ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں ایک انتہائی قدیم عبادت گاہ دریافت کی ہے، جہاں ہزاروں برس قبل سورج دیوتا کی پرستش کی جاتی تھی۔ یہ اہم دریافت مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے تقریباً 16 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع تاریخی مقام ابو غراب میں ہونے والی کھدائی کے دوران سامنے آئی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس عبادت گاہ کی عمر لگ بھگ 4500 سال ہے، اور یہاں قدیم مصری عقیدے کے مطابق سورج کے دیوتا ’را‘ کی عبادت کی جاتی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقام قدیم مصر میں مذہبی رسومات اور سورج پرستی کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عبادت گاہ کی نشاندہی سب سے پہلے سن 1901 میں کی گئی تھی، تاہم اس وقت زیرِ زمین پانی کی سطح غیر معمولی طور پر بلند ہونے کے باعث تفصیلی کھدائی ممکن نہ ہو سکی۔ حالیہ برسوں میں جدید تکنیک اور بہتر سہولیات کی مدد سے اس مقام کی دوبارہ کھدائی کی گئی، جس کے نتیجے میں اس تاریخی عبادت گاہ کے مزید آثار سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت قدیم مصری تہذیب کے مذہبی تصورات اور سورج پرستی کی روایات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور تاریخ کے ایک اہم دور پر نئی روشنی ڈالے گی۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ ابو غراب میں دریافت ہونے والی یہ عبادت گاہ قدیم مصر کے مذہبی نظام کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق سورج دیوتا ’’را‘‘ کی پرستش قدیم مصری عقائد میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی، اور اس نوعیت کی عبادت گاہیں شاہی اور مذہبی طاقت کے امتزاج کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق اس عبادت گاہ کی ساخت اور مقام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں مذہبی رسومات نہایت باقاعدگی اور مخصوص تقاریب کے تحت انجام دی جاتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سورج کی عبادت سے جڑے یہ مقامات اکثر کھلے صحن، بلند پلیٹ فارمز اور مخصوص سمتوں میں تعمیر کیے جاتے تھے تاکہ سورج کی روشنی براہِ راست عبادتی رسومات کا حصہ بن سکے۔
تحقیقی ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ اس عبادت گاہ کی دوبارہ کھدائی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہو سکی، جو زیرِ زمین پانی جیسے دیرینہ مسائل پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق اس دریافت سے قدیم مصر کی مذہبی تاریخ کے کئی نامعلوم پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔
مصر میں 4500 سال پرانی سورج پرستش کی عبادت گاہ کی دریافت اس حقیقت کو مزید تقویت دیتی ہے کہ قدیم مصری تہذیب نہ صرف تعمیراتی مہارت میں ممتاز تھی بلکہ اس کے مذہبی نظریات بھی نہایت منظم اور گہرے تھے۔ سورج دیوتا ’’را‘‘ کو زندگی، طاقت اور کائناتی نظم کی علامت سمجھا جاتا تھا، اور ایسی عبادت گاہیں اسی عقیدے کا عملی اظہار تھیں۔
ابو غراب کا مقام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہاں پہلے ہی متعدد تاریخی آثار موجود ہیں، اور نئی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم مصر میں مذہبی مراکز وقت کے ساتھ مزید وسعت اختیار کرتے رہے۔ یہ عبادت گاہ اس دور کی مذہبی سیاست، شاہی سرپرستی اور عوامی عقائد کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی دریافتیں نہ صرف ماضی کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سیاحت، تحقیق اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی نئی راہیں کھولتی ہیں۔ مصر کی یہ تازہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدیم تہذیبوں کے راز ابھی پوری طرح آشکار نہیں ہوئے، اور زمین کے نیچے تاریخ کے بے شمار باب آج بھی پوشیدہ ہیں۔
عوامی رائے
مصر میں ساڑھے چار ہزار سال قدیم عبادت گاہ کی دریافت پر دنیا بھر میں عوامی سطح پر دلچسپی اور تجسس دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور تاریخ سے شغف رکھنے والے افراد نے اس دریافت کو انسانی تہذیب کے ماضی کو سمجھنے کے لیے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔
کئی افراد کا کہنا ہے کہ ایسی دریافتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم تہذیبیں سائنسی سوچ، مذہبی نظم اور تعمیراتی مہارت میں آج کے دور سے کہیں آگے تھیں۔ ان کے مطابق سورج کی پرستش سے جڑی عبادت گاہ قدیم مصری معاشرے کے عقائد اور طرزِ زندگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔
عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس دریافت کو مصر کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ نئی آثارِ قدیمہ کی دریافتیں نہ صرف عالمی سیاحوں کو متوجہ کرتی ہیں بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔
کچھ صارفین نے یہ رائے بھی دی کہ قدیم مذاہب اور عبادات کا مطالعہ انسان کو اپنی تاریخ، عقائد اور ارتقا پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کی تہذیبوں کو سمجھنا موجودہ دور میں برداشت، علم اور شعور کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر عوامی ردعمل مثبت رہا، اور لوگوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسی مزید دریافتیں سامنے آئیں گی جو انسانی تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کو آشکار کریں گی۔
