Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر، عوام کا جینا محال

اشیائے خوردونوش، پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے نے ہر طبقے کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا
پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر، عوام کا جینا محال

پاکستان ایک بار پھر شدید مہنگائی کی لپیٹ میں آگیا ہے جہاں عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ پیٹرول کی قیمت اور بجلی کے نرخ بڑھنے سے روزمرہ اخراجات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں سے لے کر دیہات تک عوام ایک ہی سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس مہنگائی کا خاتمہ کب ہوگا؟

مہنگائی نے صرف غریب طبقہ ہی نہیں بلکہ متوسط طبقہ بھی شدید متاثر کر دیا ہے جس کی آمدنی محدود مگر اخراجات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ شہری ملازمین، دیہاڑی دار مزدور، ریٹائرڈ پنشنرز اور چھوٹے کاروباری سب ہی اس دباؤ کا شکار ہیں۔

پس منظر

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں سے معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتیں، درآمدی اشیاء پر بڑھتا ہوا بوجھ اور قرضوں پر انحصار نے ملکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت معاشی فیصلے، سبسڈی میں کمی اور ٹیکسوں میں اضافے سے بھی مہنگائی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کی شرح کچھ ماہ قبل 30 فیصد تک تجاوز کر چکی تھی جبکہ حالیہ مہینوں میں اس میں معمولی کمی کے باوجود عوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ ریلیف محسوس نہیں کیا جا رہا۔ خاص طور پر خوراک کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہیں، جن میں آٹا، دالیں، چینی، سبزیاں، دودھ اور تیل شامل ہیں۔

تفصیل

مارکیٹ سروے کے مطابق لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں سبزیوں کی قیمتوں میں 20 تا 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹماٹر، آلو، پیاز اور دیگر بنیادی سبزیوں کی نرخ عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ چاول اور دالوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جبکہ آٹے کے نرخ کئی علاقوں میں مستحکم ہونے کے باوجود عام صارفین کو مہنگے داموں دستیاب ہیں۔

پیٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے کے باعث ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں خودسرانہ اضافہ کر دیا جس کا اثر شہریوں کے روزانہ سفر اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل پر پڑا۔ دوسری جانب بجلی کے بلوں میں اضافی سرچارج اور ٹیکسز نے صارفین کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ کئی گھرانوں کو پہلے کے مقابلے میں دوگنے بل موصول ہو رہے ہیں۔

مہنگائی کے اصل اسباب صرف عالمی حالات ہی نہیں بلکہ کچھ داخلی پالیسی مسائل بھی ہیں۔ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل، گیس، دالیں اور صنعتی خام مال درآمد کرتا ہے۔ روپے کی قدر کم ہونے سے ان درآمدات پر لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر صارفین تک منتقل ہوتا ہے۔

دوسری طرف حکومتی اخراجات میں کمی نہ ہونا، اداروں میں بدانتظامی اور ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا بھی مہنگائی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ تر پہلے سے ٹیکس دینے والے افراد پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت بدستور وسیع ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری بھی مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سبزی منڈیوں اور تھوک بازاروں میں قیمتوں پر خاطر خواہ نگرانی نہ ہونے سے بیوپاری من چاہے نرخ مقرر کرتے ہیں۔

عوامی ردعمل

عوام مہنگائی کے بڑھتے بوجھ سے سخت پریشان ہیں۔ کراچی کے رہائشی محمد رضوان کا کہنا ہے:

“ایک معمولی تنخواہ میں اب گزارا ممکن نہیں رہا۔ فیس، کرایہ اور بجلی کے بل ہی پورے بجٹ کو کھا جاتے ہیں۔”

لاہور کی گھریلو خاتون سمیرا بی بی کہتی ہیں:

“پہلے ہفتے بھر کا راشن ایک بار میں آ جاتا تھا لیکن اب آدھا مہینہ بھی نہیں چلتا۔ ہر سبزی مہنگی ہے، بچوں کے دودھ تک میں کمی کرنی پڑ جاتی ہے۔”

سوشل میڈیا پر بھی شہری حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا اصل بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ پالیسی سازی میں انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

اقتصادی ماہر ڈاکٹر آصف محمود کے مطابق:

“مہنگائی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔ جب تک صنعت مضبوط نہیں ہوگی اور درآمدی انحصار ختم نہیں ہوگا، مہنگائی کا کامل سدباب ممکن نہیں۔”

سابق اسٹیٹ بینک مشیر ڈاکٹر نادیہ خان کہتی ہیں:

“مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی بحران بنتی جا رہی ہے۔ حکومت کو کم آمدنی والے طبقے کے لیے براہ راست ریلیف اسکیمیں بڑھانی ہوں گی، خاص طور پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں سبسڈی ناگزیر ہے۔”

پاکستان میں مہنگائی اب ایک وقتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے جس نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ جب تک پائیدار معاشی اصلاحات، شفاف نظام اور موثر نگرانی قائم نہیں کی جاتی، تب تک مہنگائی پر قابو پانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

عوام کی نظریں حکومت پر جمی ہیں کہ وہ صرف بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ عام شہری مالی سکون کا خواہاں ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات بغیر ذہنی دباؤ کے پوری کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں