امریکا کی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے ناک کے ذریعے خوراک لینے کی عادت اپنا کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ غیر معمولی انکشاف امریکی ٹی وی شو ’مائی اسٹرینج ایڈکشنز‘ کے ساتویں سیزن میں سامنے آیا، جہاں کیتھرین نامی خاتون نے اپنی عجیب و غریب زندگی کی تفصیلات بیان کیں۔
کیتھرین کے مطابق کمیونٹی کالج تک ان کا کھانے پینے کا معمول بالکل عام تھا اور وہ ہر شخص کی طرح منہ کے ذریعے خوراک استعمال کرتی تھیں۔ تاہم ان کی زندگی میں یہ انوکھی تبدیلی ایک معمولی چیلنج سے شروع ہوئی، جب انہوں نے محض تفریح کے طور پر فلیورڈ فروٹ ڈرنک کو اسٹرا کے ذریعے ناک سے پینے کی کوشش کی۔
وہ بتاتی ہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا کرنے پر انہیں چکر ضرور آئے، مگر ان کے بقول منہ سے پینے کے مقابلے میں یہ تجربہ زیادہ ذائقہ دار محسوس ہوا۔ یہی لمحہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ بن گیا، اور اس کے بعد انہوں نے رفتہ رفتہ اپنی تمام خوراک ناک کے ذریعے لینا شروع کر دی۔
کیتھرین گزشتہ تقریباً پانچ برس سے پالک اور مشروم کا آملیٹ، لیکوئڈ پالک، اسٹیک، کافی اور یہاں تک کہ تیکھا گواکامول بھی بلینڈر میں پیس کر ناک کے ذریعے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر چیز کو مکمل طور پر مائع شکل میں لا کر اسٹرا کی مدد سے ناک سے لیتی ہیں۔
خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس عادت سے انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا اور وہ خود کو صحت مند محسوس کرتی ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اس غیر معمولی طرزِ زندگی کے باعث وہ آہستہ آہستہ اپنے دوستوں اور خاندان سے دور ہوتی جا رہی ہیں، کیونکہ لوگ اس عادت کو قبول کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق ناک کے ذریعے خوراک لینا قدرتی عمل نہیں اور طویل مدت میں یہ عادت سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناک سانس لینے اور خوشبو محسوس کرنے کے لیے بنی ہے، نہ کہ خوراک کے لیے۔ اس طرح کھانا لینے سے ناک کی جھلی کو نقصان، انفیکشن، سانس کی نالی میں رکاوٹ اور پھیپھڑوں تک خوراک جانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کی عادات اکثر ذہنی دباؤ، توجہ حاصل کرنے کی خواہش یا رویّوں کی خرابی سے جڑی ہوتی ہیں، جنہیں بروقت مشاورت کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
کیتھرین کی کہانی سوشل میڈیا اور ٹی وی کے دور میں سامنے آنے والی ان عجیب عادات کی عکاس ہے جو محض ایک چیلنج یا تجربے سے شروع ہو کر مستقل طرزِ زندگی بن جاتی ہیں۔ اگرچہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا، لیکن طبی ماہرین اس خیال سے متفق نہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ غیر معمولی شہرت اور توجہ حاصل کرنے کی خواہش بعض اوقات انسان کو ایسے راستے پر ڈال دیتی ہے جو سماجی تنہائی اور صحت کے خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں نہ صرف طبی بلکہ نفسیاتی رہنمائی بھی انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
🗣️ اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
کیا ایسی غیر معمولی عادات کو ذاتی آزادی سمجھا جانا چاہیے یا یہ سنجیدہ طبی مسئلہ ہیں؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
