Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ توسیع ان کی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد 19 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہو گی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد : پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آ گئی ہے جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو باضابطہ طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کی جانب سے یہ اعلامیہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بطور چیف آف آرمی اسٹاف اپنی ذمہ داریاں برقرار رکھتے ہوئے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب پر تعینات کیا گیا ہے۔ اُن کی تقرری کی مدت پانچ برس مقرر کی گئی ہے۔

تقرری کا باضابطہ عمل مکمل

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی جانے والی سمری پر دستخط کرتے ہوئے اس تعیناتی کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔ اس منظوری کے فوراً بعد وزارت دفاع نے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے ساتھ ہی کمانڈ اسٹرکچر میں نئے عہدے کی تشکیل کو عملی حیثیت حاصل ہو گئی۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بطور آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات کرنے کی سمری پر دستخط کر کے صدر مملکت کو ارسال کی تھی، جسے آئینی طریقہ کار کے مطابق منظور کر لیا گیا۔

ایئر چیف کے لیے توسیع کی منظوری

صدر مملکت نے اسی سمری کے ذریعے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع کی بھی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ توسیع ان کی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد 19 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہو گی۔

فضائیہ کی قیادت میں تسلسل کو خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور جاری دفاعی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

دفاعی قیادت میں نئی ترتیب

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری سے ملکی عسکری انتظامی نظام میں تینوں افواج  ، بری، بحری اور فضائی   کے مابین مربوط کمانڈ کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

دفاعی مبصرین کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں ایک دیرینہ خلا کو پُر کرتا ہے، جس کا مقصد عسکری پالیسی میکنگ میں ہم آہنگی، وسائل کے بہتر استعمال اور بحران کے وقت تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنانا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا تاریخی پسِ منظر

پاکستان کی فوجی و دفاعی تاریخ میں ۴ دسمبر 2025 کا دن ایک سنہری باب کی طرح لکھا جائے گا کیونکہ اس روز پہلی بار ملک کو ایک ایسا چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) ملا جو تینوں مسلح افواج؛ بری، بحری اور فضائیہ کا مشترکہ سربراہ ہو گا۔ یہ تبدیلی اچانک یا حادثاتی نہیں بلکہ کئی برسوں کی طویل فوجی، سیاسی اور قانون سازی اور جیو اسٹریٹجک مجبوریوں کا نتیجہ ہے۔

 آغازِ فکر

جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں ہی پاک فوج کے اندر یہ بحث شروع ہوئی کہ جدید جنگ اب صرف زمینی لڑائی نہیں رہی بلکہ سائبر، خلائی، ڈرون اور مشترکہ آپریشنز (Jointness) کا دور ہے۔ نیٹو، بھارت، چین اور امریکہ سمیت دنیا کی بڑیڑہ اٹھنے والی فوجیں کئی عشروں سے Joint Forces Command یا CDF جیسا عہدہ رکھتی ہیں۔ پاک فوج نے 2018 میں پہلی بار Rawalpindi میں ایک خفیہ ورکشاپ منعقد کی جس میں تینوں سروسز کے سربراہوں نے مشترکہ کمان ڈھانچے پر غور شروع کیا۔

 جنرل باجوہ کی سفارشات اور "آفیشل سیکرٹ ایکٹ” ترمیم (2023)

اگست 2023 میں جنرل قمر باجوہ نے ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل وزیراعظم آفس اور قومی سلامتی کمیٹی کو ایک خفیہ رپورٹ جمع کرائی جس میں واضح طور پر لکھا تھا“اگر پاکستان کو2030 تک ایک جدید، مربوط اور تیز ردعمل والی فوج بننا ہے تو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ ناگزیر ہے۔”

اسی سال آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے قانون سازی کا راستہ کھول دیا گیا۔

 عاصم منیر کا دور اور تیزی

نومبر 2022 میں آرمی چیف بننے کے بعد جنرل عاصم منیر نے اس تجویز کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے اپنا ذاتی مشن بنا لیا۔

  • 2022 کے وسط میں انہوں نے خود تینوں سروس چیفس کے ساتھ بند کمرے کی میراتھن میٹنگز کیں۔
  • ستمب2025میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر Pakistan Armed Forces (Reorganization and Modernization) Act 2025 پاس کیا جس کے تحت
    • چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق ہوا
    • یہ عہدہ آرمی چیف ہی کو دیا جائے گا
    • مدتِ ملازمت ۵ سال (توسیع کے ساتھ)
    • CDF کو تینوں افواج کے آپریشنل کنٹرول، بجٹ ترجیحات اور مشترکہ تربیت کا مکمل اختیار

 فیلڈ مارشل کا خطاب

۲۸ نومبر 2025 کو فیلڈ مارشل کے خطاب کا اعلان دراصل اس بات کا اشارہ تھا کہ اب عاصم منیر کوئی عام آرمی چیف نہیں رہے بلکہ ایوب خان (۱۹۶۵) اور یحییٰ خان کے بعد تیسرے پاکستانی فیلڈ مارشل ہیں۔ یہ خطاب ان کی نئی ذمہ داریوں سے پہلے ایک سیاسی اور علامتی تیاری تھی۔

حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن

4 دسمبر 2025 کو صدر مملکت کی منظوری اور وزارتِ دفاع کے نوٹیفکیشن نے اس طویل سفر کو مکمل کر دیا۔

یہ تعیناتی محض ایک فرد کی ترقی نہیں بلکہ پاکستانی فوج کے ۷۷ سالہ سفر میں سب سے بڑی اداراتی تبدیلی ہے۔ اب پاک فوج کا ڈھانچہ امریکی، برطانیہ، بھارت اور چین جیسا ہو گیا ہے جہاں ایک شخص تینوں افواج کا آپریشنل سربراہ ہوتا ہے۔

یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ پاکستان اب علاقائی طاقتور مقابلے، ہائبرڈ وارفیئر اور ۲۱ویں صدی کے جنگی تقاضوں کے لیے خود کو مکمل طور پر تیار کر رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج جو فیصلہ ہوا، اس کی گونج آنے والی نسلیں سنيں گی۔

قومی سطح پر ردعمل

اس فیصلے کے بعد سیاسی، دفاعی اور عوامی حلقوں میں اس اقدام کو پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تقرری کے بعد مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی اور عسکری سفارت کاری میں بھی مزید استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری پاکستان کے عسکری کمانڈ سسٹم میں ایک بڑی اصلاح سمجھی جا رہی ہے۔ یہ نیا عہدہ افواج کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں فوری اور یکساں ردِعمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ تاہم اس ڈھانچے کی کامیابی کا انحصار عملی سطح پر بین الفورس ہم آہنگی، شفاف فیصلہ سازی اور جمہوری نگرانی کے مؤثر نظام پر ہو گا۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر زیادہ تر شہری اس تقرری کو قومی دفاع کیلئے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے والے متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ ایک مرکزی دفاعی کمان خطے میں بدلتے خطرات کے مقابلے میں پاکستان کی صلاحیت کو مضبوط کرے گی، جبکہ کچھ حلقے شفافیت اور سویلین نگرانی کو مزید مستحکم بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

آپ کی رائے؟

کیا چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب کا قیام پاکستان کے دفاعی نظم و ضبط کو مضبوط بنائے گا اور قومی سلامتی کو مزید مستحکم کر سکے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں