راولپنڈی(غلام مرتضی):چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران مملکت کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز عطا کر دیا گیا، جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورۂ سعودی عرب کے دوران سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی کی صورتحال، اسٹریٹجک شراکت داری اور بدلتے ہوئے جغرافیائی و سلامتی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی، مضبوط اور برادرانہ تعلقات کی ایک بار پھر توثیق کی گئی، جبکہ دفاعی اور عسکری تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
دورے کے دوران خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے خصوصی فرمان کے تحت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسی لینس سے نوازا گیا، جو مملکتِ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز ہے۔
یہ اعزاز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی نمایاں عسکری خدمات، غیر معمولی قیادت، اسٹریٹجک وژن اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کردار کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ سعودی قیادت نے انسدادِ دہشت گردی، دفاعی ہم آہنگی اور سلامتی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون میں ان کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔
سعودی حکام نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اُن کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس اعزاز پر خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اعزاز دراصل پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط، دیرپا اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات کی علامت ہے۔ انہوں نے مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے مکمل تعاون کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسی لینس کا عطا کیا جانا اس امر کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف دفاعی میدان میں قریبی شراکت دار ہیں بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے بھی مشترکہ طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز ملنا محض ایک شخصی اعزاز نہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے اعتراف کی علامت ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال غیر معمولی پیچیدگی کا شکار ہے۔ ان کے مطابق سعودی قیادت کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سراہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور مؤثر دفاعی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق انسدادِ دہشت گردی، عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار مرکزی رہا۔
کچھ ماہرین کے مطابق یہ اعزاز پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر بھی اہم پیغام رکھتا ہے، کیونکہ اس سے عالمی برادری میں پاکستان کی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسی لینس سے نوازا جانا پاکستان-سعودی تعلقات کے ایک نئے اور مضبوط مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اعزاز ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں، سلامتی کے خدشات اور عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کا یہ قدم واضح کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو نہ صرف ایک قریبی برادر ملک بلکہ ایک اسٹریٹجک دفاعی ستون کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے مستقل کردار نے اسے خلیجی خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بنا دیا ہے۔
یہ اعزاز پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کے لیے بھی ایک مضبوط تقویت ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مشترکہ دفاعی منصوبوں، عسکری تعاون اور سلامتی سے متعلق مشترکہ حکمتِ عملیوں کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید برآں، یہ پیش رفت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک مثبت تاثر بھی قائم کرتی ہے کہ ملک نہ صرف داخلی سلامتی کے حوالے سے مضبوط ہے بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اعزاز اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات رسمی سفارت کاری سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں اور اب ایک گہرے اسٹریٹجک اتحاد کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔
