Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

مالدیپ میں 2006 کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگا دی گئی

یہ پابندی ہمیشہ کے لیے ہے، اور آنے والے برسوں میں جیسے جیسے یہ نسل جوان ہوگی، تمباکو کی طلب خود بخود ختم ہوتی چلی جائے گی۔
مالدیپ میں 2006 کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگا دی گئی

مالدیپ نے صحت کے تحفظ اور نوجوان نسل کو تمباکو کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ایک انقلابی قانون نافذ کر دیا ہے۔ اس قانون کے تحت 1 جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو ملک میں سگریٹ، تمباکو، یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات استعمال کرنے، خریدنے یا فروخت کرنے سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔

یہ قانون باضابطہ طور پر رواں ماہ نافذ العمل ہو گیا ہے اور اسے جنوبی ایشیائی خطے میں صحت کے شعبے کی اہم ترین پالیسی اصلاحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو تمباکو کی عادت سے ہمیشہ کے لیے دور رکھنا اور مستقبل میں ایک تمباکو فری سوسائٹی قائم کرنا ہے۔

سرکاری رپورٹوں کے مطابق، حکومت نے واضح کیا ہے کہ 1 جنوری 2007 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو کبھی بھی قانونی طور پر تمباکو مصنوعات مہیا نہیں کی جائیں گی۔ یعنی یہ پابندی ہمیشہ کے لیے ہے، اور آنے والے برسوں میں جیسے جیسے یہ نسل جوان ہوگی، تمباکو کی طلب خود بخود ختم ہوتی چلی جائے گی۔

یہ قانون نہ صرف مالدیپ کے شہریوں پر لاگو ہوتا ہے بلکہ ملک میں آنے والے سیاحوں اور غیر ملکی زائرین پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔ اس طرح یہ قانون مقامی سطح سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی زائرین کے لیے بھی ایک مثال بن گیا ہے۔

حکومت نے اس پالیسی کے نفاذ کے لیے واضح ضوابط طے کیے ہیں جن کے تحت تمباکو فروخت کرنے والے ریٹیلرز پر یہ قانونی ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ ہر خریدار کی عمر یا پیدائش کی تاریخ کی تصدیق کریں۔ اگر کوئی دکاندار قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اسے بھاری جرمانے اور لائسنس منسوخی جیسے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مالدیپ نے اس کے ساتھ ساتھ ای-سگریٹ، ویپنگ ڈیوائسز، اور دیگر الیکٹرانک تمباکو مصنوعات پر بھی سخت پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ویپنگ اور ای-سگریٹ کے استعمال سے نوجوان نسل تیزی سے متاثر ہو رہی تھی، اس لیے اس کے تدارک کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے۔

صحت کے ماہرین نے مالدیپ کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے مثالی قانون سازی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندوں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون تمباکو کی وبا کے خلاف ایک مضبوط پیغام دیتا ہے۔

مالدیپ کا یہ فیصلہ بلاشبہ صحت عامہ کے میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ دنیا کے کئی ممالک تمباکو نوشی کے خلاف قوانین تو رکھتے ہیں، مگر اس انداز میں نسلی بنیاد پر مستقل پابندی عائد کرنا ایک منفرد قدم ہے۔ یہ پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ مالدیپ کی حکومت نہ صرف حال بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس قانون سے ملک میں تمباکو کی فروخت میں نمایاں کمی متوقع ہے اور یہ عالمی سطح پر تمباکو کے خاتمے کی مہم کو نئی تقویت دے سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کو اس بات پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ بلیک مارکیٹ یا غیر قانونی ذرائع سے تمباکو کی خرید و فروخت کا سلسلہ نہ بڑھے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر اس فیصلے کو بڑی حد تک مثبت ردعمل ملا ہے۔ نوجوان طبقے نے سوشل میڈیا پر اس قانون کو “زندگی بچانے والا فیصلہ” قرار دیا ہے، جبکہ والدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے محفوظ رکھے گا۔ البتہ کچھ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون سے سیاحت متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ کئی غیر ملکی سیاح سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ تاہم اکثریت کی رائے یہی ہے کہ انسانی صحت کسی بھی عیش و آرام سے زیادہ قیمتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ مالدیپ نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے صاف، صحت مند اور تمباکو سے پاک ماحول فراہم کرے گا۔

اب آپ بتائیں کہ مالدیپ کے اس تاریخی فیصلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور لکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں