Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سونا مزید مہنگا ہو گیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں کی نئی بلندیاں

عالمی بلین مارکیٹ میں تیزی کے بعد پاکستان کی صرافہ منڈی بھی گرم، چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ
سونا مزید مہنگا ہو گیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں کی نئی بلندیاں

کراچی : عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کے اثرات ایک بار پھر پاکستانی صرافہ مارکیٹ تک پہنچ گئے ہیں جہاں پیر کے روز سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 27 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد سونا بڑھ کر 4 ہزار 245 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔ عالمی قیمتوں میں اس تیزی کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں بھی نرخ اوپر چلے گئے اور سونے کے خریداروں کو نئی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

آل پاکستان صرافہ اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی سطح پر 24 قیراط خالص سونا فی تولہ 2 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 46 ہزار 862 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 315 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 82 ہزار 112 روپے مقرر کی گئی۔

چاندی بھی پیچھے نہ رہی

سونے کی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 54 روپے بڑھ کر 5 ہزار 963 روپے جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 46 روپے اضافے کے بعد 5 ہزار 112 روپے کی سطح پر آ گئی۔ اس طرح قیمتی دھاتوں کی پوری مارکیٹ ہی تیزی کے رجحان میں نظر آئی جس سے زیورات کے خریداروں اور تاجروں دونوں کی دلچسپی متاثر ہوئی۔

عالمی منڈی میں تیزی کی وجوہات

بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی مالی بے یقینی، جغرافیائی کشیدگیاں اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Investment) کی طرف بڑھتا ہوا رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اور کئی ممالک میں شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کر دیا ہے جس کے باعث قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ یا کرنسی مارکیٹس میں خطرہ محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنا سرمایہ سونے جیسے محفوظ اثاثے میں منتقل کر دیتے ہیں، جس سے طلب بڑھ جاتی ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ اسی رجحان نے حالیہ دنوں عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کو نئی اونچائی تک پہنچایا ہے۔

مقامی مارکیٹ پر اثرات

پاکستان میں چونکہ سونے کی قیمتوں کا تعین بڑی حد تک عالمی منڈی اور ڈالر کے نرخ سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے جیسے ہی عالمی سطح پر قیمت بڑھی، مقامی نرخ بھی فوری طور پر بڑھ گئے۔ ڈالر کی قیمت میں استحکام نہ ہونا اور روپے کی قدر میں کمی بھی سونے کی مقامی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں کی جیولری مارکیٹوں میں سونے کے نرخ بڑھنے کے بعد خرید و فروخت میں سست روی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام خریدار زیورات کی خریداری مؤخر کر رہے ہیں جبکہ شادی بیاہ کے لیے خریداری کرنے والے افراد بھی کم وزن کے زیورات لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

زیورات کی صنعت دباؤ کا شکار

جیولرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ سونے کی بلند قیمت زیورات کی صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ خام مال مہنگا ہونے کے باعث نہ صرف پرانے آرڈرز کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ نئی سیل بھی کم ہو جاتی ہے۔ کئی چھوٹے جیولرز کی دکانوں پر کاروبار محدود ہو کر رہ گیا ہے اور صرف خاص مواقع پر ہی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

ایک جیولر نے بتایا“جب سونا اس حد تک مہنگا ہو جائے تو عام آدمی زیور خریدنے سے گھبرا جاتا ہے۔ گاہک تو آتا ہے مگر زیادہ تر نرخ سن کر واپس چلا جاتا ہے۔”

عوامی ردعمل

عوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ گھرانے جہاں شادی یا کسی خوشی کی تقریب قریب ہے، انہیں بجٹ میں بڑے ردوبدل کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے جو زیور ایک تولہ لیا جاتا تھا اب اس کی جگہ صرف چند گرام پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

کراچی کی رہائشی سمیرا خان کا کہنا تھا“ہم نے بیٹی کی شادی کیلئے زیور کا بجٹ پہلے ہی بنایا تھا مگر قیمتوں نے سب پلان برباد کر دیا۔ اب کم زیور پر گزارہ کرنا پڑے گا۔”

لاہور کے ایک شہری نے کہا“سونا اب امیروں کی چیز بنتا جا رہا ہے، عام آدمی کیلئے اسے خریدنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔”

معاشی تناظر اور ممکنہ اثرات

معاشی ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں میں تیز اضافے کا براہ راست اثر ملکی صارفین کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے رحجانات پر بھی پڑتا ہے۔ پاکستان میں سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اس لیے جب قیمت بڑھتی ہے تو کئی لوگ سونا بطور اثاثہ خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عام صارف کے لیے اسے خریدنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیزی برقرار رہی تو مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتیں مزید اوپر جانے کا امکان موجود ہے، خاص طور پر اگر روپے کی قدر میں استحکام نہ آیا اور ڈالر مضبوط رہا۔

مارکیٹ ایکسپرٹس کی رائے

جیولری مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت فی الحال ایک نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے، جس کے بعد خریدار مزید قیمت بڑھنے کے خدشے میں یا تو فوری خریداری کر لیتے ہیں یا مکمل طور پر رک جاتے ہیں۔ اسی دو طرفہ رحجان کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

ایک مارکیٹ اینالسٹ کا کہنا تھا“سونے کی قیمت اب صرف زیورات کے حوالے سے نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے حساب سے دیکھی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی مارکیٹس میں تیزی مقامی مارکیٹ کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔”

حالیہ اضافے نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی مالی حالات کا اثر براہ راست پاکستانی صارفین تک پہنچ رہا ہے۔ جب تک بین الاقوامی سطح پر اقتصادی بے یقینی برقرار رہے گی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم نہیں ہوگی، تب تک سونے کی قیمتوں میں کمی کی توقع کم دکھائی دیتی ہے۔ زیورات کی صنعت کو بچانے کیلئے مقامی سطح پر سازگار پالیسیوں اور کرنسی استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ قیمتوں کا دباؤ کسی حد تک کم ہو سکے۔

عوامی رائے

عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ سونا روز بروز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت کرنسی کو مستحکم بنانے کیلئے فوری اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کی اس لہر پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو سونا صرف طبقۂ امرا کی زینت بن کر رہ جائے گا۔

آپ کی رائے؟

کیا سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ وقتی ہے یا مستقبل میں بھی سونا مزید مہنگا ہو جائے گا؟

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں