اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریاست کا بنیادی کردار عوام کو مستقلاً روزگار فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسی فضا تیار کرنا ہے جس میں نجی شعبہ خود نوکریوں کے مواقع پیدا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ حکومت براہ راست ہر فرد کیلئے ملازمت مہیا کرے گی۔ پاکستان میں ابھرتی ہوئی آئی ٹی معیشت، ڈیجیٹل شعبہ اور فری لانسنگ نوجوانوں کیلئے باعزت روزگار کے نئے راستے کھول رہی ہے جو مستقبل میں معیشت کا اہم سہارا بن سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو روایتی سرکاری ملازمتوں کے انتظار کے بجائے جدید مہارتوں سے خود کو لیس کرنا ہوگا تاکہ وہ عالمی ڈیجیٹل منڈی کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ایسا کاروباری ماحول پیدا کرنا ہے جہاں سرمایہ کاری بڑھے اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر خودروزگار حاصل کر سکیں۔
ملکی معاشی صورتحال پر سخت تنقید
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک تیزی سے معاشی زوال کے راستے پر گامزن ہے اور تقریباً تمام بڑے اقتصادی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر زیدی کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں حکومتیں نجی شعبے کیلئے سازگار پالیسیاں بناتی ہیں تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں، لیکن پاکستان میں ایسا ماحول اس وقت دستیاب نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا عالمی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 168 واں نمبر ہونا ایک الارمنگ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈاکٹر زیدی کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں آئی ٹی انقلاب یا نئی معیشت کے خواب حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ بنیادی ڈھانچہ تاحال کمزور ہے۔ تعلیم، صحت اور ہنرمندی کے نظام کو مضبوط کئے بغیر ڈیجیٹل ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔
معیشت موجودہ آبادی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر
ڈاکٹر زیدی نے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بھی اعتراف کیا تھا کہ موجودہ معاشی ڈھانچہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کا بوجھ سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے کوآرڈینیٹر نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول نہایت خراب ہو چکا ہے، جس کے باعث مقامی سرمایہ کار بیرونِ ملک کاروبار منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
ان حالات کا براہ راست اثر ملازمتوں کی دستیابی پر پڑا ہے۔ پیداوار میں کمی، صنعتوں کا محدود پھیلاؤ اور سرمایہ کاری کی مسلسل کمی کے نتیجے میں روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔
بے روزگاری سنگین سطح پر
ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو 2004 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد وشمار میں بھی یہ شرح حقیقت سے کم دکھائی جاتی ہے جبکہ زمینی حقائق کہیں زیادہ تشویشناک ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہر سال تقریباً 35 لاکھ نوجوان ملازمت کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، مگر روزگار کے مواقع اتنی رفتار سے پیدا نہیں ہو پا رہے، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد یا تو بے روزگار رہ جاتے ہیں یا غیر رسمی شعبے میں کم آمدنی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سرکاری توجہ ہنرمندی پر
وزیر خزانہ نے بے روزگاری کی مجموعی صورتحال پر براہ راست گفتگو کرنے کے بجائے نوجوانوں کو مہارتیں سکھانے اور دوبارہ تربیت دینے کے پروگراموں کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں صرف ڈگری کافی نہیں، عملی مہارتیں سیکھے بغیر نوجوان عالمی مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت فری لانسنگ پلیٹ فارمز، آئی ٹی ٹریننگ پروگرامز اور اسکل ڈیولپمنٹ کورسز کو وسعت دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ نوجوان عالمی منڈی سے جڑ سکیں۔
عالمی تقابل اور تشویشناک حقائق
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زیدی نے کہا کہ پاکستان آج اس مقام پر کھڑا ہے جہاں جنوبی کوریا تقریباً 50 سال قبل تھا، مگر فرق یہ ہے کہ پاکستان نے وہ اصلاحاتی سفر ابھی شروع ہی نہیں کیا جس نے کوریا کو معاشی طاقت بنایا تھا۔
ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر بولورما امگابازار نے بتایا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن جب تک باقاعدہ روزگار کے مواقع اور فنی تربیت فراہم نہیں کی جاتی، یہ قوت معیشت کیلئے مثبت کردار ادا نہیں کر پاتی۔
بڑھتی آبادی بڑی معاشی رکاوٹ
معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر علی چیمہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبادی کے بے قابو اضافے پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو معیشت کی شرح نمو بلند کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ہر سال بڑھنے والی آبادی نئی تعلیمی، طبی اور روزگار کی ضروریات پیدا کر رہی ہے جنہیں موجودہ وسائل کے ذریعے پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔
اسی سیمینار میں ڈاکٹر حنید مختار نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی فی کس آمدن بھارت کے مقابلے میں 71 فیصد اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں 53 فیصد کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم سرمایہ کاری، صنعتی سست روی اور تیزی سے بڑھتی آبادی وہ بنیادی عوامل ہیں جو ملک کی آمدنی کو مسلسل نیچے دھکیل رہے ہیں۔
صورتحال کا مجموعی تجزیہ
اس سیمینار میں سامنے آنے والی رائے مجموعی طور پر ایک تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔ پاکستان نوجوان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں ترقی کی بڑی صلاحیت موجود ہے، مگر خراب حکومتی حکمت عملی، سرمایہ کاری کا بحران، کوالٹی تعلیم کی کمی اور ہنر کی عدم فراہمی اس صلاحیت کو بیکار بنا رہی ہے۔ روزگار کی فراہمی صرف سرکاری تقریروں یا ڈیجیٹل دعوؤں سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے صنعتی ترقی، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور حقیقی تربیتی نظام کی ضرورت ہے۔
عوامی ردعمل
عام شہریوں اور نوجوانوں میں اس بیان پر ملا جلا تاثر سامنے آیا ہے۔ کچھ نوجوان سمجھتے ہیں کہ فری لانسنگ اور آئی ٹی واقعی ایک نیا موقع فراہم کر رہی ہے، مگر اکثریت کا کہنا ہے کہ ہر نوجوان نہ تو آئی ٹی سے وابستہ ہے اور نہ ہی فوری طور پر عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی رکھتا ہے۔ نوجوان طبقہ یہ سوال بھی اٹھا رہا ہے کہ جب ملک میں صنعت ہی محدود ہو تو لاکھوں گریجویٹس کیلئے عملی نوکریاں کہاں سے آئیں گی؟
حقیقت یہ ہے کہ صرف سوچ بدل دینا کافی نہیں۔ ریاست کو نوجوانوں کیلئے نوکریاں فراہم کرنے کا براہِ راست کردار ادا کرنا ہی ہوگا ۔کم ازکم اس حد تک کہ نجی شعبہ کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں روزگار پیدا کر سکے۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ یقیناً اہم شعبے ہیں، لیکن یہ پورے مسئلے کا واحد حل نہیں۔ معیشت کو صنعتی بنیادوں پر استوار کئے بغیر بے روزگاری کے سیلاب کو روکنا ممکن نہیں۔
آپ کی رائے؟
کیا واقعی حکومت کو روزگار فراہم کرنے کی ذمہ داری سے الگ ہو جانا چاہیے یا ریاست پر نوکریاں پیدا کرنے کی ذمے داری بھی لازم ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
