لاہور:پنجاب کے وسیع علاقوں میں سردی، خشک موسم اور گہری دھند نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کردیا ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے جبکہ شہری بیماریوں میں اضافے کی شکایات بھی کرنے لگے ہیں۔
موٹرویز وقفے وقفے سے بند
لاہور اور گرد و نواح میں دھند کی شدت کے باعث موٹرویز کے مختلف حصوں کو ٹریفک کے لیے مختلف اوقات میں بند کیا جا رہا ہے۔
شدید دھند نہ صرف ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھا رہی ہے بلکہ صبح اور رات کے وقت سفر کرنے والے شہری گھنٹوں تک پھنسے رہتے ہیں۔
دھند کے باعث ٹرینوں اور دیگر ذرائع آمد و رفت کا شیڈول بھی متاثر ہے، جبکہ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کام اور تعلیم کے لیے سفر کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
لاہور سرد ترین دنوں میں داخل
محکمۂ موسمیات کے مطابق لاہور میں
-
آج رات سب سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ رہا
-
زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا رہا ہے
سردی اور خشک موسم کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے، جبکہ اسپتالوں میں سانس کے امراض کے مریض بھی زیادہ آنے لگے ہیں۔
بارش کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے واضح پیش گوئی کر دی
محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ 20 دسمبر تک لاہور میں بارش کا کوئی امکان نہیں۔
اگلے کئی روز تک موسم خشک رہے گا اور دھند کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے فضا میں آلودگی برقرار ہے، جس کا شہریوں کی صحت پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کی ہدایات
ماہرین نے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے شہریوں کو تنبیہ کی کہ
-
سردی اور آلودگی سے بچنے کے لیے ماسک کا استعمال لازمی کریں
-
قوتِ مدافعت بڑھانے والی غذائیں استعمال کریں
-
صبح کے وقت غیرضروری سفر سے گریز کریں
-
گرم مشروبات اور ویکسینیشن پر توجہ دیں
دھند کے باعث بچوں اور بڑوں میں موسمی بیماریوں کا پھیلاؤ تیز ہو گیا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر ضروری قرار دی جا رہی ہیں۔
لاہور اور پنجاب میں دھند کا یہ سلسلہ نہ صرف سردی کی شدت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
بارش کے امکانات نہ ہونے کے باعث آلودگی بڑھنے کا خدشہ ہے، جو شہر میں پہلے ہی خطرناک سطح پر موجود ہے۔
دھند اور اسموگ کے امتزاج نے شہریوں کے لیے سانس کی بیماریوں، آنکھوں میں جلن، کھانسی اور بخار کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو ٹریفک مینجمنٹ بہتر بنانے اور عوام میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ حادثات اور بیماریوں میں کمی لائی جا سکے۔
عوامی رائے
لاہوری شہری دھند اور آلودگی کے باعث شدید پریشان ہیں۔
کئی افراد کا کہنا ہے کہ صبح کام یا اسکول جانا تکلیف دہ ہو گیا ہے، جبکہ کچھ لوگ بارش نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اسموگ کے مسئلے پر طویل المدتی حکمت عملی اپنانا چاہیے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا دھند اور آلودگی کے بڑھتے مسئلے پر حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
