Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سپریم کورٹ میں دلچسپ مکالمہ،ہمارے پاس تو ویسے بھی کھونے کو کچھ نہیں بچا

جسٹس ہاشم کاکڑ کے ہلکے پھلکے ریمارکس پر کمرۂ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا
سپریم کورٹ میں دلچسپ مکالمہ،ہمارے پاس تو ویسے بھی کھونے کو کچھ نہیں بچا

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی عدالت نمبر 3 میں ایک عام سی اپیل کی سماعت کے دوران اچانک ایسا منظر بنا کہ سنجیدگی قہقہوں میں ڈھل گئی۔ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ فیصل آباد کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے ایک پولیس افسر کے خلاف دی گئی سخت آبزرویشنز کی اپیل پر سماعت کر رہا تھا جب ڈی آئی جی اسلام آباد ہیڈ کوارٹر ملک جمیل ظفر اپنے وکیل شاہ خاور کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

شاہ خاور نے بتایا کہ ان کے موکل اس وقت فیصل آباد میں ایس پی تھے اور ٹرائل کورٹ نے گواہان پیش نہ کرنے پر سخت ریمارکس دیے تھے، جنہیں لاہور ہائی کورٹ نے چیمبر میں سنتے ہوئے برقرار رکھا تھا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے فوراً ریمارکس دیے کہ "صرف لوگوں کو جیل میں ڈالنا ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا، گواہان کو عدالت میں پیش بھی کرنا پڑتا ہے، جج صاحب خود تو گھر گھر جا کر گواہ نہیں لا سکتے۔”

بس پھر کیا تھا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ڈی آئی جی کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے پوچھا، "شاہ خاور صاحب، یہ جو آپ کے ساتھ کھڑا ہے، یہی ڈی آئی جی ہیں نا؟” شاہ خاور نے فوراً جواب دیا، "جی مائی لارڈ، یہی ہیں۔”

جسٹس کاکڑ نے مزاحیہ مگر چبھتے ہوئے لہجے میں کہا،
"ذرا دیکھیں تو اسے  ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ ہمارے پاس تو اب کھونے کو ویسے بھی کچھ باقی نہیں!”

یہ بات سنتے ہی عدالت میں زبردست قہقہے گونجنے لگے۔ وکیل، عملہ اور پورا ہال ہنسی میں ڈوب گیا۔ ڈی آئی جی ملک جمیل ظفر بھی اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکے۔

بعد ازاں عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا چیمبر فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل بحال کر دی اور ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ دو ماہ میں میرٹ پر کیس سن کر فیصلہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز کو چیمبر میں برقرار رکھنا درست نہیں تھا۔

ایک جملے میں عدلیہ کی بے باکی اور موجودہ حالات کی عکاسی

جسٹس ہاشم کاکڑ کا یہ طنزیہ جملہ محض ہلکا پھلکا مذاق نہیں تھا؛ یہ عدلیہ کے ایک حصے کی موجودہ نفسیاتی کیفیت اور ادارے پر عائد دباؤ کی گہری عکاسی کرتا ہے۔ "کھونے کو کچھ نہیں بچا” کا فقرہ عدلیہ کی آزادی، وقار اور خودمختاری کے حوالے سے جاری کشمکش کی علامت بن گیا ہے۔ ایک طرف تو یہ ریمارکس کمرہ عدالت میں موجود پولیس افسر کے "دباؤ” پر ہلکا سا طنز تھا، دوسری طرف یہ عدلیہ کے ان ججز کی آواز تھی جو سمجھتے ہیں کہ اب ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، سوائے اصولوں کے۔ یہ جملہ نہ صرف وائرل ہو گیا بلکہ موجودہ عدلیاتی بحران کی ایک نئی علامت بن گیا ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک طرف تو قہقہوں بھری تعریفوں سے بھری پڑی ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ "جسٹس کاکڑ نے دل کی بات کہہ دی”، "یہ جج صاحب تو دل کے سچے ہیں”، جبکہ دوسری طرف کچھ صارفین اسے عدلیہ کی بے بسی کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ وکلاء برادری میں بھی یہ ریمارکس موضوعِ بحث ہیں، بہت سے وکلاء اسکو "عدلیہ کی ہمت اور بے باکی” قرار دے رہے ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا عدالتوں میں اس طرح کے دوستانہ اور ہلکے پھلکے لمحات ججوں کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں؟
یا عدالتی ماحول کو مکمل طور پر سنجیدہ رہنا چاہیے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں