Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

عورتوں کے معاملات میں مداخلت مردانگی نہیں، فضا علی کی یاسر نواز پر کھری تنقید

سوشل میڈیا صارفین کی رائے: تنازع کو یہیں ختم ہو جانا چاہیے
عورتوں کے معاملات میں مداخلت مردانگی نہیں، فضا علی کی یاسر نواز پر کھری تنقید

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں جاری ایک بحث اُس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گئی جب اداکار یاسر نواز نے اپنی اہلیہ اور معروف میزبان ندا یاسر کے حق میں بیان دیا، جس کے بعد معاملہ ذاتی نوعیت اختیار کرتا دکھائی دیا۔

ندا یاسر حالیہ دنوں فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز سے متعلق اپنے ایک تبصرے کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں آئیں۔ ان کے بیان کو سوشل میڈیا پر نامناسب اور غیر حساس قرار دیا گیا، جس کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ندا یاسر نے وضاحت کے ساتھ معذرت بھی کر لی تھی۔

تاہم اس معاملے پر اداکارہ فضا علی اُن نمایاں شخصیات میں شامل رہیں جنہوں نے ندا یاسر کے مؤقف سے کھل کر اختلاف کیا۔ فضا علی کا کہنا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز نہایت محنت کش افراد ہیں، اور اگر انہیں خوش دلی سے ٹِپ دی جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگوں پر پیسے ہڑپ کرنے جیسے الزامات لگانا ناانصافی کے مترادف ہے۔

فضا علی کی اس تنقید کے بعد یاسر نواز منظرِ عام پر آئے اور کہا کہ فضا علی بلاوجہ ان کی اہلیہ کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ یاسر نواز کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے فضا علی نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کیا۔

فضا علی کا کہنا تھا کہ ایک ’’حقیقی مرد‘‘ کبھی کسی عورت پر حملہ نہیں کرتا۔ ان کے مطابق یہ اختلاف دو خواتین کے درمیان تھا، اس لیے کسی مرد کا اس بحث میں کودنا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ عورتوں کی باتوں میں مداخلت کرنے والا شخص مرد کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ بے کار نہیں بیٹھی ہوتیں بلکہ اپنے پیشہ ورانہ کام اور حقیقی سماجی مسائل پر توجہ دیتی ہیں، اور یہی ان کی ترجیح ہے۔

اس تمام صورتحال کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ کچھ صارفین فضا علی کے مؤقف کو درست قرار دے رہے ہیں اور ان کے واضح اور بے باک انداز کو سراہ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کئی افراد یاسر نواز کو اپنی اہلیہ کا ساتھ دینے پر ایک ذمہ دار شوہر قرار دے رہے ہیں۔

تاہم سوشل میڈیا پر ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے اب اسے ختم ہو جانا چاہیے، کیونکہ یہ بحث غیر ضروری طور پر شدت اختیار کر چکی ہے۔

ضرور، ذیل میں اسی معاملے کے تناظر میں ماہرین کی رائے اور پھر جامع تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ انداز غیر جانبدار، متوازن اور مکمل طور پر پروفیشنل صحافتی معیار کے مطابق رکھا گیا ہے:

شوبز شخصیات کی رائے

میڈیا اور سماجی رویّوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شوبز شخصیات کے بیانات چونکہ وسیع پیمانے پر سنے اور دیکھے جاتے ہیں، اس لیے ان کے الفاظ غیر ارادی طور پر بھی معاشرتی بحث کو ہوا دے سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز سے متعلق ندا یاسر کے بیان نے ایک حساس سماجی موضوع کو چھیڑا، جس پر ردعمل فطری تھا۔

سوشل میڈیا اینالسٹس کے مطابق فضا علی کی تنقید ایک سماجی نقطۂ نظر سے سامنے آئی، جس میں محنت کش طبقے کے احترام پر زور دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے موضوعات پر اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کی علامت ہوتا ہے، تاہم جب گفتگو ذاتی حملوں کی شکل اختیار کر لے تو اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

کمیونیکیشن ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ یاسر نواز کا اپنی اہلیہ کا دفاع کرنا ذاتی طور پر قابلِ فہم ہے، مگر عوامی سطح پر ہونے والی بحث میں داخل ہونے سے تنازع مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق شوبز شخصیات کو چاہیے کہ وہ حساس معاملات پر گفتگو کرتے وقت تحمل اور زبان کے انتخاب میں خاص احتیاط برتیں۔

فضا علی اور یاسر نواز کے درمیان ہونے والا یہ لفظی تبادلہ دراصل ایک بڑے سماجی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اختلافِ رائے اور ذاتی حدود کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ ابتدا میں معاملہ محنت کش طبقے کے احترام سے جڑا ہوا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ بحث ذاتی بیانات اور ردعمل کی نذر ہو گئی۔

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں عوامی شخصیات کے الفاظ چند لمحوں میں وسیع ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک بیان، ایک وضاحت یا ایک جوابی ردعمل پوری بحث کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف کو سنبھالنے کا انداز اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا کہ خود مؤقف۔

دوسری جانب یہ معاملہ معاشرتی رویّوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے، خاص طور پر اس پہلو پر کہ آیا کسی خاتون کے مؤقف پر تنقید کے جواب میں کسی مرد کا میدان میں آنا بحث کو مضبوط کرتا ہے یا مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس اختلاف نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمارے معاشرے میں اب ذاتی آزادی، اظہارِ رائے اور سماجی اقدار کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تنازع ایک مثال ہے کہ کس طرح اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور توجہ افراد پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں بہتر یہی ہے کہ بات کو دلیل اور احترام کے دائرے میں رکھا جائے تاکہ گفتگو مثبت سمت میں آگے بڑھ سکے۔

عوامی رائے

فضا علی اور یاسر نواز کے درمیان جاری لفظی کشیدگی پر سوشل میڈیا صارفین کی آراء واضح طور پر منقسم دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طبقہ فضا علی کے مؤقف کی حمایت کرتا نظر آ رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے محنت کش طبقے کے حق میں آواز بلند کی، جو ایک مثبت اور ضروری قدم تھا۔ ان صارفین کے مطابق خواتین کے درمیان ہونے والی بحث میں کسی مرد کا مداخلت کرنا غیر ضروری تھا اور اس سے معاملہ مزید بگڑ گیا۔

دوسری جانب بڑی تعداد میں صارفین یاسر نواز کے حق میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شوہر کا اپنی اہلیہ کا دفاع کرنا فطری بات ہے اور اسے منفی انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان صارفین کے مطابق یاسر نواز نے محض اپنی اہلیہ کے کردار اور نیت کا دفاع کیا، جسے ذاتی حملہ تصور کرنا درست نہیں۔

کچھ صارفین نے دونوں فریقین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس بحث نے غیر ضروری طوالت اختیار کر لی ہے اور اصل مسئلہ، یعنی محنت کش طبقے کے احترام کا معاملہ، پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ان کے مطابق شوبز شخصیات کو چاہیے کہ وہ اختلافِ رائے کو ذاتی تنازع بنانے کے بجائے سماجی شعور کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔

ایک بڑی تعداد نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ یہ معاملہ اب یہیں ختم ہونا چاہیے، کیونکہ اس طرح کے تنازعات نہ صرف منفی ماحول پیدا کرتے ہیں بلکہ شوبز انڈسٹری کی مجموعی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر عوامی رائے یہی ظاہر کرتی ہے کہ اختلافِ رائے کا حق سب کو حاصل ہے، مگر اس کا اظہار تحمل، احترام اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں