Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

وفاقی آئینی عدالت کا قیام: جسٹس امین الدین خان نے بحیثیت سربراہ حلف اٹھا لیا

اسلام آباد میں تاریخی تقریب ہوئی، آئینی عدالت کے تین ججز نے بھی عہدے کا حلف لیا
وفاقی آئینی عدالت کا قیام: جسٹس امین الدین خان نے بحیثیت سربراہ حلف اٹھا لیا

اسلام آباد: پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نئی باب کا اضافہ ہو گیا ہے جہاں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد وفاقی آئینی عدالت کے پہلے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے حلف اٹھا لیا جو ملک کے عدالتی ڈھانچے میں ایک انقلابی تبدیلی کی علامت ہے اور اس کے ساتھ ہی عدالت کے تین ججز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس امین الدین خان سے حلف لیا جو نئی عدالت کے فوری طور پر فعال ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حلف برداری کی یہ دونوں تقاریب نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اور فوجی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنیں جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ساحر شمشاد، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی جو آئینی استحکام کی ایک مشترکہ تصویر پیش کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان اسلام آباد ہائی کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں بیٹھیں گے جبکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو روم نمبر دو منتقل کر دیا جائے گا جو عدالتی انتظامات کی نئی ترتیب کی عکاسی کرتا ہے۔

ایوان صدر میں منعقد ہونے والی حلف برداری کی تقریب ایک شاندار اور پروٹوکول سے بھرپور ماحول میں ہوئی جہاں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین خان، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری اکٹھے ہال میں داخل ہوئے جو عدلیہ، ایگزیکٹو اور لیجسلیچر کی ہم آہنگی کی علامت تھی۔ اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ساحر شمشاد بھی اکٹھے تشریف لائے جو فوج کی اعلیٰ قیادت کی شرکت کو اجاگر کرتے ہیں۔ تقریب میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم بھی موجود تھیں جو قانونی برادری کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ تقریب 27ویں ترمیم کے نفاذ کی پہلی رسمی شکل تھی جو وفاقی آئینی عدالت کے قیام کو عملی جامہ پہناتی ہے اور عدالتی کیسز کی تقسیم کو نئی شکل دے گی۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ بلڈنگ میں وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جہاں چیف جسٹس امین الدین خان نے خود جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی سے حلف لیا جو نئی عدالت کی فوری فعالیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اسٹیج پر موجود تھے جبکہ ججز ارباب طاہر، خادم سومرو، محمد اعظم خان، محمد آصف اور انعام امین منہاس بھی شریک ہوئے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، لا افسران، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ بھی موجود تھے جو قانونی کمیونٹی کی شرکت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم ہائی کورٹ کے کچھ ججز جیسے محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، اعجاز اسحاق خان، بابر ستار اور ثمن رفعت امتیاز تقریب میں شریک نہ ہوئے جو عدالتی حلقوں میں خاموش احتجاج کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔

یہ دونوں تقاریب 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی پہلی رسمی پیش رفت ہیں جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کیسز کی تقسیم کو نئی شکل دے گی اور آئینی معاملات پر خصوصی توجہ دے گی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی قیادت میں یہ عدالت صوبائی نمائندگی اور عدالتی توازن کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے جو ملک کے عدالتی نظام کو مزید منظم اور موثر بنانے کا دعویٰ رکھتی ہے۔

 وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور عدالتی ڈھانچے پر اثرات

یہ حلف برداریاں 27ویں ترمیم کے نفاذ کی پہلی کامیابی ہیں جو عدالتی کیسز کی تقسیم اور آئینی معاملات کی جلد سماعت کو ممکن بنائیں گی مگر کچھ ججز کی عدم شرکت خاموش احتجاج کی علامت ہے جو عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھاتی ہے۔ ایک طرف تو فوج، حکومت اور عدلیہ کے سربراہان کی مشترکہ شرکت آئینی استحکام کی تصویر پیش کرتی ہے مگر دوسری طرف کورٹ رومز کی منتقلی اور ججز کی عدم شرکت عدالتی مزاحمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی قیادت میں عدالت کی فعالیت عدالتی بوجھ کم کر سکتی ہے مگر اس کی کامیابی ججز کی قبولیت اور کیسز کی شفاف تقسیم پر منحصر ہوگی ورنہ یہ عدالتی بحران کو گہرا کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ قیام عدالتی اصلاحات کی طرف قدم ہے مگر اس کی قبولیت سیاسی اور عدالتی حلقوں میں تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک ملا جلا ردعمل کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں حکومتی حامی اسے آئینی استحکام کی فتح قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ نئی عدالت کیسز کی جلد سماعت لائے گی جبکہ اپوزیشن حامی اور وکلا برادری اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کہہ رہے ہیں اور کچھ ججز کی عدم شرکت کی تعریف کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر بحث عدالتی آزادی اور اصلاحات کی ہے جو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا وفاقی آئینی عدالت کا قیام پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے مثبت قدم ہے؟
کیا یہ عدلیہ کی آزادی کو مضبوط کرے گا یا نئے تنازعات کو جنم دے گا؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں