Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی میں پاور شیئرنگ فارمولا طے، سیاسی بحران میں بڑی پیشرفت

مذاکرات میں طے پایا کہ پنجاب حکومت کے مختلف محکموں میں پیپلز پارٹی کو مناسب شیئر اور نمائندگی دی جائے گی
پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی میں پاور شیئرنگ فارمولا طے، سیاسی بحران میں بڑی پیشرفت

 لاہور :پنجاب کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پنجاب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولے پر اہم اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔ یہ پیش رفت صوبائی سطح پر جاری مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے جن میں دونوں جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بالآخر ختم کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت نے پیپلز پارٹی کے تمام تحفظات دور کر دیے ہیں جس کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری کشیدگی کم ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے 30 ارکانِ اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کے حلقوں میں ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے، جو پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا مطالبہ تھا۔

ان مذاکرات میں طے پایا کہ پنجاب حکومت کے مختلف محکموں میں پیپلز پارٹی کو مناسب شیئر اور نمائندگی دی جائے گی۔ اس ضمن میں محکمہ قانون میں لا آفیسرز کی بھرتیوں میں بھی پیپلز پارٹی کو حصہ دینے کا فیصلہ متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد دونوں جماعتوں کے تعلقات میں واضح بہتری آنے کی توقع ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں میں پیپلز پارٹی کے اراکینِ صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو بھی شامل کرنے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے تاکہ انہیں مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں میں کردار دیا جا سکے۔ اس فیصلے سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں بھی اعتماد بحال ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں پیپلز پارٹی نے پنجاب حکومت سے گلہ کیا تھا کہ اتحادی ہونے کے باوجود ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہیں اور انہیں سرکاری سطح پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان تحفظات کے پیش نظر ن لیگ کی قیادت نے مصالحتی عمل شروع کیا جس کے نتیجے میں اب دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے کم ہو گئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ پنجاب میں سیاسی استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے سے حکومتی نظام مضبوط ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی آئے گی۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق قیادت اب یہ توقع رکھتی ہے کہ معاہدے کے بعد عملی اقدامات جلد شروع کیے جائیں گے اور ان کے نمائندوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں بھرپور نمائندگی ملے گی۔ ن لیگ کے حلقوں میں بھی اس پیش رفت کو سیاسی ہم آہنگی کی کامیاب مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت پنجاب کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعتماد کی بحالی حکومت کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اختلافات کے باوجود مکالمے کے ذریعے حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ وعدے عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے ہیں یا محض وقتی سیاسی مصلحت کے تحت کیے گئے ہیں۔ اگر ان معاہدوں پر مکمل عملدرآمد ہوا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ مرکز کی سیاست پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس خبر کو ملے جلے ردعمل کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی بلوغت کی علامت ہے کہ دونوں جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر عوامی مفاد کے لیے متحد ہو رہی ہیں۔ جبکہ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ “پاور شیئرنگ” عوامی خدمت نہیں بلکہ سیاسی مفاد پرستی کا نیا باب ہے۔ عوام کا مؤقف ہے کہ اگر اس سمجھوتے سے حقیقی ترقیاتی کام ہوتے ہیں تو یہ مثبت قدم ہے ورنہ یہ صرف اقتدار کی سیاست ہے۔

یہ بریک تھرو یقیناً پنجاب کے سیاسی منظرنامے میں نئی حرارت پیدا کرے گا اور آئندہ چند دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آئیں گے۔

اب آپ بتائیں اس سیاسی معاہدے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور لکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں