Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستان میں بہتری کے آثار واضح، ملک اب تیز ترقی کی طرف بڑھے گا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

ایوان صدر میں غیر رسمی گفتگو، صحافیوں سے ملاقات کے دوران ملکی حالات پر مثبت اظہارِ خیال
پاکستان میں بہتری کے آثار واضح، ملک اب تیز ترقی کی طرف بڑھے گا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

اسلام آباد : پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملکی مستقبل کے حوالے سے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے حالات واضح طور پر بہتری کی سمت جا رہے ہیں اور اب پاکستان ترقی کی نئی بلندیوں کی طرف پیش قدمی کرے گا۔ انہوں نے یہ بات ایوان صدر اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔

یہ ملاقات اس موقع پر ہوئی جب صدر مملکت آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر صدر ژپاروف کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات جاری تھی۔ اسی دوران مختصر بات چیت میں فیلڈ مارشل نے موجودہ صورتحال پر اظہارِ خیال کیا۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ملک کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور اب مسائل کے حل اور ترقی کی سمت میں عملی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات میں بہتری کے آثار واضح ہیں اور تمام مثبت تبدیلیاں سب کے سامنے آنا شروع ہو چکی ہیں۔

ان کے مطابق حالات میں بہتری نمایاں ہے، سب کچھ بہت درست انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور ملک اب ترقی کی بلند پرواز کی جانب بڑھ رہا ہے

قومی منظرنامے پر اعتماد کی جھلک

فیلڈ مارشل کے ان اعتماد بھرے بیانات کو ملکی سطح پر جاری بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دفاعی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے اس نوعیت کے اطمینان بخش اشارے عوام کیلئے حوصلہ افزا ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی استحکام، سلامتی اور علاقائی صورتِ حال جیسے کئی اہم چیلنجز درپیش ہیں۔

خارجہ ملاقات کے موقع پر اظہارِ خیال

یہ گفتگو ایک اہم سفارتی مصروفیت کے دوران سامنے آئی جہاں پاکستان اور کرغزستان کی قیادت کے درمیان روابط کو فروغ دینے پر بات چیت ہو رہی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل کی موجودگی اور ان کا یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ عسکری اور سفارتی قیادت دونوں پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لیے ہم آہنگ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

عوام کیلئے پیغام

ماہرین کے مطابق عاصم منیر کے الفاظ نہ صرف ادارہ جاتی اعتماد کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ عوام کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ قومی حالات سنبھل رہے ہیں اور مستقبل کے لیے مثبت امکانات موجود ہیں۔ ان بیانات کو ایک امید افزا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ دفاع، معیشت اور گورننس کے شعبوں میں بہتری کے ثمرات آہستہ آہستہ سامنے آسکتے ہیں۔

اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے مستقبل کے حوالے سے مثبت رویہ قومی اعتماد سازی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اصل آزمائش یہ ہے کہ کیا یہ اعتماد عوامی سطح پر عملی تبدیلیوں کی صورت میں بھی نظر آئے گا یا نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم
استحکام جیسے مسائل اب بھی عوام کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مثبت بیانات تب ہی مؤثر ثابت ہوں گے جب ان کے ساتھ زمینی سطح پر واضح اور دیرپا اصلاحات بھی نظر آئیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ: فوجی کیریئر کی مکمل داستان

(ایک نظر میں پاکستان کے طاقتور ترین فوجی سربراہ کی زندگی کے اہم ترین پڑاؤ)

ابتدائی زندگی اور تعلیم

  • پیدائش: 1968ء، راولپنڈی
  • والد: سید مختار حسین شاہ (پرنسپل اور مدرسہ کے استاد)، والدہ گھریلو خاتون
  • تعلیم: آرمی برن ہال اسکول مانگلا، ایف جی اسکول گوجرانوالہ، اسکور کالج گوجرانوالہ
  • 1986ء میں PMA کاکول کی 76ویں لانگ کورس میں بطور کیڈٹ داخلہ

کمیشن اور ابتدائی کیریئر

  • 1988ء: فرنٹیئر فورس رجمنٹ (FF) میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن
  • 1992ء: سوارڈ آف آنر (بہترین کیڈٹ)
  • 1993ء: کیپٹن، 19 FF میں کمپنی کمانڈر
  • 1996-1998ء: میجر، شمالی علاقہ جات (سیاچن) میں آپریشنل ڈیوٹی
  • 2000-2002ء: لیفٹیننٹ کرنل، 6 FF کی کمانڈ

اہم کمانڈز اور اسائنمنٹس

  • 2008-2010ء: بریگیڈیئر – 44 سپیشل سروس بریگیڈ (SSG) کی کمانڈ، واہ کینٹ
  • 2011-2013ء: میجر جنرل – فورس کمانڈ ناردرن ایریاز (FCNA) کی کمانڈ)، گلگت بلتستان
  • 2014-2016ء: میجر جنرل – ملٹری انٹیلی جنس (DG MI)
  • فبروری 2017 – جون 2018: میجر جنرل – انٹر سروسز انٹیلی جنس (DG ISI) (نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے دور میں تعینات، عمران خان نے 10 ماہ بعد ہی ہٹا دیا)
  • اکتوبر 2018 – جون 2019: لیفٹیننٹ جنرل – گوجرانوالہ کور (XXX کور) کی کمانڈ
  • جون 2019 – نومبر 2021: لیفٹیننٹ جنرل – کوارٹر ماسٹر جنرل (QMG) جی ایچ کیو)
  • نومبر 2021 – نومبر 2022: لیفٹیننٹ جنرل – چیف آف جنرل اسٹاف (CGS)
  • 29 نومبر 2022: جنرل – 11واں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر
  • 28 نومبر 2025: فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی (ایوب خان اور یحییٰ خان کے بعد تیسرے پاکستانی)
  • 04 دسمبر 2025: پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) مقرر

نمایاں اعزازات و ایوارڈز

  • نشانِ امتیاز (ملٹری)
  • ہلالِ امتیاز (ملٹری)
  • سوارڈ آف آنر
  • فیلڈ مارشل (پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی رینک)

اہم خصوصیات جو انہیں منفرد بناتی ہیں

  1. پہلے آرمی چیف جو پہلے DG ISI بھی رہ چکے ہوں
  2. پہلے آرمی چیف جنہیں حافظِ قرآن ہونے کا شرف حاصل ہے
  3. پہلے آرمی چیف جنہیں فعال سروس میں فیلڈ مارشل کا رینک ملا
  4. پہلے آرمی چیف جنہیں بیک وقت CDF کا اضافی عہدہ بھی ملا

دلچسپ حقائق

  • پی ایم اے  میں ان کے بیچ میٹس میں جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید بھی شامل تھے
  • سعودی عرب میں 2017ء سے 2018ء تک پاک فوج کے دستے کی کمانڈ بھی کی
  • 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد انہوں نے کھل کر فوج کے اندر "انضباطی انقلاب” کا آغاز کیا
  • ان کی اہلیہ سابق آرمی میڈیکل کالج کی پروفیسر ہیں

ایک لفظ میں کہیں تو عاصم منیر کا فوجی سفر "پُراسرار، تیز رفتار اور تاریخی” رہا ہے۔ ایک عام فرنٹیئر فورس کے نوجوان افسر سے لے کر ملک کے طاقتور ترین فوجی سربراہ تک کا سفر محض 37 سال میں طے ہوا، جو پاک فوج کی تاریخ میں بے مثال ہے۔
عوامی رائے

عام شہریوں کی بڑی تعداد اس بیان کو امید افزا سمجھ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ بہتری کے دعوے روزمرہ زندگی میں بھی محسوس کیے جا سکیں۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین کا کہنا ہے کہ ملک کو متحد قیادت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے تاکہ ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

آپ کی رائے؟
کیا آپ کے خیال میں پاکستان واقعی آئندہ دنوں میں ترقی کی نئی بلندیوں کی طرف بڑھے گا یا عوام کو حقیقی بہتری کیلئے ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں