیے، جبکہ سوشل میڈیا قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے مواد کی فوری بلاکنگ ممکن ہو۔ یہ کترینہ کی طرح کی اداکاراؤں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ذاتی خوشیاں بھی عوامی سامان نہیں، اور انڈسٹری کو مشترکہ طور پر پرائیویسی بل کی حمایت کرنی چاہیے۔ مجموعی طور پر، یہ تنازعہ مشہوری کی قیمت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں خوشی کی خبر بھی غم کی وجہ بن سکتی ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں مداحوں کا غم و غصہ عروج پر ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ "کترینہ کو سکون دو، یہ ان کی خوشی ہے، نہ کہ تمہاری تفریح”، جبکہ دوسرے نے پولیس ایکشن کا مطالبہ کیا کہ "یہ جرائم ہے، فوری کارروائی کرو”۔ سوناکشی کی حمایت میں ہزاروں لائکس آ رہے ہیں، اور کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ "بالی ووڈ کو پرائیویسی کی دیوار چاہیے”۔ تاہم، کچھ آوازیں یہ بھی ہیں کہ "میڈیا کی بھوک کب رکے گی؟”، جو مجموعی طور پر یکجہتی اور انصاف کی فریاد کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!
