اسلام آباد:ایک نئی طبی تحقیق نے دنیا بھر کے لوگوں کو چونکا دیا ہے، جہاں یہ انکشاف ہوا کہ روزمرہ کے وائرل انفیکشنز، جیسے کہ عام فلو، کورونا وائرس یا یہاں تک کہ ہلکا پھلکا زکام، دل کے دورے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔ یہ نتائج نہ صرف عام لوگوں کے لیے بلکہ ڈاکٹروں اور صحت کے ماہرین کے لیے بھی ایک انتباہ ہیں، کیونکہ یہ وائرس دل کی صحت پر خاموشی سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان انفیکشنز کے دوران جسم کا قدرتی دفاع ہی بعض اوقات دل کے دشمن بن جاتا ہے۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ جب جسم کسی وائرل حملے کا شکار ہوتا ہے تو مدافعتی نظام مکمل الرٹ ہو جاتا ہے، جس سے پورے جسم میں سوزش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ سوزش خون کی شریانوں کی اندرونی دیواروں کو زخمی کرتی ہے، جو atherosclerosis نامی عمل کو تیز کر دیتی ہے ۔ یعنی شریانوں میں چربی اور دیگر مادوں کا جماؤ، جو آہستہ آہستہ دل کی نالیوں کو تنگ کرتا جاتا ہے۔ یہ عمل دل کے لیے ایک خاموش قاتل کی طرح کام کرتا ہے، جو سالوں بعد اچانک حملہ کر سکتا ہے۔
مزید برآں، کچھ وائرس خون کی ساخت کو تبدیل کر کے اسے غیر معمولی طور پر گاڑھا بنا دیتے ہیں، جس سے خون میں لوتھڑے بننے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ لوتھڑا دل کی کسی اہم شریان کو بلاک کر دے تو فوری طور پر ہارٹ اٹیک کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ میکانزم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے خوفناک ہے جو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کی بلند سطح کا شکار ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بعض وائرل انفیکشنز سانس کی نالی کو متاثر کر کے جسم میں آکسیجن کی سپلائی کم کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں دل کو معمول سے زیادہ زور لگانا پڑتا ہے تاکہ تمام اعضاء کو خون پہنچایا جا سکے۔ اگر دل پہلے سے کمزور ہو یا کوئی بنیادی بیماری موجود ہو تو یہ اضافی دباؤ دل کی ناکامی یا اچانک حملے کا سبب بن سکتا ہے، جو مریض کی زندگی کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ کئی وائرس دل کے پٹھوں پر براہ راست حملہ کر سکتے ہیں، جسے طبی اصطلاح میں myocarditis کہا جاتا ہے۔ یہ حالت دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کرتی ہے، پٹھوں کو کمزور بناتی ہے اور بعض اوقات ہارٹ اٹیک جیسی شدید علامات پیدا کر دیتی ہے۔ تحقیق کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ براہ راست اثر خاص طور پر نوجوانوں اور صحت مند افراد میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جو پہلے کبھی دل کی بیماری کا شکار نہیں ہوئے۔
یہ تحقیق، جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے، دنیا بھر کے ہسپتالوں کے ڈیٹا پر مبنی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وائرل انفیکشنز کے بعد دل کے مسائل میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ فلو یا کسی وائرل بیماری کے دوران آرام کریں، پانی زیادہ پئیں اور دل کی علامات جیسے سینے میں درد یا سانس کی تنگی کو نظر انداز نہ کریں۔ ویکسینیشن، خاص طور پر فلو شاٹس، کو اس خطرے کو کم کرنے کا ایک موثر طریقہ قرار دیا گیا ہے۔
وائرل انفیکشنز اور دل کی صحت
یہ تحقیق صحت عامہ کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ روایتی خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ ہارٹ اٹیک صرف موٹاپا، تمباکو نوشی یا جینیاتی عوامل سے ہوتا ہے۔ اب وائرل انفیکشنز کو بھی ایک اہم رسک فیکٹر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں تشویشناک ہے جہاں ویکسینیشن کی شرح کم ہے اور سردیوں میں فلو کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔ یہ نتائج کووڈ-19 کے بعد کی دنیا میں مزید اہمیت رکھتے ہیں، جہاں myocarditis کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا۔ حکومتوں اور صحت اداروں کو اب فلو ویکسینیشن مہمات کو دل کی صحت کے پروگراموں سے جوڑنا چاہیے، تاکہ مستقبل میں ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ چھوٹی بیماریاں بھی بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں لوگ حیران ہیں کہ "فلو بھی دل کا دشمن؟” کئی صارفین ویکسین لینے کا عزم کر رہے ہیں، جبکہ کچھ کہہ رہے ہیں کہ "اب تو زکام بھی ڈرا رہا ہے”۔ بزرگ افراد کی طرف سے مشورے آ رہے ہیں کہ "بچوں کو فلو شاٹ ضرور لگوائیں”، اور نوجوان اپنی فٹنس روٹین شیئر کر رہے ہیں۔ تاہم، کچھ شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ "یہ تحقیق کتنی معتبر ہے؟” مجموعی طور پر، عوام میں بیداری بڑھ رہی ہے اور ڈاکٹروں سے مشورے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!
