پٹنہ: بھارت کی سیاسی تاریخ میں ایک اور اہم موڑ آ گیا ہے جہاں غریب ترین ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج نے نریندر مودی کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو واضح برتری دلا دی ہے اور 243 رکنی اسمبلی میں اتحاد 199 نشستوں پر سبقت حاصل کر چکا ہے جو حکومت سازی کے لیے درکار 122 نشستوں سے کہیں زیادہ ہے اور نتیش کمار کی مسلسل پانچویں مدت وزیر اعلیٰ کے امکان کو روشن کر رہا ہے۔ یہ نتائج نہ صرف بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن کو محض 50 نشستوں تک محدود کر کے ایک بڑا سیاسی دھچکا دے رہے ہیں جہاں کانگریس جیسی بڑی جماعت صرف 7 نشستوں پر جدوجہد کر رہی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق بی جے پی خود 84 نشستوں پر آگے ہے، نتیش کمار کی جنتا دل (یونائیٹڈ) 78 نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں ہے جبکہ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی 22 نشستوں پر برتری حاصل کر چکی ہے جو اتحاد کی مجموعی طاقت کو ظاہر کرتا ہے اور بہار کی سیاست میں مودی کی گرفت کو مزید مستحکم بنا رہا ہے۔
بہار جو 13 کروڑ آبادی والی ریاست ہے اور غربت، بے روزگاری اور ترقی کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے، وہاں بی جے پی نے اپنی مہم کو انہی مسائل کی بنیاد پر چلایا اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر میں 8 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر کے عوام کو اپنی طرف کیا جو اب نتائج میں نظر آ رہا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتخاب سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ این ڈی اے 160 سے زائد نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گا جو ابتدائی رجحانات سے بھی زیادہ بہتر نظر آ رہا ہے اور یونین منسٹر گری راج سنگھ نے برتری کے بعد اعلان کیا کہ بہار کی کامیابی کے بعد اگلا ہدف مغربی بنگال ہوگا جو بی جے پی کی توسیع پسندی کی نئی حکمت عملی کی جھلک دکھاتا ہے۔ یہ نتائج نتیش کمار کی سیاسی بقا کی ضمانت بھی ہیں جو مسلسل پانچویں بار وزیر اعلیٰ بننے کے قریب ہیں اور ان کی جنتا دل (یو) کی 78 نشستوں کی برتری اتحاد کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے جبکہ چراغ پاسوان کی پارٹی کی کارکردگی بھی اتحاد کو مضبوط بنا رہی ہے۔
اپوزیشن کا مہاگٹھ بندھن جو آر جے ڈی، کانگریس اور دیگر جماعتوں پر مشتمل ہے وہ صرف 50 نشستوں پر جدوجہد کر رہا ہے جو ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے اور کانگریس کی صرف 7 نشستوں کی برتری اپوزیشن کی کمزوری کو اجاگر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر این ڈی اے کو یہ کامیابی ملتی ہے تو یہ بی جے پی کے لیے دیگر اہم ریاستوں جیسے مغربی بنگال اور اڑیسہ میں راستہ ہموار کرے گی جہاں پارٹی اپنی توسیع کی کوشش کر رہی ہے اور بہار کی جیت مودی کی قیادت کو مزید مضبوط کرے گی جو 2029 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری کا حصہ ہے۔ بہار کی سیاست جو ہمیشہ سے اتحادوں اور تبدیلیوں کی آماجگاہ رہی ہے یہاں نتیش کمار کی واپسی اور بی جے پی کی برتری ایک نئی کہانی لکھ رہی ہے جو بھارتی سیاست کے نقشے کو تبدیل کر سکتی ہے۔
بہار انتخابات میں این ڈی اے کی برتری اور بھارتی سیاست پر اثرات
یہ ابتدائی نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مشینری کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں جو نتیش کمار جیسے علاقائی لیڈرز کی مدد سے غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوئی ہے مگر اپوزیشن کی ناکامی راہول گاندھی اور تیجسوی یادو کی قیادت پر سوال اٹھاتی ہے۔ ایک طرف تو 199 نشستوں کی برتری دو تہائی اکثریت سے زیادہ ہے جو حکومت سازی کو آسان بنائے گی مگر دوسری طرف کانگریس کی صرف 7 نشستیں مہاگٹھ بندھن کی کمزوری کو اجاگر کرتی ہیں جو بی جے پی کی توسیع پسندی کو ہوا دے گی۔ امیت شاہ کا مغربی بنگال کا ہدف اور گری راج سنگھ کا بیان بی جے پی کی قومی سطح پر توسیع کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جو 2029 کے انتخابات کی تیاری ہے۔ مجموعی طور پر یہ نتائج مودی کی قیادت کو مضبوط کریں گے مگر بہار کی غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل اب بھی چیلنج ہیں جو نئی حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہوں گے ورنہ یہ کامیابی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک جوشیلے جشن کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں بی جے پی حامی اسے مودی کی جیت قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ نتیش کمار کی واپسی اور چراغ پاسوان کی کارکردگی اتحاد کی طاقت ہے جبکہ اپوزیشن حامی تیجسوی یادو کی جدوجہد کی تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ حتمی نتائج ابھی باقی ہیں۔ کچھ صارفین بہار کی غربت پر تنقید کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر بی جے پی کی برتری کی خوشی غالب ہے جو بھارتی سیاست کی نئی سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا این ڈی اے کی برتری واقعی عوامی رائے کی ترجمانی کرتی ہے؟
کیا نتیش کمار ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کے منصب پر برقرار رہیں گے؟
یا یہ نتیجہ بہار کی سیاست کا نیا رخ متعین کرے گا؟
اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔
