Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

شادی خواہش نہیں، ذمہ داری ہے تیاری کے بغیر یہ زندگی بگاڑ دیتی ہے

یہ جسمانی تعلق کی بھوک تو جلد ختم ہو جائے گی، لیکن بعد کی ذمہ داریاں کیسے نبھائیں گے؟
شادی خواہش نہیں، ذمہ داری ہے تیاری کے بغیر یہ زندگی بگاڑ دیتی ہے۔

تحریر؛سحر ارشد

نوجوان نسل کو ایک سبق غلط پڑھایا گیا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ ادھورا پڑھایا گیا ہے۔ انہیں شادی کا مطلب صرف جنسی تعلقات قائم کرنے تک بتایا گیا ہے، لیکن باقی ذمہ داریاں کبھی بتائی اور پڑھائی ہی نہیں گئی ہیں۔
آج ایک بچے نے رابطہ کیا، اس کی عمر محض بیس سال تھی اور ابھی یونیورسٹی کے پہلے سمسٹر میں ہے۔ نہ ہی پڑھائی پوری ہے نہ کوئی نوکری، اور شادی صرف اس لیے کرنا چاہتا ہے کہ "گناہ سے بچ سکوں”۔ یہ چیز مجھے ورطہِ حیرت میں مبتلا کر گئی کہ ایسی بھی کیا جنسی خواہشات ہیں جن پر آپ قابو نہیں رکھ پا رہے؟ بس وہی ادھورا سبق پڑھایا گیا ہے کہ شادی کر لو تو کم از کم جنسی تعلقات حرام نہیں ہوں گے۔

کیا شادی صرف جسمانی تعلق کا نام ہے؟ نکاح کے اصل مفہوم سے لاعلم اور "قوام” کی ذمہ داری سے ناآشنا یہ نسل صرف جنسی بھوک مٹانے کے لیے اپنی اور ساتھ دوسری زندگی بھی برباد کرتی ہے۔ جب آپ مہر ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں، معاشی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے، نوکری نہیں ہے اور اپنا خرچہ والدین سے لیتے ہیں، تو شادی کے بعد بیوی کا خرچہ بھی کیا والدین سے ہی لیں گے؟ یہاں غیرت کہاں جاتی ہے؟ بیوی آپ کی ہو اور ذمہ داری آپ کے والدین پوری کریں، جس کے بدلے آپ کی بیوی دن رات اپنی عزتِ نفس کا سودا کرتی رہے۔ یہ جسمانی تعلق کی بھوک تو جلد ختم ہو جائے گی، لیکن بعد کی ذمہ داریاں کیسے نبھائیں گے؟

بچے ہوں گے تو ان کے ہزار اخراجات کے لیے بھی والدین کی طرف ہی جائیں گے؟ اب آپ کی اولاد بھی کسی اور کے ٹکڑوں پر پلے گی، ہر چیز کا حساب کتاب رکھا جائے گا اور اسی طرح شادی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ زیادہ تر جھگڑے معاشی تنگی سے شروع ہوتے ہیں۔ والدین خرچ کرنے کی وجہ سے بہو پر رعب رکھتے ہیں اور اسے طعنے دیتے ہیں جس سے عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ کم عمر لڑکے مسائل کو سنبھال نہیں پاتے اور فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ جب کمانے والے مرد اپنی بیویوں کے لیے محافظ اور "قوام” ثابت نہیں ہو پا رہے، وہ ذرا سی چپقلش پر بیوی پر ظلم کرتے ہیں یا ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں کیونکہ انہیں مسائل حل کرنے نہیں آتے، تو آپ ان بے روزگار کم عمر بچوں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں؟
شادی کوئی پریوں کے دیس کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایک کنبے کی بنیاد ہے اور ایک خاندان کو پروان چڑھانا ہے۔ اس کے لیے معاشی و ذہنی لحاظ سے مضبوط ہونا ضروری ہے۔ جو بچہ اپنی جنسی خواہشات پر قابو نہیں رکھ پا رہا، وہ زندگی کے بڑے مسائل کا سامنا کس طرح کرے گا؟

یہ ادھورے سبق مت پڑھیں۔ اپنی تعلیم مکمل کریں، اچھی نوکری یا کاروبار کریں اور اپنے اندر مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ "شادی کے بعد سب خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے”، ایسے لوگوں سے دوری اختیار کریں۔ مسائل کبھی خود بخود حل نہیں ہوتے، ان کے لیے ذہنی طور پر پختہ اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔شادیوں میں نا کامی اور تشدد کی بڑی وجہ اسی طرح کے ادھورے سبق ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں