اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بطور چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات کرنے کی سمری کی منظوری دے کر ایوان صدر ارسال کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نئی ذمہ داریاں پانچ سالہ مدت کیلئے تفویض کی گئی ہیں، جس کے بعد وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اس فیصلے کو ملکی دفاعی نظم و ضبط کو مرکزی سطح پر منظم کرنے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے تینوں اہم شعبوں بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان موثر رابطے اور یکساں حکمت عملی کو فروغ دینے کا ہدف رکھنے کا اظہار کیا گیا ہے۔
تاریخی تقرری
سمری کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو باضابطہ طور پر پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ بطور آرمی چیف بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عسکری قیادت کے ڈھانچے میں ایک اہم انتظامی تبدیلی ہے جو قومی سلامتی کے امور میں ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
ایئر چیف کی مدت میں توسیع
وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی فضائی دفاعی قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں بھی دو سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق یہ توسیع ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت کے اختتام مارچ 2026 کے بعد نافذ العمل ہوگی۔
سرکاری حکام کے مطابق فضائیہ کی قیادت میں توسیع کا مقصد جاری دفاعی منصوبوں اور تکنیکی اپ گریڈیشن کے عمل کو بغیر تعطل آگے بڑھانا ہے تاکہ فضائی دفاعی صلاحیتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
دفاعی قیادت میں استحکام کا پیغام
مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں پر ان فیصلوں کو ملکی دفاعی اداروں میں تسلسل اور پالیسی استحکام کے عکاس اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نئی تقرریوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ بین الشعبہ جاتی تعاون اور مشترکہ عسکری فیصلے مزید مربوط اور مؤثر ہوں گے، خصوصاً خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں۔
سیاسی و عسکری حلقوں کا ردعمل
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب کا قیام ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے تاکہ تینوں افواج کے درمیان مربوط کمانڈ سسٹم تشکیل دیا جا سکے۔ دفاعی حلقوں نے اس فیصلے کو کمانڈ اسٹرکچر میں بہتری کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس منصب کے قیام سے مشترکہ دفاعی حکمت عملی، وسائل کے بہتر استعمال اور تیز رفتار فیصلہ سازی کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب یہ نیا نظام عملی سطح پر بھی اتنی ہی مؤثریت کے ساتھ کام کرتا دکھائی دے جتنا اس سے توقع کی جا رہی ہے۔
عوامی رائے
عوامی سطح پر اس اعلان کو ملک کے دفاعی نظم و ضبط میں مزید مضبوطی کا عندیہ سمجھا جا رہا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ایک مرکزی عسکری قیادت قومی سلامتی کے امور میں تیزی اور ہم آہنگی پیدا کرے گی، جبکہ کچھ حلقے اس تقرری کو مزید شفافیت اور جواب دہی کے تقاضوں کے ساتھ جوڑنے پر زور دے رہے ہیں۔
آپ کی رائے؟
کیا چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو مؤثر بنانے میں مثبت کردار ادا کرے گا?
