اسلام آباد:(غلام مرتضی )متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان کا دورہ کیا، جس دوران انہوں نے صدرِ مملکت، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ریاست اردوکے مطابق شیخ محمد بن زاید النہیان کا شاہی طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا، جہاں پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے فضاء میں سلامی پیش کی۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر دیا جبکہ 21 توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفاقی کابینہ کے ہمراہ یو اے ای کے صدر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال، عطا تارڑ سمیت دیگر وزرا بھی موجود تھے، جن کا وزیراعظم نے معزز مہمان سے تعارف کرایا۔ صدرِ یو اے ای کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان پہنچا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ہونے والی تفصیلی ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جاری تعاون کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور مستقبل میں روابط کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر غور کیا۔
ملاقات میں معاشی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر کی ترقی، آئی ٹی، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں فریقین نے دو طرفہ تجارت میں اضافے پر بھی اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
علاوہ ازیں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کی۔
شیخ محمد بن زاید النہیان کا یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دینے میں اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ دورہ مکمل ہونے کے بعد یو اے ای کے صدر وطن واپس روانہ ہو گئے۔ واضح رہے کہ بطور صدرِ متحدہ عرب امارات یہ ان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔
ماہرین کی رائے
سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد اور تسلسل کی علامت ہے۔ ان کے نزدیک اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یو اے ای پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انفراسٹرکچر پر ہونے والی بات چیت پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ یو اے ای پہلے ہی پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں اور ترسیلاتِ زر کے اہم ذرائع میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اگر ان شعبوں میں عملی معاہدات سامنے آتے ہیں تو یہ پاکستان کی معاشی بحالی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دفاعی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات اور پاک فضائیہ کی جانب سے جے ایف 17 طیاروں کی سلامی محض رسمی نہیں بلکہ دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک اعتماد کا اظہار ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
شیخ محمد بن زاید النہیان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو معاشی استحکام، بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد کی اشد ضرورت ہے۔ یو اے ای جیسے قریبی دوست ملک کی اعلیٰ قیادت کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان خطے میں اپنی سفارتی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ دورہ محض خیرسگالی تک محدود نہیں بلکہ عملی شراکت داری کی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔ توانائی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے پاکستان کی مستقبل کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اور یو اے ای ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کے لیے روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
دفاعی سطح پر ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ اسٹریٹجک سطح پر بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں یہ تعلقات پاکستان کے لیے سفارتی توازن قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یو اے ای کے صدر کا یہ دورہ پاکستان کے لیے سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک اعتبار سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں کتنے عملی معاہدات سامنے آتے ہیں اور انہیں کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے۔ اگر اعلانات عمل میں تبدیل ہو گئے تو یہ دورہ مستقبل میں پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے جا سکتا ہے۔
اپنی رائے
یو اے ای کے صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی میں تعاون نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں معاشی استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ کے خیال میں یہ دورہ پاکستان کے لیے کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوگا؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
